اگر ظلم کے ہاتھ میں تلوار ہو تو انصاف نہّتا رہ کر اس کا مقابلہ کیسے کرسکتاہے ؟

aaj-ki-bat-logoاگرچہ میرا یہ کالم 10جنوری2012ءکو شائع ہوا تھا مگر پاکستان آج جس دوراہے پر کھڑا ہے وہاں اِسی سوچ کی ضرورت ہے جو اس کالم میں قلمبند ہوئی تھی۔ اس کالم کو سمجھنے کے لئے پہلے ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں پر غور کرلیں۔۔۔۔۔۔
اگر پاکستان کے عوام کے سامنے سوال یہ رکھ دیاجائے کہ کیا وہ رسول اکرم کے بتائے ہوئے راستے اور بابائے قوم کی متعین کردہ راہ پر چلیں گے یا پھر حقیقت پسند اور لبر ل قرار پانے والے دانشوروں کے دلائل پر کان دھریں گے` تو مجھے یقین ہے کہ کوئی بدبخت ہی آنحضرت کی تعلیمات اور بابائے قوم کی نصیحتوں پر کان بند کرے گا۔
یہ سوال میرے آج کے کالم کا موضوع اس لئے بنا ہے کہ گزشتہ دنوں مجھے ایک ٹی وی پروگرام میں جناب نجم سیٹھی کی ایک گفتگو سننے کا اتفاق ہوا جس میں وہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کررہے تھے کہ پاکستان کے تمام ترالمیوں کے پیچھے اُسے ایک ” نیشنل سکیورٹی سٹیٹ “ بنائے رکھنے کی سوچ اور پالیسی ہے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ اگر ہمیں عوام کی فلاح اور خوشحالی مقصود ہے تو پاکستان کو ” نیشنل سکیورٹی سٹیٹ “ کی بجائے ” سوشل سکیورٹی سٹیٹ “ بنانا ہوگا۔ نیشنل سکیورٹی سٹیٹ کی تشریح انہوں نے یوں کی کہ جس ریاست کے عوام کو اِس عد م تحفظ کے احساس میں مبتلا رکھا جائے کہ اُس کی آزادی کو بیرونی خطرات کا سامنا ہے وہ ریاست عملی طور پر ہمیشہ اپنی فوج کے رحم و کرم پر رہے گی۔ پاکستان اس نوعیت کی ریاستوں میں سرفہرست ہے۔ دوسری قسم ایسی ریاستوں کی ہے جہاں کوئی بیرونی خطرہ نہ تو موجود ہوتا ہے اور نہ ہی پیدا کیا جاتا ہے اور جہاں کے شہریوں کو ریاستی وسائل سے معاشی اور معاشرتی تحفظ کی ضمانت مہیا کی جاتی ہے۔
اگر دیکھا جائے تو اس نقطہ ءنظر میں بڑی کشش ہے۔ بادی النظر میں آدمی یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ بیرونی خطرات کے موہوم تصور کی بنیاد پر جو ریاستی وسائل دفاعی اور فوجی ضروریات پر خرچ کئے جاتے ہیں وہ اگر ریاست کے شہریوں کی فلاح کے لئے زندگی کی آسانیاں اور آسائشیں بہتر طور پر فراہم کرنے کے مقصد کی طرف موڑ دیئے جائیں تو ملک خوشیوں اور خوشحالی کا گہوارہ بن سکتا ہے۔
مگر زمینی حقائق اس نوعیت کے آئیڈ یلزم اور اس انداز کی ”خیال پرستی “ کی نفی کرتے ہیں۔
