پاکستانی مدر ٹریسا ڈاکٹر ر تھ فا ﺅ سرکاری اعزاز کے ساتھ سپردخاک

  •  آخری رسومات سینٹ پیٹرک چرچ میں ادا، ر تھ فاﺅ کاتابوت پاکستانی پرچم میں لپٹا ہوا تھا ، 19 توپوں کی سلامی
  •  صدر مملکت ،آرمی چیف ، ایئر چیف ،گورنر ، وزیراعلیٰ،چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ سمیت اعلیٰ شخصیات کی بھی شرکت

Pic19-020 KARACHI: Aug 19 – Chief of Army Staff (COAS) General Qamar Javed Bajwa, Chief of Air Staff Air Chief Marshal (ACM) Sohail Aman and Navy's Chief of Staff, Vice Admiral Zafar Mehmood attending the burial ceremony of Pakistan’s ‘Mother Teresa’ Dr Ruth Pfau at the city's Gora Qabristan, where she was laid to rest with full national honours. ONLINE PHOTO

کراچی(صباح نیوز)جذام کے مریضوں کا علاج کرنے والی ‘پاکستان کی مدر ٹریسا’ ڈاکٹر ر تھ فا ﺅ کو مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھگورا قبرستان میں سپردخاک کر دیا گیا، رتھ فاﺅ کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیاگیا ،ان کی آخری رسومات سینٹ پیٹرک چرچ میں ادا کی گئیں۔وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی ہدایت کے مطابق آنجہانی ڈاکٹر ر تھ فا ﺅکی آخری رسومات پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی گئیں،مسلح افواج کے اہلکار ڈاکٹر ر تھ کے جسدِ خاکی کو کراچی کے علاقے صدر میں واقع سینٹ پیٹرک چرچ میں لے کر داخل ہوئے جبکہ ان کا تابوت پاکستانی پرچم میں لپٹا ہوا تھا۔ڈاکٹر ر تھ فا ﺅکی تدفین دوپہر 2 بجے گورا قبرستان میں ہوئی ۔صدر مملکت ممنون حسین، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ،ایئر چیف سہیل امان، گورنر سندھ محمد زبیر، وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ،چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ احمد علی ایم شیخ سمیت کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل شاہد بیگ مرزا ، ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل محمد سعید،آئی جی پولیس سندھ اے ڈی خواجہ اور تینوں مسلح افواج کے نمائندوں کے علاوہ سمیت متعدد اہم سیاسی اور سماجی شخصیات نے بھی رتھ فاﺅ کی آخری رسومات میں شرکت کی۔اس موقع پر ڈاکٹر رتھ فا ﺅکو 19 توپوں کی سلامی دی جبکہ تینوں مسلح افواج کے دستوں نے ان کی قبر پر گارڈ آف آنر پیش کیا،صدر مملکت ، آرمی چیف ،ایئر چیف ، گورنر سندھ اوروزیراعلیٰ سندھ نے قبر پر پھول بھی چڑھا ئے۔واضح رہے کہ آخری رسومات کے دوران سیکیورٹی کی صورتحال یقینی بنانے کے لیے تینوں مسلح افواج کے اہلکاروں نے ذمہ داریاں سنبھال رکھی تھیں۔جذام/کوڑھ کے مریضوں کا علاج کرنے والی ‘پاکستان کی مدر ٹریسا’ ڈاکٹر ر تھ فاﺅ گذشتہ ہفتے (10اگست)کی رات کراچی میں انتقال کر گئی تھیں۔کراچی کے علاقے صدر میں جذام کے مریضوں کے علاج کے لیے قائم میری ایڈیلیڈ سینٹر کے سی ای او کے مطابق 88 سالہ ڈاکٹر ر تھ فاﺅ 2 ہفتے سے نجی ہسپتال میں زیر علاج تھیں۔ڈاکٹر ر تھ فاﺅ 1960 میں جرمنی سے پاکستان آئی تھیں، انہیں 1979 میں ہلال امتیاز اور 1989 میں ہلال پاکستان کے اعزازات سے نوازا گیا۔ڈاکٹر ر تھ فاﺅ کو 1988 میں پاکستانی شہریت دی گئی، ان کی کوششوں کی بدولت پاکستان کو 1996 میں جذام فری ملک قرار دیا گیا۔پاکستان میں ایک طویل عرصے سے کوڑھ کے مریضوں کا علاج کرنے والی ر تھ کیتھرینا مارتھا فاﺅ 9 ستمبر 1929کو جرمنی کے شہر لائپزگ میں پیدا ہوئیں۔ڈاکٹر ر تھ فا ﺅنے 1960 میں پاکستان آکر میکسیکو سے تعلق رکھنے والی سسٹر بیرنس کے ساتھ کوڑھ یعنی جذام کے مرض کے خاتمہ کے لیے کوششیں شروع کیں اور اپنی ساری زندگی پاکستان میں ہی گزار دی۔ہر صبح 81 سالہ ر تھ فاﺅ کراچی کے سینٹ پیٹرک کیتھیڈرل میں کھڑی بند آنکھوں اور جھکے سر کے ساتھ اپنا دایاں ہاتھ دل پہ رکھے دعا مانگ رہی ہوتی تھیں۔مادام ر تھ فاﺅ نے آبادی کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں میری ایڈیلیڈ لیپروسی سینٹر قائم کیا اور اپنی تمام تر محبت ان مریضوں کو دی جنہیں ان کے اپنے بھی چھوڑ دیتے ہیں۔جس زمانے میں پاکستان میں کوڑھ کے مریضوں کو شہر سے باہر منتقل کردیا جاتا تھا اور ان کے اپنے بھی ان کا ساتھ چھوڑ دیتے تھے ایسے میں ڈاکٹر ر تھ فاﺅ اپنے ہاتھوں سے ان کوڑھیوں کو دوا بھی کھلاتیں اور ان کی مرہم پٹی بھی کرتی تھیں۔ڈاکٹر فا ﺅکو ان کی گراں قدر خدمات پر پاکستانی حکومت کی جانب سے انہیں ہلال پاکستان، ستارہ قائداعظم، ہلال امتیاز، جناح ایوارڈ اور نشان قائداعظم سے بھی نوازا گیا جبکہ جرمن حکومت نے انہیں بیم بی ایوارڈ اور آغا خان یونیورسٹی نے ر تھ فا ﺅکو ڈاکٹر آف سائنس کا ایوارڈ بھی دیا۔

You might also like More from author