انسانی تاریخ ایک فرد کی کہانی کے سوا کچھ بھی نہیں

aaj-ki-bat-logoبات ” ایک فرد “ کی ہے ` کسی جماعت یا کسی گروہ کی نہیں۔ دنیا کا کوئی بھی حقیقی انقلاب سامنے رکھیں۔ اس کے پیچھے متحرک قوت ” ایک فرد “ کی صورت میں ہی نظر آئے گی۔ اللہ تعالیٰ کی منشا یہی تھی کہ وہ اپنی مخلوق کی رہنمائی اور قیادت کے لئے الگ الگ وقتوں میں الگ الگ پیغمبر بھیجے۔ اللہ تعالیٰ نے پیغمبری کا کام جماعتوں یا گروہوں سے نہیں لیا ` افراد سے لیا۔ کبھی ایک فرد سے تو کبھی دوسرے فرد سے۔ پہلے آدم ہی پہلے پیغمبر تھے۔ انہوں نے یعنی آدم ؑ نے اپنی اولاد کی رہنمائی اور قیادت کی۔ پھر پیغمبری کا یہ سلسلہ چلتا رہا۔ حضرت ابراہیم ؑ تک پہنچا۔ پھر دینِ ابراہیم ؑدو شاخوں میں بٹ گیا۔ ایک کو قرآن نے بنی اسرائیل کا دین قرار دیا جس کے پہلے پیغمبر حضرت اسحاق ؑ اور دوسرے حضرت یعقوب ؑ تھے جو اسرائیل یعنی شیرکہلائے۔ بنی اسرائیل میں عظیم پیغمبر حضرت موسی ؑ ` حضرت داﺅد ؑ اور حضرت عیسیٰ ؑ تھے جن کے پیروکار یہودی یا عیسائی کہلاتے ہیں۔ دین ِ حضرت ابراہیم ؑ کی دوسری شاخ میں پہلے پیغمبراُن کے صاحبزادے حضرت اسماعیل ؑ تھے۔ اس کے بعد ہزاروں برس تک کوئی پیغمبر اس شاخ میں پیدا نہ ہوا۔ اور جب پیدا ہوا تو اس کے دین کو اللہ تعالیٰ نے روئے زمین پر اپنا آخری پیغام قرار دیا۔ ہم اسی رجل ِ عظیم اور اسی پیغمبر آخری الزمان کی امت ہیں۔ پہلے دنیائے حجاز نے آپ کی آواز کو لبیک کہا ` پھر لبیک کی یہ صدا پوری دنیا میں پھیل گئی۔ کہنا میں یہ چاہ رہا ہوں کہ بات ایک فرد کی ہی ہوتی ہے۔ اس فرد کا نام حضرت عمر فاروق ؓ بھی ہوسکتا ہے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز ؓ بھی ہوسکتاہے اور صلاح الدین ایوبی ؒ بھی ہوسکتا ہے۔ ہر تحریک اور ہر تبدیلی کا آغاز ” ایک فرد “ سے ہی ہوا کرتاہے۔ دنیا کی تاریخ ` ایسے افراد کے کارناموں کی دستاویز کے علاوہ اور کچھ نہیں جن کی انقلاب آفرینی نے معاشروں قوموں اور ملکوں کی تقدیر بدل ڈالی۔ صرف گزشتہ صدی کو ہی سامنے رکھیں تو چند تاریخ ساز نام آپ سے اپنی انقلاب آفریں قوت کا لوہا منوائے بغیر نہیں رہیں گے۔ صدی کا آغاز لینن کے انقلاب سے ہوا۔ پھر ہٹلر کا انقلاب آیا ۔ پھر ماﺅ کا انقلاب آیا۔ پھر جناح ؒ نے پاکستان قائم کرکے ایک نئی تاریخ رقم کی۔ پھر خمینی نے ایران کا نقشہ تبدیل کر ڈالا۔ یہ سب افراد تھے۔ پارٹیاں نہیں تھیں۔ پارٹیوں کا جنم تو ان کی جدوجہد اور ان کے وژن کی کوکھ سے ہوا۔

بھٹو بھی ایک فرد ہی تھا۔ اس کے بدترین مخالف بھی اس بات سے انکار نہیں کریں گے کہ قدرت نے اسے ” تاریخ سازی “ کی صلاحیت سے نوازا تھا۔
بات ایک فرد کی ہی ہے۔
بات عمران خان کی ہے۔
تحریک انصاف کی نہیں۔
موازنہ تحریک انصاف ` مسلم لیگ (ن)اور پاکستان پیپلزپارٹی کے درمیان نہیں ہوناچاہئے۔ عمران خان ` میاں نوازشریف اور آصف علی زرداری کے درمیان ہونا چاہئے۔ ان میں کون آپ کو لیاقت صداقت اور دیانت کا پیکر نظر آتا ہے ؟
(یہ کالم 03جنوری 2012کو بھی شائع ہوا تھا۔۔۔)

Scroll To Top