سونامی واقعی تباہی و بربادی لاتی ہے مگر ۔۔۔ 27-12-2011

kal-ki-baatمسلم لیگ ن کے ترجمانوں کا لب و لہجہ تقریباً ایک جیسا ہوتا ہے ۔ اس لئے یہ یاد رکھنا کافی مشکل ہوتا ہے کہ کون سی بات کس نے کہی اور کون سا انکشاف کس نے کیا۔ میں یہاں خواجہ سعد رفیق کا ذکر نہیں کروںگا کیوں کہ وہ اپنا نقطہ نظرزیادہ تر معقولیت کے دائرے میں بیان کیا کرتے ہیں۔ یہ بات رانا ثنا ءاللہ کے بارے میں نہیں کہی جا سکتی اور مشاہد اللہ صاحب کے بارے میں تو بالکل نہیں کہی جا سکتی ۔ ان دونوں میں سے ہی کسی ایک نے فرمایا ہے کہ عمران خان بار بار سونامی لانے کے لمبے چوڑے دعوے تو کرتے ہیں مگر شاید انہیں معلوم نہیں کہ سونامی تباہی اور بربادی لایا کرتی ہے۔
موصوف کو عمران خان کی کم علمی پر زیادہ افسوس نہیں کرنا چاہئے کیوں کہ عمران خان کو سونامی کا مطلب نہ صرف یہ کہ معلوم ہے بلکہ اس اصطلاح کا استعمال بھی تباہی و بربادی لانے کے معنوں میں ہی کرتے ہیں۔
وہ تمام قوتیں جنہوں نے سیاست اور اقتدار کے میدان میں داخل ہو کر ملک و قوم کو تباہی و بربادی کے سوا کچھ نہیں دیا ان کے لئے عمران خان کی سونامی تباہی و بربادی کا ہی پیغام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں موجود رہنے والی دونوں بڑی جماعتوں میںجس جس صاحبِ بصیرت و بصارت کو بھی اپنے اپنے جہاز کے ڈوبنے کا ادراک ہو رہا ہے وہ کُو د کر تحریک انصاف کے جہاز میں اپنی جگہ بنا رہا ہے۔ قصور کی ہی مثال لے لیجئے ۔ ایک چھلانگ میں خورشید محمود قصوری اُدھر سے اِدھر آئے اور دوسری چھلانگ میں سردار آصف علی ۔ ملتان کی مثال اس سے بھی بڑی ہے۔ پہلے شاہ محمود قریشی نے اپنا جہاز چھوڑا اور اب جناب جاوید ہاشمی نے ڈوبتا جہاز چھوڑ دیا ہے۔
عمران خان نے میاں نواز شریف کو صحیح مشورہ دیا ہے کہ اگر دس اوورز کا میچ کھیلنے کا شوق واقعی سنجیدہ ہے تو دیر نہ کریں۔ پھر شاید انہیں اپنی ٹیم کی گنتی پوری کرنے میں بھی دشواری پیش آئے۔
جب جاوید ہاشمی نے تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا تو میں نے عمران خان کو مبارک باد کا پیغام بھیجتے ہوئے لکھا۔ ”کیا آئندہ باری شہباز شریف کی ہے؟“
جواب آیا۔ ”انشاءاللہ“

Scroll To Top