بھاری مینڈیٹ کے دعویدار وزیراعظم تاریخ کے مینڈیٹ کا مذاق اڑایا۔۔۔۔

aaj-ki-bat-logoمیاں نوازشریف ایک تاجر ہیں۔ اور تاجر بھی ایسے جس کے نزدیک گھاٹے کا سودا کرنا اپنی ذات سے دشمنی کرنے کے مترادف ہے۔
میاں نوازشریف نے گھاٹے کا سودا کبھی نہیں کیا۔ اپنی دانست میں نریندر مودی سے والہانہ انداز میں بغل گیر ہو کر وہ فائدے کا سودا کررہے تھے۔ لیکن المیہ ان کا یہ ہوا کہ انہوں نے ایک بڑا سچ بھلا دیا۔ اوربڑا سچ یہ تھا کہ وہ جس پاکستان کے وزیراعظم تھے وہ مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنے والے مودی کو کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے۔
اس ضمن میں 31مئی 2014ءکو میرا ایک مضمون شائع ہوا تھا جس میں لکھی گئی ایک ایک بات آج کے پاکستان پر صادق آتی ہے۔ آپ کی دلچسپی اور پاکستان کی نئی حکومت کی رہنمائی کے لئے وہ مضمون میں آج دوبارہ پیش کررہا ہوں۔۔۔
جس طرح دوا سازی کے لئے کیمیائی علوم سے آگہی لازمی ہے ` جس طرح سڑکوں یا عمارات کی تعمیر کے کام میں سول انجینئروں کی شمولیت ناگزیر ہے اور جس طرح امراض کی تشخیص اور علاج کے لئے ڈاکٹر ی کی سند رکھنا ضروری ہے ` اسی طرح میں سمجھتا ہوں کہ کسی ملک کی خارجہ پالیسی کی درست تشکیل تاریخ کا شعور ’دنیا کے حقائق سے آگہی اوردوست دشمن کی واضح اورغیر مبہم پہچان رکھے بغیر ممکن نہیں۔ اس ضمن میں یہاں میں ڈاکٹر ہنری کسنجرکی مثال دوں گا جنہوں نے 1960ءکی دہائی میں امریکہ کی خارجہ پالیسی کو جس سمت میں لے جانا شروع کیا اُسی سمت میں آج کا امریکہ بھی جارہا ہے۔ ڈاکٹر کسنجرسے پہلے امریکہ کی خارجہ پالیسی پر جان فاسٹرڈلس نے بھی بڑے گہرے اثرات مرتب کئے تھے۔ یہ جان فاسٹرڈلس ہی تھے جنہوں نے کرہءارض پر امریکی سرمائے اور امریکی سوچ کی حاکمیت اور برتری کو اپنے ملک کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ہدف قرار دیا۔ اسی ” ہدف “ کو ڈاکٹر ہنری کسنجر نے ایک ڈاکٹر ائن (نظریہ )کی شکل دی۔
میرا مقصد یہاں امریکہ کی خارجہ پالیسی کا احاطہ کرنا نہیں ۔ میرا موضوع ” خارجہ پالیسی “ کی ترکیب کے عمومی مفہوم اور پاکستان کے حوالے سے اس کے مخصوص ` تقاضوں پر روشنی ڈالنا ہے۔ اور اس ضمن میں ڈاکٹر ہنری کسنجر کا تذکرہ خود بخود اس لئے ہوا ہے کہ جس سٹیٹمنٹ کے ساتھ میں نے اس تحریر کا آغاز کیا ہے اس کا مقصد و مفہوم کھل کر سامنے آجائے۔ ڈاکٹر ہنری کسنجر رچرڈ نکسن کے دورِ صدارت میں امریکہ کے سیکرٹری آف سٹیٹ یعنی وزیر خارجہ رہے۔ مگر انہوں نے شاہراہِ وقت پر امریکہ کے لئے جس راستے کا انتخاب کیا اس راستے سے امریکہ اب تک نہیں ہٹا حالانکہ اس دوران مختلف مزاجوں کے صدور وہائٹ ہاﺅس میں براجمان ہوچکے ہیں۔ ڈاکٹر ہنری کسنجر کی بصیرت اور فراست سے استفادہ نکسن سے لے کر اوباما تک ہر صدر نے کیاہے۔ اِس صدی کے آغاز میں ڈاکٹر ہنری کسنجر نے ایک کتاب لکھی تھی جس کا عنوان تھاDoes America Need A Foreign Policy ? )کیا امریکہ کو کسی خارجہ پالیسی کی ضرورت ہے ؟ (اس کتاب کا ثانوی عنوان تھا۔
