ان بدروحوں کو وطن عزیز میں دو گز زمین بھی نہیں ملے گی! 11-1-2012

kal-ki-baatاگر آپ نے مشہور یونانی شاعر اور داستان گو کی تصانیف )Iliudاِلیڈ(اور (Oddysseyاوڈیسی )پڑھی ہیں تو چند کرداروں کے نام تو آپ کو یقینی طور پر یاد ہوں گے مثلاً ہیلن `پیرس ` ایکلیز ` ہیکٹر اور یولیسیسں ۔ مگر ایک کردار ایسا بھی ہے جو بہت زیادہ معروف نہ ہونے کے باوجود میری رائے میں بڑی کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ وہ کردار کیسانڈرا (Cassandra) کا ہے جو ٹرائے کے شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والی ایک راہبہ تھی جسے دیوتاﺅں نے مستقبل میں جھانکنے کا علم عطا کررکھا تھا۔ کیسانڈرانے ہی پیشگوئی کی تھی ٹرائے کا سورما ہیکٹر یونان کے مرِد آہن ایکلیز کے ہاتھوں مارا جائے گا اور خود ایکلیز کی موت ایک ایسے تیر کے وجہ سے ہوگی جو اس کی ایڑھی میں لگے گا۔ سب سے اہم پیشگوئی جو کیسانڈرانے کی تھی وہ یہ تھی کہ ٹرائے والے جنگ جیت کر بھی ہارجائیں گے اور انہیں ایسی تباہی کا سامناکرنا پڑے گا جس کی مثال تلاش کرنا مشکل ہوگا۔
کیسا نڈرا کی ہر پیشگوئی درست ثابت ہوئی۔ٹرائے والوں نے اسے ایک ” بدروح “ قرار دیا۔ ویسی ہی بدروح شاید مملکت ِ خداداد پاکستان کے آسمانوں میں منڈ لا رہی ہے۔شاید اسی بدروح کی کوئی بات سن کر ہمارے وزیراعظم پر اچانک سرائیکی صوبہ بنانے کا بخار چڑھ گیا ہے۔ یہ بخار انہیں اپنے اقتدار کے آخری سال میں کیوں چڑھا ہے اس کی قابلِ فہم و ضاحت صرف ایک ہی ہوسکتی ہے اور وہ یہ کہ جو ” کارہائے نمایاں“ انہوں نے اپنے دورِ حکومت میں انجام دیئے ہیں ان پر نظر ڈالنے کے بعد انہیں اس بات کی امید اپنے حسین ترین خوابوں میں بھی دکھائی نہیں دیتی ہوگی کہ انہیں آنے والے وقتوں میں کبھی بھی درجنوں گاڑیوں کے جلو میں سفر کرنے کا موقع مل پائے گا۔ اس صورت میں اگر وہ اپنی جنم بھومی کو اپنی اگلی راجدہانی بنانے کا سپنا دیکھ رہے ہیں تو کسی کو اچنبھا نہیں ہونا چاہئے۔ اچنبھا کسی کو اُن ولولہ انگیز جذبوں پر بھی نہیں ہونا چاہئے جو ایم کیو ایم کی قیادت کے سینوں میں سرائیکی اور ہزارہ صوبوں کو معرض وجود میں لانے کے عزمِ راسخ کے حوالے سے اتر گئے ہیں۔ پہاڑ کی بلند ترین چوٹی سرکرنی ہوتو پہلے چھوٹی چوٹیاں سرکی جاتی ہیں۔ فی الحال سندھ کی تقسیم کے حوالے سے جناب الطاف حسین کا عزمِ صمیم یہ ہے کہ ایسا سوچنا بھی سندھ کے تمام باسیوں کے لئے گناہ کبیریٰ ہے۔ ہاں اگر آنے والے وقتوں میں کسی ایک لسانی گروہ نے کسی دوسرے لسانی گروہ پر ظلم و بے انصافی کو روا رکھا تو حصولِ انصاف کے لئے مثالیں موجود ہوں گی۔
اوپر میں نے ذکر ٹرائے کی بدروح کیسانڈرا کا کیا ہے۔ ہمارے آسمانوں میں جو بدروحیں منڈ لا رہی ہیں ان سے میں ایک سوال کرنا چاہتا ہوں۔ ہمارے جو مہربان وطن عزیز کو لسانی اور نسلی بنیادوں پر تقسیم کرنا چاہتے ہیں وہ اپنی موت آپ مارے جائیں گے یا انہیں کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے کسی تیر انداز کو میدان میں اترناہوگا۔۔۔؟
بدروحیں کوئی بھی جواب دیں ` ان کا یہاں کوئی وجود ہو نہ ہو۔ ۔۔ایک بات میں پورے و ثوق سے کہہ سکتا ہوں ۔۔۔ جو لوگ مملکتِ خداداد پاکستان میں اپنی چھوٹی چھوٹی بادشاہتیں قائم کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں انہیں ارضِ پاک پر اگر دو گز زمین بھی مل گئی تو خوش نصیب ہوں گے۔

Scroll To Top