انسانوں کے ہونٹوں پر جب آگ کے شعلے ناچیں گے ! 01-01-2012

kal-ki-baatہفت روزہ ٹائم نے بجا طور پر احتجاج کی آواز بلند کرنے والے سپاہی کو ” پرسن آف دی ایئر“ یعنی 2011ءکا ہیرو قرار دیا ہے۔ ایک سپاہی وہ ہوتا ہے جو اپنے ملک کی سرحدوں کے دفاع کے لئے لڑتا ہے۔ ایک سپاہی وہ ہوتا ہے جو اپنی قومی شناخت کی تشکیل میں مرکزی کردار ادا کرنے والی سوچ کی حفاظت کے لئے لڑتا ہے۔ اور ایک سپاہی وہ بھی ہے جو غاصب قوتوں کے غلبے سے آزادی حاصل کرنے کی امنگ لے کر میدان میں اترتا ہے۔
ٹائم نے گزشتہ برس کے اوائل سے زور پکڑنے والی عرب تحریکوں کے پیچھے موجزن تڑپ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ اس تڑپ کے شعلے سمندر پار کرکے کرہ ءارض کے شمال میں بھی پہنچنے اور وہاں بھی سرمایہ دارانہ نظام کے جبر اور غلبے کی کوکھ سے جنم لینے والی محرومیاں احتجاج کی آواز بن کر” مثلِ آتش “ یورپ ’ امریکہ اور پھر روس تک پھیل گئیں۔
2011ءکا آخری سورج یہ پیغام چھوڑ گیا ہے کہ جلی ہوئی راکھ میں دبی چنگاریاں جب شعلہ بن کر بھڑکتی ہیں اور پھر الاﺅ بن کر پھیلتی ہیں تو ان پر قابو پانا اکثر بس سے باہر ہوجاتا ہے۔ زین العابدین بن علی ’ حسنی مبارک اور کرنل قذافی سب”دوامِ اقتدار “ کی علامتیں شمار کی جاتی تھیں۔ تبدیلی کی تڑپ نے انہیں اب ماضی کی داستانیں بنا ڈالا ہے۔
تبدیلی کی تڑپ پاکستان میں بھی ایک تحریک بن کر ابھر ی ہے۔ 2011ءکے آخری دس ہفتوں کے اندر یہ تحریک ایک طوفان کی صورت اختیار کر گئی۔ اگر میں یہ کہوں تو بے جا نہ ہوگا کہ عمران خان کسی فرد کا نام نہیں’ نہ ہی یہ کسی تحریک کا نام ہے۔ عمران خان ملت پاک کے اندر ابھرنے والی تبدیلی کی اس تڑپ کی چلتی پھرتی تجسیم ہے جو راکھ میں دبی ہوئی سلگتی چنگاری سے شعلے کا روپ دھارنے کے بعد اب الاﺅ کی صورت اختیار کرنے والی ہے۔
اس الاﺅ کی لپیٹ میں کون پہلے آتا ہے اور کون بعد میں آئے گا اس کا فیصلہ جلد ہوجائے گا۔
مشرق وسطیٰ کے بعد اب پاکستان میں بھی ” دوام ِ اقتدار “ کی علامتیں حرفِ غلط کی طرح مٹنے والی ہیں۔
یہ میری خواہش بھی ہے ’ پیشگوئی بھی ہے اور دعا بھی۔
میرا دل کہتا ہے کہ اس قوم کی بدنصیبیاں 2011ءکے ساتھ رخصت ہوچکیں۔
مجھے یاد ہے کہ 1959ءمیں ’ میں نے ایک نظم لکھنے کی کوشش کی تھی۔ اس کے چند مصرعے مجھے آج بھی یاد ہیں۔
” رونا دھونا چھوڑ دو یارو
وقت وہ آنے والا ہے
انسانوں کے ہونٹوں پر
جب آگ کے شعلے ناچیں گے “
خدا کرے کہ 2012ءاس خواہش اور اس دعا کی تکمیل کا سال بن جائے۔

Scroll To Top