Towards a Diplomacy for the 21st Century
(اکیسویں صدی میں سفارتکاری کے آداب)
اِس کتاب میں ڈاکٹر ہنری کسنجر کا زور زیادہ تر اس دلیل پر تھا کہ اب چونکہ امریکہ کو کرہءارض پر ایک غالب قوت اور واحد سپر پاور کا مقام حاصل ہوچکا ہے ` اس لئے اسے خارجہ تعلقات کے میدان میں اپنے راستے بنانے یا راستے نکالنے کے لئے زیادہ عرق ریزی نہیں کرنی ہوگی۔ حالات و واقعات کا بہاﺅ خود بخود امریکہ کو درست سمت میں لیتا چلا جائے گا۔ بس امریکہ کو ایک بات اپنے مدنظر ضرور رکھنی ہوگی اور وہ یہ کہ دنیا میں اپنا عسکری و سیاسی غلبہ قائم رکھنے کا ہدف اس کی نظروں سے کبھی اوجھل نہ ہو اور وہ اپنے دوست اور اپنے دشمن خود اپنے مفادات کی روشنی میں منتخب کرے۔
جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے اس کی خارجہ پالیسی کی تشکیل میں اُن عوامل نے کلیدی کردار ادا کیا ہے جو عوامل اس کے عالمِ وجود میں آنے کے عمل کے پیچھے کارفرما تھے۔ دوسرے الفاظ میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کے راستے قدرت نے خود ہی اس کے عالمِ وجود میں آنے کے ساتھ ساتھ متعین کردیئے تھے۔ کون نہیں جانتا کہ پاکستان کے راستوں اور اس کی منزل کا تعین اسی روز ہوگیا تھاجس روز اس کے بانی قائداعظم ؒ نے فرمایا تھا۔” کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ۔“
یہ محض ایک شاعرانہ سٹیٹمنٹ نہیں تھی تاریخ اور جغرافیے کا گہرا ادراک اور شعور رکھنے والے ایک ایسے قومی رہنما کا دریافت کردہ ” سچ “ تھا جس نے ہندوﺅں کے درمیان رہ کر ہندو ذہنیت کو دیکھا پرکھا اور جانا تھا ۔ قائداعظم ؒ جانتے تھے کہ ” تقسیمِ ہند “ کا زخم بھارت ماتا کے سپوت اور نیتا کبھی ہضم نہیں کریں گے اور اُن کا پہلا وار پاکستان کی شہ رگ پر ہوگا۔ قدرت کو منظور نہیں تھا کہ ” نوزائیدہ پاکستان “ کی افزائش قائداعظم ؒ کے زیر سایہ ہوتی۔ ایک المیہ ہمارے ساتھ یہ ہوا کہ جب پاکستان نے اپنی شہ رگ کا کنٹرول اپنے ہاتھوں میں لینے کی کوشش کی تو اس کے عسکری وسائل ناگفتہ بہ تھے اور اس کی فوج کی کمان فرنگی ہاتھوں میں تھی۔
پنڈت نہرو کو سیکولر سیاست کا علمبردار سمجھا جاتاہے مگر جس عجلت کے ساتھ موصوف نے اپنی افواج سر ی نگر میں اتاریں اور جس آہنی قوت کے ساتھ پاکستان کی شہ رگ کو بھارتی سنگینوں کے نرغے میں لے لیا گیا اس سے نیو دہلی کے دور رس عزائم کا اندازہ اسی وقت ہمیں ہوگیا تھا۔
