سقوط ِمشرقی پاکستان اور قبروں کا ٹرائل 12-01-2012

kal-ki-baatپہلے بات ڈاکٹر بابر اعوان کے حافظے کی کروں گا جس سے سقوطِ مشرقی پاکستان کا المیہ زائل نہیں ہو پایا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈاکٹر صاحب نہایت ”زرخیز “ذہن اور ” سر سبز “ حافظہ رکھتے ہیں۔
سقوط مشرقی پاکستان کے المیے کے حوالے سے میں انہیں قائد عوام جناب ذوالفقار علی بھٹو کا وہ تاریخی بیان یاددلانا چاہوں گا جو انہوں نے مارچ 1969ءکے ملٹری ایکشن کے بعد دیا تھا۔
” خدا کا شکر ہے کہ پاکستان کو بچا لیا گیا ہے ۔“
مجھے امید ہے کہ ڈاکٹر صاحب کے ” سرسبز“ حافظے میں یہ بیان زندہ ہوگا ۔ اگر نہیں تو وہ کسی بھی قومی لائبریری میں جاکر روزنامہ جنگ یا روزنامہ مشرق کی مارچ 1969ءکی فائلیں نکلوا کر دیکھ لیں۔
تاریخ کبھی اس حقیقت سے انکار نہیں کرے گی کہ سقوطِ مشرقی پاکستان کے المیے کی ذمہ داری یکساں طور پر اس کے تینوں مرکزی کرداروں پر عائد ہوتی ہے۔ یعنی زیڈ اے بھٹو ` جنرل یحییٰ خان اور شیخ مجیب الرحمان ۔ ان میں سے کسی ایک پر کُلی طور پر اس المیے کی ذمہ داری کا تعین کرنا تاریخی حقائق سے مجرمانہ چشم پوشی ہوگی۔
بات حافظے کی ہوئی ہے تو ڈاکٹر صاحب کو وہ دن بھی یادہوگا جب انہوں نے اپنے انجام تک پہنچے والے ” مردِ خرابی“ کی ” یاد“ میں مٹھائیاں تقسیم کی تھیں۔
دوسری بات مجھے قبروں کے ٹرائل کی بھی کرنی ہے۔ یہ معنی خیز جملہ بڑے بڑے لوگ کافی کثرت سے بول رہے ہیں۔
قبر ایک ایسی جگہ ہے جس میں شہید بھی دفن ہوتے ہیں اور مجرموں کو بھی پناہ ملتی ہے۔
اگر قبروں کا ٹرائل ممکن ہوتا تو میں سپریم کورٹ میںیہ درخواست ضرور دائر کرتا کہ ” اور کسی کی قبر کا ٹرائل ہو نہ ہو ` میر صادق کی قبر کا ٹرائل ضرور ہونا چاہئے۔ اس بدبخت کی حرص اور ہوس نے مسلمانانِ برصغیر کے مقدر میں غلامی اور ذلت کی ایک طویل رات لکھ دی۔۔۔“

Scroll To Top