ملک اگر حادثہ ہوا تومکمل ذمہ دار مسلم لیگ نواز ہوگی، سراج الحق

آرٹیکل 62 اور 63 ایک آئینہ ہے ¾توڑنے کے بجائے خود کو ایماندار بناکر اپنے چہرے کو صاف کیا جائے ،امیر جماعت اسلامی

maxresdefault
کوئٹہ (ایجنسیاں) جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے پانامہ لیکس مقدمے کے فیصلے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے اقدامات کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ملک میں جو بھی حادثہ ہوا ذمہ دار مسلم لیگ نواز ہوگی۔ان خیالات کا اظہارذ انہوں نے کوئٹہ پریس کلب کے پروگرام حال احوال میں گفتگو کرتے ہوئے کیا، جماعت اسلامی کے امیرسینیٹرسراج الحق نے کہا کہ پانامہ لیکس معاملے پر مسلم لیگ نواز کے مینڈیٹ نہیں کرپشن کو چیلنج کیا تھا۔نواز شریف فیصلہ تسلیم کرنے کے بجائے جی ٹی روڈ سے گھر گئے عدالتوں کو دھمکیاں دی گئیں اور اب آئین کے آرٹیکل 62اور63کے خاتمے کی بات ہورہی ہے جو افسوسناک ہے۔امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ حکمرانوں نے ماضی سے سبق نہیں سیکھا، شریف خاندان کے نیب کے سامنے پیش نہ ہونا لاقانونیت تصور ہوگا۔سینیٹر سراج الحق کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف کے بعد پانامہ میں جتنے لوگوں کے نام آئے ان سب کے احتساب کیلئے وہ جلد سپریم کورٹ جائیں گے۔امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ وسائل کی کمی نہیں منصفانہ تقسیم کی ضرورت ہے، ملک میں سب سے زیادہ کرپشن بلوچستان میں ہے، گوادر میں پرائمری اسکول دس سال سے بغیر چھت کے ہیں، وہاں اتنے حکمران آئے لیکن عوام کی حالت تبدیل نہیں ہوئی۔ امیرجماعت اسلامی سراج الحق نے کہاہے کہ آرٹیکل 62 اور 63 ایک آئینہ ہے اسے توڑنے کے بجائے خود کو ایماندار بناکر اپنے چہرے کو صاف کیا جائے۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہاکہ جب سے نوازشریف کے خلاف فیصلہ آیا اس دن سے ملکی آئین سے آرٹیکل 62 اور 63 کو ختم کرنے کی مہم شروع ہوگئی ہے ¾(ن) لیگ نے جی ٹی روڈ کا راستہ اختیار کرلیا اور کہا جانے لگا کہ کوئی بھی شخص صادق اور امین نہیں اور کوئی وزیراعظم پاک صاف نہیں ہوسکتا ¾یہ اسلامی معاشرے میں شرم کی بات ہے کیونکہ اگر غیراسلامی ممالک کے آئین کو بھی دیکھا جائے تو وہاں بھی ملکی قیادت کا منصب سنبھالنے کےلئے دیانتدار ہونا لازم و ملزوم ہے۔سراج الحق نے کہاکہ آرٹیکل 62 اور 63 عام آدمی کےلئے نہیں بلکہ قوم کے منتخب نمائندوں کےلئے ہے اگر صادق و امین ہونا ضروری نہ ہو تو پھر جیلوں میں قید تمام ملزمان اور مجرمان کو رہا کردیا جائے۔ انہوںنے کہاکہ آرٹیکل 62 ¾ 63 ایک آئینہ ہے اسے توڑنے کے بجائے اپنے چہرے کو صاف کیا جائے اوراپنے ضمیر و کردار کو درست کیا جائے اور ملک کی تمام سیاسی جماعتیں اس شخص کو ٹکٹ نہ دیں جو آرٹیکل 62،63 پر پورا نہیں اترتا، یہ ملک مہذب قوم کا معاشرہ ہے جانوروں کا اصطبل نہیں کہ جو چاہے کرپشن کرے اور اپنی مرضی و منشا کے مطابق آئین میں ترمیم کرلے۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ کرپشن کا کینسر تمام اداروں میں موجود ہے اسی وجہ سے ہمارے ادارے ناکام ہوگئے ہیں، ریلوے، پی آئی اے، پی ٹی سی ایل اور اسٹیل ملز بھی کرپشن کی وجہ سے برباد ہوئی ¾ ہم اسی کرپشن کے خلاف میدان میں اترے ہیں ہمارا کیس ایک شخص سے اختلاف نہیں اور ناہی ہم نے حکمرانوں کے مینڈیٹ کو چیلنج کیا ہم تمام سیاسی لوگوں کا مکمل احتساب چاہتے ہیں اور پاناما کیس میں شامل 436 افراد سے بھی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں۔

You might also like More from author