مشہور برطانوی صحافی اور تجزیہ نگار لیونا رڈ موسلے نے اپنی یاداشتوں میں لکھا کہ جس رات سری نگر کو بھارت کے فوجی کنٹرول میں لینے کا فیصلہ کیا گیا اس رات بھارتی نیتاﺅں کے درمیان خاصی بحث ہوئی تھی۔ حیرت کی بات یہاں یہ ہے کہ وزیر داخلہ سردار ولبھ بھائی پٹیل ایسے انتہائی اقدام کے پرُ جوش حامی نہیں تھے لیکن سیکولر نہرو نے بڑے فیصلہ کن انداز میں کہا تھا۔ ” برصغیر کا مستقبل وہی ہاتھ کنٹرول کریں گے جن ہاتھوں میں کشمیر کی چابی ہوگی۔ پاکستان وجود میں آچکا مگر اس کی بقاءکے سامنے سوالیہ نشان تو کھڑا کیا جاسکتا ہے۔!“
اس بات کو دوتہائی صدی بیت چکی۔پاکستان کی بقاءکے سامنے جو ” سوالیہ نشان “ سیکولر نہرو نے تب کھڑا کیا تھا وہ آج بھی کھڑا ہے۔اور المیہ یہ ہے کہ ہمارے آج کے حکمران اور ہمارے آج کے قومی رہنما اسی ” سوالیہ نشان “ کے سائے میں تصادم نہیں ` تعاون کے نعرے بلند کررہے ہیں۔
میں یہاں ایک بار پھر ابن خلدون کا حوالہ دیئے بغیر نہیں رہ سکتا۔
” جو قومیں اپنے فطری دشمنوں اور اپنے فطری دوستوں کو پہچاننے کی صلاحیت سے محروم ہوجاتی ہیں وہ اپنے زوال اور اپنی تباہی کے اسباب خود پیدا کرنا شروع کردیتی ہیں۔“
ابن خلدون کے بتائے ہوئے اس تاریخی سچ کا صحیح ادراک وہ لوگ ضرور رکھتے ہوں گے جنہوں نے 13دسمبر1971ءکو آکاش وانی پر نشر ہونے والی وہ تقریر سنی تھی جس میں بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی نے کہا تھا۔
” بھارت واسیو ۔۔۔ آج کا دن آپ کے لئے ایک بہت بڑی خوشخبری کا دن ہے ۔ آج بھارت کی اِس ناری نے بھارت دیش کی ایک ہزار سالہ ہزیمتوں شکستوں اور رسوائیوں کا بدلہ لے لیا ہے۔“
میں نے یہ پوری تقریر ریڈیو کے ساتھ کان لگا کر سنی تھی۔متذکرہ بالا الفاظ کی گونج میرے کانوں میں آج بھی موجود ہے۔ اندارا گاندھی سقوطِ ڈھاکہ کے سرکاری اعلان سے تین روز قبل نیو دہلی کے فیروز شاہ کوٹلہ گراﺅنڈ میں ایک ” عظیم الشان جلسہءعام “ سے خطاب کررہی تھیں۔
بھارت کی اِس ناری کا زخم یہ نہیں تھا کہ اس کے باپ کی انتھک جدوجہد کے باوجود ” قیامِ پاکستان “ رک نہیں سکا تھا۔ بھارت کی اس ناری کا اصل زخم۔۔۔ اور زیادہ گہرا زخم یہ تھا کہ ایک ہزار سال قبل چندر گپت اشوک ` رام اور کرشن کا بھارت محمود غزنوی ` محمد غوری اور ان کے جانشینوں کے قبضے میں چلا گیا تھا۔جو بات میں یہاں کہنا چاہ رہا ہوں۔ اور پورا زور دے کر کہنا چاہ رہا ہوں وہ یہ ہے کہ ہمارے سامنے مسئلہ یا چیلنج بھارت کے ساتھ دشمنی قائم رکھنے یا دوستی کا آغاز کرنے کا نہیں ہے۔ ہمارے سامنے مسئلہ ” ہندو ذہنیت “ کو سمجھنے کا ہے۔ یہ کہانی موہن داس کرم چند گاندھی ` پنڈت جواہر لعل نہرو یا سردار ولبھ بھائی پٹیل سے نہیں سومناتھ کے مندر اوراس کے بعد محمد غوری کے ہاتھوں پر تھوی راج کی شکستوں سے شروع ہوتی ہے۔ یہ محض ایک اتفاق نہیں کہ بھارت اپنے میزائلوں کے نام پرتھوی رکھتا ہے اور ہم غوری۔ پرتھوی اورغوری دو ایسی علامتیں ہیں جن کے سائے سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات فرار کا کوئی راستہ نہ تو کبھی تلاش کرپائیں گے اور نہ ہی اختیار کر سکیں گے۔