میں پورے دعوے کے ساتھ یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ بابائے قوم محمد علی جناح ؒ بصیرت اور ذہانت کے لحاظ سے ہمارے نام نہاد لبرل دانشوروں کی اجتماعی دانش پر بھی فضلیت رکھتے تھے۔ کوئی فاترالعقل شخص ہی محمد علی جناح ؒ کوشدت پسند اور جذباتیت پرست مذہبی جنونی قرار دے گا۔ پھربھی قیام پاکستان کے فوراً ہی بعد اپنی نوزائیدہ ریاست کی ” قابل رحم بے سروسامانی “ سے پوری آگہی رکھنے کے باوجود قائداعظم ؒ نے کیوں یہ اعلان کیاکہ ” کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے “ چنانچہ کشمیر پر فوج کشی کرکے ہم اپنی ” شہ رگ“ کا کنٹرول اپنے ہاتھوں میں لے لیں۔ ؟ اس حقیقت سے نظریں نہیں چرائی جاسکتیں کہ کشمیر کے لئے بابائے قوم نے ” امن پسندی “ کے تمام تر تقاضے بالائے طاق رکھ دیئے تھے۔ انہوں نے قوم پر اور آنے والی نسلوں پر واضح کردیا تھاکہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور اپنی شہ رگ پر خود اپنا کنٹرول قائم کئے بغیر ہم کبھی حقیقی معنوں میں ایک محفوظ اور باعزت زندگی بسر نہیں کرسکیں گے۔ دوسرے الفاظ میں پاکستان کے مقدر میں ایک ” نیشنل سکیورٹی سٹیٹ “ بنارہنا روز اول سے ہی قرار پا گیا تھا۔ زمینی حقائق نے یہ اختیار ہمارے ہاتھوں میں دیا ہی نہیں تھا کہ ہم وطن ِعزیز کو نیشنل سکیورٹی سٹیٹ کی بجائے سوشل سکیورٹی سٹیٹ بنائیں اور اس کے تمام ترو سائل ایک فلاحی مملکت کے تصور کو عملی جامہ پہنانے کے مقصد پر صرف کریں۔
روز اول سے ہی ہم پر تاریخ نے یہ ” دوہری ذمہ داری “ عائد کردی تھی کہ ایک طرف تو ہمیں پاکستان کوایک ایسی فلاحی مملکت بنانا ہے جہاں عوام کو ہر قسم کا معاشی او ر معاشرتی تحفظ حاصل ہو ` اور دوسری طرف اس کی ” بقاء“ کو درپیش ” پیدائشی خطرات “ کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمہ وقت مستعد اور تیار بھی رہنا ہے ۔ یہاں میں قائداعظم ؒ کے اس ارشاد کی وضاحت بھی کروں گا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ اس لئے ہے کہ پانی زندگی ہے اور پاکستان پانی کی ایک ایک بوند کے لئے کشمیر کا محتاج ہے۔
اگر پاکستان کو ایک نیشنل سکیورٹی سٹیٹ بنائے رکھنے کی ذمہ داری کا تعین لازمی ہے تو میں یہ کہوں گاکہ فوج کی حیثیت اس میں بالکل ثانوی ہے۔ یہ فیصلہ قدرت اور تاریخ کا تھا کہ پاکستان اپنی بقاءکو یقینی بنانے کے لئے ہمیشہ اپنی قومی سلامتی کی ضرورت (اور تقاضوں )کو اولیت دے۔اور اس فیصلے کو لبیک کہنے والے بطلِ جلیل کو ہم اپنا قائداعظم ؒ سمجھتے ہیں۔
اپنے اس نقطہءنظر کی وضاحت کے لئے میں یہاں اس مبینہ ” غداری “ کا ذکر کروں گا جو پانی کی تقسیم کے معاملات میں بھارت کے ساتھ مذاکرات کی ذمہ داری نبھانے والے جماعت علی شاہ نے اپنے قومی مفادات سے کی ہے۔ ذکر میں یہاں واپڈا کے سابق چیئرمین اور پانی کے امور پر مہارت رکھنے والے انجینئر جناب شمس الملک کے اس نقطہءنظر کی بھی کروں گا کہ ہمارے دشمنوں کا بنیادی ہدف ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ پاکستان میں ڈیم بننے نہ دیئے جائیں اور یہاں کے عوام کو پانی کی ایک ایک بوند کے لئے ترسا دیاجائے۔
