امریکہ بھارتی مظالم کو جائز قرار دے رہا !

zaheer-babar-logoبظاہر امریکہ کا حزب الماجدہن کو دہشت گرد تنظیم قرار دینا حیران کن نہیں۔ حال ہی میں جب نریندر مودی امریکہ کے دورے پر گے تو صدر ٹرمپ نے ان کی امریکہ موجودگی کے دوران ہی حزب الماجدین کے سربراہ صلاح الدین کو دہشت گرد قرار دے ڈالا ۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ اس وقت مقبوضہ وادی میں بھارت کو درپیش مشکلات سے آگاہ حلقوں کے مطابق صلاح الدین کو امریکا کی جانب سے دہشت گرد قرار دیے جانے کو بھارت کی بڑی کامیابی قرار دیا گیا ۔ توقعات کے عین مطابق بھارت نے اس اعلان پر فوری طور پر خیر مقدم کرتے ہوئے اسے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک موثر اقدم قرار دیا۔ بھارت کے مرکزی داخلہ سکریٹری راجیو مہرشی نے مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ،صلاح الدین ایک بزدل انسان ہے جو پاکستان بھاگ گیا ۔ بعقول ان کے وہ ایک دہشت گرد ہے اور اب اسے عالمی دہشت گرد قرار دیا گیا ہے۔
دوسری جانب بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان گوپال باگلے کا موقف تھا کہ امریکا کے فیصلے سے بھارت کے اس دیرینہ موقف کی تصدیق ہوتی ہے کہ کشمیر میں بدامنی جاری رکھنے کے لئے سرحد پار سے دہشت گردی ہورہی ہے اور صلاح الدین جیسے لوگ بھارت کے خلاف سرحد پار سے دہشت گردی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ بھارت اسٹریٹیجک امور کے ماہر شوسانت سرین کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ واضح نہیں کہ صلاح الدین کے حوالے سے اعلان کشمیر کے حوالے سے امریکا کی پالیسی میں کسی تبدیلی کا اشارہ ہے یا یہ اعلان صرف دہشت گردی کے حوالے سے ہے۔ لیکن اگر یہ فیصلہ صرف دہشت گردی کے حوالے سے ہے تب بھی وزیر اعظم نریندر مودی کی بڑی کامیابی ہے۔
اب تازہ پیش رفت میں امریکہ کی جانب سے حزب الماجدین کو دہشت گرد تنظیم قرار دینا منفی پیش رفت ہے۔ پاکستان نے باضابطہ طور پر امریکہ کی جانب سے حزب المجاہدین کو دہشت گرد تنظیم قرار دیئے جانے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے بڑھتے ہوئے مظالم پر تشویش ظاہر کی ہے۔پاکستان ایک سے زائد مرتبہ کہہ چکا کہ بھارت دہشت گردی کیلئے پڑوسی ممالک کی سرزمین استعمال کررہا ہے۔ اس پر افسوس کا اظہار ہی کیا جاسکتا ہے کہ آج امریکہ دہشت گردی اور تحریک آزادی کے درمیان کسی قسم کا امتیاز روا رکھنے کو تیار نہیں۔مقبوضہ وادی میں اب تک ہزاروں نہیں لاکھوں معصوم اور نہتے شہری بھارتی سیکورٹی فورسز کے ظلم وستم کا نشانہ بن چکے ہیں۔
کشمیر ہو یا فلسطین ہر دو معاملے میں اہل مغرب کا دوہرا معیار اپنائے ہوئے ہے جس کے سبب عالمی امن وامان کی صورت حال کو غیر یقینی صورت حال سے دوچار کیے ہوئے ہے۔ ایک طرف انسانی جان کی حرمت کا ناپید ہونا اور دوسری جانب جانوروں کے حقوق کی دہائی طاقتور مغربی قوتوں کا تاریک پہلو پیش کررہا۔ معاملہ کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ مسلہ کشمیر کئی دہائیوں سے نظر انداز کیا جارہا ۔ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین صورت حال پرعالمی امن کے ٹھیکداروں کا توجہ نہ دینا معاملہ کو پچیدہ بنا گیا ۔سوال یہ ہے امریکہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے اعترافی بیانات کو کیونکر اہمیت دینے کو تیار نہیں۔ بھارتی فوج کے آفیسر کی جانب سے بلوچستان اور کراچی میں دہشت گردی کی کھلم کھلا کاروائیوں کے اعتراف کے بعد عالمی برداری کی بجا طور پر زمہ داری تھی کہ وہ مودی سرکار سے اس بارے پوچھ گچھ کرتی مگر باجوہ ایسا نہ ہوسکا۔ بلاشبہ عصر حاضر میں ہر ملک کو انتہاپسندی سے نمٹنے کا چیلنج درپیش ہے مگر اس مسلہ کو بھارت جس طرح استمال میں لارہا وہ کسی طور پر اطمنیان بخش نہیں۔ اقوام عالم کو بجا طور پر پاکستان کی کوششوں اور قربانیوں کو سراہنے کی ضرورت ہے۔ قیام امن میں پاکستان دنیا کے کسی بھی زمہ دار ملک کی طرح اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کا خواہشمند ہے مگر اس کے لیے قربانیوں کا اعتراف نہ کرنا زیادتی ہوگی۔ امریکہ سمیت زمہ دار ریاستوں کو جنوبی ایشیا کے معاملات بھارت کی نگاہ سے نہیں دیکھنے چاہیں۔ بین الاقوامی تجارتی کمپنیوں کے لیے بھارت میں کشکش اپنی جگہ مگر اپنے مفادات کی آڈ میں چانکیہ سیاست کے پیروکاروں کی جانب سے ہونی والی زیادتیوں پر خاموشی کسی طورپر درست نہیں۔ حزب الامجاہدین کے سربراہ محمد صلاح الدین کے بعد حزب الماجدین دہشت گرد تنظیم قرار دینا مقبوضہ وادی میں بھارتی جبرواستحصال کو جائز قرار دینا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ عمل کو روکنے کی بجائے ردعمل کے خلاف مورچہ زن ہے جو کسی طور پر سیاسی ، سماجی اور اخلاقی اصولوں کے مطابق قرار نہیں دیا جاسکتا۔ آنے والے دنوں میں مقبوضہ وادی میں مزاحمت میںشدت پیدا ہونے کا امکان ہے۔اس خدشہ کو بھی مسترد نہیںکیا جاسکتا کہ بھارتی حکومت وادی میںداعش کی موجودگی کا واویلا کرتی پھرے ۔
یاد رہے کہ بھارتی وزیر اعظم نے حال ہی میں اسرائیل کا دورہ کیا ۔ اس اقدام کے بعد نریندر مودی بھارت کے پہلے وزیر اعظم بن گے جنھوں نے فسلطین اور اسرائیل کو یکساں اہمیت دینے کی بجائے صرف اور صرف فلسطین کو فوقیت دی ۔ ایک خیال یہ ہے کہ تیزی سے بدلتی ہوئی عالمی صورت حال کے تناظر میں اس بات کا امکان نہیںکہ مسلہ کشمیر مسقبل قریب میں حل ہوجائیگا۔ امریکہ اور اس کے ہم خیال ممالک جس تیزی سے اسلام مخالف جذبات کا شکار ہورہے اس کے بعد مسلم دنیا کا کوئی بھی تنازعہ حل ہونے کا امکان روشن نہیں یعنی افغانستان ، کشمیر اور فلسطین میںمسلمانوں کا بہتا ہوا لہو تاحال اقوام عالم کا انصاف پر مجبور کرتا نظر نہیںآرہا۔

Scroll To Top