آخر عاصمہ جہانگیر کو کون سی پریشانی لاحق ہے ؟ 04-01-2012

kal-ki-baatعاصمہ جہانگیر ببانگ دہل پاکستان کی اعلیٰ ترین عدلیہ اور اس عدلیہ کے سربراہ پر یہ الزام لگا رہی ہیں کہ انہوں نے اپنے آپ کو فوجی قیادت کے مقاصد کی تکمیل کا وسیلہ بنا لیا ہے۔ یہ سنگین الزام وہ میمو گیٹ کے معاملے میں ہونے والی عدالتی کارروائی کی روشنی میں لگا رہی ہیں۔ اپنے اس الزام کے حق میں ان کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ نو ججوں پر مشتمل کسی ایک جج نے بھی اس فیصلے سے اختلاف ریکارڈ نہیں کرایا جو اُن کے بقول پہلے سے ہی ” طے “ پا چکا تھا۔
” یہ کیسے ممکن ہے کہ اگر کارروائی میرٹ پر ہوتی تو کوئی ایک جج بھی میرے پیش کردہ دلائل کو وزن نہ دیتا؟“ عاصمہ جہانگیر کہہ رہی ہیں۔
عاصمہ جہانگیر صاحبہ کا پورا کیس اس دلیل کے اردگرد گھومتا رہاہے کہ چونکہ میمو گیٹ کا معاملہ بنیادی حقوق کا معاملہ نہیں اس لئے اسے سپریم کورٹ میں سماعت کے قابل نہیں سمجھا جانا چاہئے جہاں تک ججوں کا معاملہ ہے تو وہ سب اس بات پر متفق پائے گئے کہ نیشنل سکیورٹی اور ملکی خود مختاری کے معاملات کو بنیادی حقوق سے الگ نہیں کیا جاسکتا ` اور چونکہ ” میمو“ کے وجود کو تسلیم کیا جاچکا ہے اور اس کے مندر جات پاکستان کی سلامتی اور خود مختاری کے تقاضوں سے متصادم تصور کئے جارہے ہیں ` اس لئے یہ معلوم کرنا بہترین قومی مفاد میں ہوگا کہ جھوٹ کون بول رہا ہے۔ حسین حقانی یا منصور اعجاز ۔۔۔
جہاں تک تمام ججوں کا ایک رائے پر متفق پائے جانے کا تعلق ہے تو عاصمہ جہانگیر اس بات سے انکار نہیں کرسکتیں کہ بعض معاملات میں اختلاف رائے کی کوئی گنجائش نہیں ہوا کرتی۔ مثلاً چوری ` ڈاکہ زنی ` قتل اور غداری وغیرہ ایسے معاملات ہیں جن میں سزا کے تعین پر تو اختلاف رائے ہوسکتا ہے ` اس بات پر نہیں ہوسکتا کہ یہ قابل تعزیر جرائم ہیں۔
ایک بات جو عاصمہ جہانگیر اپنی ” حُب حقانی “ میں نظر انداز کررہی ہیں وہ یہ ہے کہ اس کیس میں مدعا علیہ درحقیقت ” حکومت “ ہے کیوں کہ حسین حقانی امریکہ میں حکومت کے ہی اہلکار تھے اور حکومت سے ہی احکامات اور ہدایات لیتے تھے۔ اگر خدانخواستہ متنازعہ میمو سے حکومت کا واقعی کوئی تعلق ہے تو پھر حکومت خود اپنے خلاف تحقیقات کیسے کرائے گی ؟ دوسرے الفاظ میں ” سچ“ جاننے کا واحد قابل قبول پلیٹ فارم سپریم کورٹ آف پاکستان ہی رہ جاتا ہے۔
ہر سچاپاکستانی سچے دل سے اس بات کا خواہشمند ہے کہ تحقیقات کے نتیجے میں ہمارے ملک کے وقار پر کوئی داغ نہ لگے۔ خود حسین حقانی اور حکومت کے حق میںبھی بہتر یہی ہے کہ ان کی” معصومیت“ پوری طرح عوام کے سامنے عیاں ہوجائے۔
آخر عاصمہ جہانگیر صاحبہ کو کون سی پریشانی لاحق ہے؟

Scroll To Top