نہرو اور اندرا کو تو جدیدیت اور سیکولر کشادہ نظری کی علامتیں ہونا چاہئے تھا لیکن کیا وہ اپنے اندر پوشیدہ ” ہندو توا “ سے رشتہ توڑ پائے۔؟ یہ وہ سوال ہے جو ان لوگوں کو اپنے آپ سے ضرور کرناچاہئے جو بھارت کے نئے وزیراعظم نریندر مودی سے ” امیدِ بہار“ رکھ کر تلاشِ امن کے لئے نکلے ہیں۔
اگر نریندر مودی کو سمجھنا ہے اور اس کے لئے وہ دھواں دار ` شعلے برساتے بیانات کافی نہیں جو انہوں نے حالیہ انتخابی مہم کے دوران دیئے تو میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لئے نئی راہیں تلاش کرنے کی کوششوں میں لگے صاحبانِ خرد ودانش کو مشورہ دوں گا کہ وہ خوشونت سنگھ کی تصنیفThe End of Indiaکا مطالعہ ضرور کریں۔ یہ کتاب 2003ءمیں شائع ہوئی تھی۔ قارئین کی دلچسپی کے لئے میں یہاں خوشونت سنگھ کے دیباچے سے کچھ اقتباسات پیش کررہا ہوں۔
” یہ بھارت کی تاریخ کے تاریک ترین ایام ہیں۔ باپو گاندھی کی آبائی ریاست گجرات میں وحشت اور بربریت کا جوکھیل 2002ءکے اوائل میں کھیلا گیا اور جس کے نتیجے میں نریندر مودی نے بہت بھاری اکثریت کے ساتھ انتخابات میں کامیابی حاصل کی` اسے میں اپنے ملک کے لئے ایک شگونِ بد سمجھتا ہوں۔ ہندو انتہا پسندوں کا فسطائی ایجنڈا دورِ جدید میں اپنی کوئی نظیر نہیں رکھتا۔ بھارت جب تقسیم ہوا تو میرا خیال تھا کہ پھر ہمیں ایسی خون ریزی نہیں دیکھنی پڑے گی۔ لیکن شاید میں غلط تھا۔ نریندر مودی کے جلو اور عقب میں مجھے وحشت و بربریت کا ایک ایسا طوفان اٹھتا نظر آرہا ہے جو بھارت کی ایک اور تقسیم کا باعث بنے گا۔ بھارت کی تباہی پاکستان یا کسی اور ملک کے ہاتھوںنہیں ہوگی۔ ہم خود ہی اپنے گلے پر چھری پھیر دیں گے۔ نریندر مودی ایک فرد کا نام نہیں ایک سوچ کا نام ہے۔ اور یہ سوچ ہماری بہترین خواہشات کے باوجود بڑی تیزی کے ساتھ جڑیں پکڑ رہی ہے۔ انڈیا کو اکھنڈ بھارت بنانے کا خواب اور اکھنڈ بھارت کوہندو بھارت بنا ڈالنے کا جنون ` خود بھارت کے لئے ایک بہت بڑا خطرہ بن کر ابھر رہا ہے۔ دیوانگی کے اس طوفان کو روکنے کی کوئی صورت پیدا نہ ہوئی اور کسی معجزے کا ظہور نہ ہوا تو میں مستقبل میں ایک عظیم تباہی دیکھ رہا ہوں۔“
یہ الفاظ خوشونت سنگھ کے ہیں جو اَب اس دنیا میں موجود نہیں۔ وہ نریندر مودی کے ہاتھوں دہلی کی راجدھانی کی فتح نہیں دیکھ سکے۔
میری دعا ہے کہ بھاری مینڈیٹ حاصل کرنے والے میاں نوازشریف کو جلد یہ احسا س ہوجائے کہ تاریخ کا مینڈیٹ کچھ اور ہے۔ انگاروں کے بیج سے پھولوں کی فصل نہیں اگائی جاسکتی۔

Scroll To Top