نئی دہلی اور واشنگٹن نے ایک بادشاہ کے ہاتھ میں جمہوریت کی تلوار پکڑا دی ہے!

آج میرے پاس اتنے سارے موضوع ہیںکہ لگتا ہے کہ میں کوئی ایک موضوع منتخب ہی نہ کر پاﺅں۔لکھنے کی عادت اب اتنی پرانی اورپختہ ہوچکی ہے کہ موضوع کا انتخاب میرے قلم کی نوک کیا کرتی ہے۔ مثلاً آج چیف جسٹس سپریم کورٹ جناب جسٹس انور ظہیر جمالی کے ریمارکس ایسے ہیںکہ ایک ایک لفظ پر کتاب لکھ سکتا ہوں۔ مثلا جمہوریت کے نام پر بادشاہت چل رہی ہے۔ جواب میں میاں صاحب فرمائیں گے” میں ایسا بادشاہ ہوں جو خود کو جمہور سے منتخب کراتا ہے۔“ مثلاًچیف جسٹس نے یہ بھی فرمایا ہے کہ گڈ گورننس نہیںبیڈ گورننس ہورہی ہے۔
جواب میں میاں برادران فرمائیںگے” ہمیں عوام نے اختیار دیا ہے کہ یہ فیصلہ ہم کریں کہ گڈ کیا ہے اور بیڈ کیا ہے۔“
مثلاً چیف جسٹس صاحب نے فرمایا ہے کہ ”عوام اپنی فلاح چاہتے ہیں تو اٹھ کھڑے ہوں“۔
جواب میں میاں برادران کہیں گے۔ ”ہم بھی ےہی چاہتے ہیں کہ عوام قطاروں میں کھڑے اپنی باری کا انتظار کریں۔“
دیکھنا اب یہ ہے کہ میاں صاحبان کے نقارچی چیف جسٹس صاحب کے بارے میں کےسی زبان استعمال کرتے ہیں۔
لیکن آج یہ میرا واحد موضوع نہیں۔
الطاف بھائی کو نہلا کر برطانیہ نے صاف ستھرے کپڑے پہنا دئےے ہیں اور کہا ہے ”شاباش۔ پھر شروع ہوجاﺅ۔ مگر پاکستان مردہ باد کا نعرہ لگانے کی ضرورت نہیں۔یہ کام نئی دہلی والے کر لیں گے ۔تم سفےد لٹھے اور بند بوریوں کا کھیل شروع کرو“۔
لیکن یہ موضوع بھی گھس پٹ چکا ہے ۔اس لئے سوچ رہا ہوں کہ سرل المائڈہ کی پیشہ ورانہ مہارت پر مبنی اس رپورٹ پر کچھ مزید لکھوں جس پر چوہدری نثار نے تحقیقاتی کمیٹی بٹھا دی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ قربانی کا بکرا کسے بنایا جاتا ہے۔ یا پھر یہ معاملہ بھی ایک اور پانامالیکس بن جائے گا۔
ویسے متذکرہ رپورٹ پڑھ کر مجھے ایسا لگاکہ دوچیزیں عالمی امن کے لئے خطرہ بنی ہوئی ہیں۔پاکستان کا ایٹمی اسلحہ اور حافظ سعید ۔
میاں نواز شریف چونکہ امن کا نوبل پرائز لینے کا خواب دیکھ رہے ہیں اس لئے وہ اس ضمن میں کچھ کار ہائے نمایاں انجام دینا چاہتے ہیں۔اگر وہ حافظ سعید وغےرہ کو کیفرکردار تک پہنچانے میںکامیاب ہوگئے تو اپنے سرپرستوں سے کہہ سکیں گے ”مجھ پر بھروسہ کریں آپ کے لئے جو دوسرے خطرات ہیںانہیںبھی دور کر دوں گا۔“
آپ ہی فیصلہ کریں کہ میں کس موضوع پر لکھوں۔

Scroll To Top