آج کے پاکستان کو ایسی سیاسی جماعت کی ہی ضرورت ہے جو پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی نہ ہو (پانچ برس بعد بھی وہی حال ہے)

aaj-ki-bat-logojاگر پاکستان کی سیاسی پارٹیاں پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنیوں سے پبلک لمیٹڈ کمپنیوں کاہی رو پ دھار لیں تو شاید ملک کے سیاسی کلچر میں اور اس سیاسی کلچر کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کرنے والی جمہوری اقد ار میںکچھ تبدیلیاں لائی جاسکتی ہیں۔

جس ” جمہوریت “ کے قصیدے ہمارے پیشہ ور سیاست دان اور ہمارے ترقی پسند دانشور پڑھا کرتے ہیں وہ صرف ایسے ممالک میں حقیقی طور پر جڑیں پکڑ سکتی ہے اور اپنی برکات سے وہاں کے عوام اور معاشروں کو فیضیاب کرا سکتی ہے جہاں سیاسی جماعتوں کی حیثیت صنعتی اورکاروباری اداروں پر قابض سرمایہ دار اور جاگیردار خاندانوں کی ملکیت میں کام کرنے والی پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنیوں جیسی نہ ہو۔
ہمارے ملک کی تمام وہ جماعتیں جو اب تک ملک کے سیاسی نظام میں کلیدی کردار ادا کرتی رہی ہیں ¾ متذکرہ نوعیت کی پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنیوں سے مختلف حیثیت نہیں رکھتیں۔ ایک بڑی پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی شریف خاندان کی ملکیت بنی ہوئی ہے۔ دوسری بڑی پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی پر قبضہ بھٹو خاندان کے نام پر زرداری خاندان نے کرلیا ہے۔ تیسری بڑی پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی باچا خان خاندان کی ملکیت ہے۔ ایک سیاسی جماعت چوہدری خاندان کی ملکیت میں بھی ہے) مگر اب وہ دیوالیہ قرار پا چکی ہے(۔
الطاف حسین کی ایم کیو ایم کو میں اس صف میں اس لئے کھڑا نہیں کررہا کہ اپنے آمرانہ کلچر کے باوجود یہ جماعت خاندانی میراث نہیں۔
یہ موضوع میں نے آج میاں نوازشریف کے اس انٹرویو کو سننے کے بعد منتخب کیا ہے جس میں انہوں نے اپنے آپ کو جمہوریت کا بلا شرکت غیر نقیب اور علمبردار قرار دیا ہے اور بالواسطہ طور پر یہ فتویٰ صادر فرمایا ہے کہ عمران خان کی جماعت جتنی تیزی سے غیر معمولی مقبولیت پکڑ رہی ہے اس کے پیچھے فوج اور آئی ایس آئی کی نوازشات اور مہربانیاں ہیں۔ میاں نوازشریف کبھی یہ حقیقت فراموش نہیں کر پائیں گے کہ ان کی ملکیت میں پرائیویٹ لمیٹڈ کے انداز میں کام کرنے والی سیاسی جماعت کا وجود فوج اور آئی ایس آئی کی نوازشات اور مہربانیوں کے نتیجے کے طور پر عمل میں آیا تھا۔ ان کی سمجھ میں یہ بات کبھی نہیں آئے گی کہ ایک بڑی سیاسی جماعت متذکرہ طریقے سے ہٹ کر صرف عوامی حمایت کے زور پر بھی ظہور پذیر ہوسکتی ہے۔انہیں اگر بدلتے حالات میں سیاسی طور پر زندہ رہنا ہے تو بعض حقائق سے سمجھوتہ لازمی طور پر کرناہوگا۔
ایک تو یہ کہ تحریک انصاف کا وجود کسی جنرل کی نوازشات کے بغیر 1996ءمیں عمل میں آیا تھا۔ اور اس کے علاوہ یہ بھی کہ قائداعظم ؒ نے جس مسلم لیگ کی قیادت کی تھی اسے بھی کسی جنرل کی نوازشات سے فیضیاب ہونے کا ” افتخار “ حاصل نہیں تھا۔ تحریک انصاف کا نام مسلم لیگ نہیں لیکن اس نے جنم اسی سوچ کی کوکھ سے لیاہے جس کا پرچم علامہ اقبال ؒ اور قائداعظمؒ نے گزشتہ صدی کے اوائل میں بلند کیا تھا۔
(یہ کالم 08جنوری 2012ءکو بھی شائع ہوا تھا)

Scroll To Top