مجھے یاد ہے کہ جناب شمس الملک نے ایک ملاقات میں مجھ سے کہا تھا۔” میں اُس وقت سے ڈر تا ہوں جب ہمیں پانی کے لئے اور اپنی بقاءکے لئے اپنے تمام تر وسائل بھارت کے ساتھ جنگ میں جھونکنے پڑیں گے۔“
میں نے کالم کے آغاز میں آنحضرت کی تعلیمات کا ذکر کیا ہے۔ ہمیں کبھی نہیں بھولنا چاہئے کہ آپ کی زندگی کے آخری دس برس ایک سالار اور ایک سٹیٹسمین کی حیثیت سے ایک ریاست کے قیام اور اس کے دفاع کے لئے جدوجہد کرتے اور جنگیں لڑتے گزرے۔ میں یہاں اس ضمن میں زیادہ تفصیلات بیان نہیں کروں گا۔ صرف اس فیصلے کا ذکر کرنا کافی ہے جو آپ نے اپنے دنیوی قیام کے آخری دنوں میں کیا۔ ایک لحاظ سے وہ روئے زمین پر رحمت الالعالمین کاآخری فیصلہ تھا۔
آپ نے ایک لشکر ترتیب دیا جس کی کی سربراہی مدینہ کے سب سے کم عمر سالار کے سپرد کردی۔ یہ سالار حضرت اسامہ بن زید بن حارث ؓ تھے۔
اگر دیکھا جائے تو یہ آپ کا ایک علامتی فیصلہ تھا۔ آپ نہیں چاہتے تھے کہ آپ کی اُمت حجاز پر اپنی حکومت قائم کرکے سکون کے ساتھ بیٹھ جائے۔ آپ کی بشارت تھی کہ حجاز سے باہر کی دنیا بھی اسلامی فلاحی ریاست کے پرچم برداروں کے گھوڑوں کی ٹاپوں کا انتظار کررہی ہے۔ آپ کا حکم تھا کہ ”خدائے واحد اور بزرگ و برتر کے نام لیواﺅ ۔ اپنے گھوڑے تیار رکھو۔ اور اُن کارُخ زمین کی ان وسعتوں کی طرف موڑ دو جو اللہ اکبر کی صداﺅں کے انتظار میں ہیں۔“
یہ ” نیشنل سکیورٹی “ کا معاملہ اتنا سادہ اور غیر اہم نہیں کہ جناب نجم سیٹھی جیسی سوچ رکھنے والے لوگ اسے اپنے دلائل کی بھول بھلیوں میں گم کردیں۔ اس معاملے کا تعلق ” قومِ ہاشمی “ کے خمیر سے ہے۔ ہم ایک ایسے بطل ِجلیل ` ایک ایسے رہبرِ کا مل ` ایک ایسے پیغمبر کے امتی اور پیروکار ہیں جن کی پوری زندگی ایک ایسے معاشرے کے قیام کے لئے گزری جس میں انصاف کا حصول صرف اور صرف سردار کا ہی مقدر نہیں ` غلام کا بھی حق تھا۔
اگر تلوار اٹھائے بغیر روئے زمین پر انصاف قائم کرنا ممکن ہوتا تو اللہ تعالیٰ آپ کو یہ سعادت ضرور بخشتا۔
مگر اللہ تعالیٰ نے یہ دنیا بنائی ہی اس انداز میں ہے کہ یہاں جنگل کا قانون چلتا ہے۔ فرق صرف یہ ڈالا جاسکتا ہے کہ اس قانون کی باگ ڈور انصاف کرنے والوں کے ہاتھو ں میں ہو ` یا ظلم کرنے والے ہاتھوں میں۔
اگر ظلم کے ہاتھ میں تلوار ہو تو انصاف نہّتا رہ کر اس کا مقابلہ کیسے کرسکتاہے ؟

Scroll To Top