سوشل میڈیا اور موبائل ایپس استعمال کرتے وقت محتاط رہیں

کراچی: اسمارٹ فون اور تھری جی/ فور جی کی بدولت سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر موجود دوسری ویب سائٹس تک رسائی اتنی آسان ہوگئی ہے کہ ہمارے روزمرہ معمولات کا حصہ بنتی جارہی ہے جب کہ آج انٹرنیٹ تک رسائی کے لیے کوئی خاص مہارت درکار نہیں اور صرف چند سال کا چھوٹا بچہ بھی بہ آسانی انٹرنیٹ استعمال کرلیتا ہے لیکن اگر لاپرواہی برتی جائے تو یہی سہولت اور آسانی بہت سی مشکلات کا پیش خیمہ بھی بن سکتی ہےالبتہ سوشل میڈیا اور موبائل ایپس کے بارے میں کچھ احتیاطی تدابیر پر عمل کرکے آپ خود کو ان مشکلوں سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

مضبوط پاس ورڈ: ای میل یا سوشل میڈیا اکاؤنٹ میں سائن ان ہونے کے لیے پاس ورڈ ایسا رکھیے جو نسبتاً طویل ہو اور جس میں حروف کے ساتھ ساتھ اعداد بھی استعمال کیے جائیں۔ اس طرح کے پاس ورڈز مضبوط خیال کیے جاتے ہیں کیونکہ ہیکرز انہیں آسانی سے توڑ نہیں سکتے۔ اس کے علاوہ کوشش کریں کہ سال میں کم از کم 2 مرتبہ اپنا پاس ورڈ تبدیل کریں ورنہ ہیکنگ کی صورت میں آپ کا پرانا پاس ورڈ لمبے عرصے تک خطرے کا باعث بنا رہے گا۔

شیئرنگ میں احتیاط: سوشل میڈیا پر اپنے بارے میں بہت ہی نجی قسم کی معلومات نہ دیں۔ اگر کچھ ایسی باتیں ہیں جن سے آپ صرف اپنے دوستوں ہی کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں تو فیس بُک اور انسٹاگرام، دونوں پر یہ آپشن موجود ہے اس کا استعمال کریں۔

محفوظ پروٹوکول کا استعمال: سوشل میڈیا، ای میل اور ایسی دوسری ویب سائٹس HTTPS (سیکیور ہائپر ٹیکسٹ ٹرانسفر پروٹوکول) کا استعمال کرتی ہیں۔ یہ پروٹوکول ان ویب سائٹس تک محفوظ رسائی کو یقینی بناتا ہے۔ اگر کسی عوامی جگہ پر دستیاب انٹرنیٹ کنکشن سے لاگ اِن کرنے کا ارادہ ہو تو پہلے دیکھ لیں کہ متعلقہ ویب سائٹ کے ایڈریس میں کہیں صرف HTTP تو نہیں لکھا ہوا کیونکہ اگر ایسا ہے تو سمجھ لیں کہ آپ غیرمحفوظ نیٹ ورک کے ذریعے اپنی مطلوبہ سروس سے لاگ اِن ہورہے ہیں اور کسی بھی ہیکر کا آسان ہدف ثابت ہوسکتے ہیں۔

Scroll To Top