چاند کی پہلی اور چودھویں تاریخ کو زیادہ شدید زلزلے آتے ہیں، ماہرین

ٹوکیو: جاپانی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ نئے اور پورے چاند کے مواقع پر زیادہ شدید زمینی زلزلے آسکتے ہیں۔

یہ بات پہلے سے معلوم ہے کہ نئے اور پورے چاند کے وقت سمندر میں زیادہ اونچی لہریں اٹھتی ہیں لیکن اس سوال کے بارے میں بحث جاری ہے کہ ان دونوں مواقع پر آنے والے زمینی زلزلے بھی معمول سے زیادہ شدید اور طاقتور ہوسکتے ہیں یا نہیں۔

اس سوال کا ممکنہ جواب تلاش کرنے کے لیے یونیورسٹی آف ٹوکیو کے ماہرینِ ارضیات نے گزشتہ 20 سال کے دوران کیلیفورنیا اور جاپان میں آنے والے بڑے زلزلوں کے مواقع پر چاند کی پوزیشن کا تفصیلی تجزیہ کیا۔ انہوں نے دریافت کیا کہ ریکٹر اسکیل پر 5.5 یا اس سے زیادہ پیمائش والے زلزلوں کے وقت چاند کی پوزیشن کچھ ایسی تھی کہ وہ سمندروں میں زیادہ اونچی لہروں (ہائی ٹائیڈز) کی وجہ بن رہا تھا۔

قمری مہینے کے دوران زمین، سورج اور چاند 2 مرتبہ ایک سیدھ میں آتے ہیں، نئے چاند کے وقت اور پورے چاند (چودھویں کے چاند) کی راتوں میں۔ اسی بناء پر چاند کی کششِ ثقل (گریویٹی) زمین پر زیادہ شدت سے اثر انداز ہوتی ہے اور سمندر میں زیادہ اونچی لہروں کی وجہ بھی بنتی ہے۔ البتہ، جاپانی ماہرین نے اس میں مزید اضافہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اضافی کششِ ثقل کے یہ اثرات صرف سمندری لہروں تک ہی محدود نہیں رہتے بلکہ ’’فالٹ لائنز‘‘ کو بھی متاثر کرتے ہیں اور نتیجتاً زیادہ شدید زلزلوں کو جنم دے سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ زمین کی سب سے بیرونی پرت جس پر ہم سب آباد ہیں، قشرِ ارض (کرسٹ) کہلاتی ہے اور بعض مقامات پر گہرائی میں جاکر اسی کرسٹ میں دراڑیں بھی پڑی ہوئی ہیں جنہیں ’’رخنہ‘‘ یا فالٹ لائنز کہا جاتا ہے۔ فالٹ لائن ہی وہ مقامات ہوتے ہیں جہاں عام طور پر زیادہ زلزلے آتے ہیں جن میں سے کچھ زیادہ شدید اور تباہ کن ثابت ہوتے ہیں۔ رخنوں کا ایسا ہی ایک بڑا سلسلہ بنگلا دیش، بھارت اور پاکستان کے شمال میں واقع ہے جو مزید آگے بڑھتے ہوئے پاک افغان سرحد سے ہوتا ہوا بلوچستان سے گزرتا ہے اور پاک ایران سرحد کے قریب بحیرہ عرب میں اختتام پذیر ہوتا ہے۔ رخنوں کے اسی سلسلے کی وجہ سے پاکستان، افغانستان، بھارت، ایران، بنگلا دیش، چین اور چند وسط ایشیائی ریاستوں میں زلزلے آتے رہتے ہیں۔

جاپانی ماہرین نے انکشاف کیا کہ پچھلے 20 سال کے دوران آنے والے شدید ترین زلزلوں کے وقت زمین پر بھی چاند کی کشش کے اثرات زیادہ تھے۔ ان بڑے زلزلوں میں سماٹرا، انڈونیشیا میں آنے والا 9.3 پیمائش کا زلزلہ (2004ء)، ماؤل، چلی میں 8.8 پیمائش کا زلزلہ (2010ء) اور توہوکو اوکی، جاپان میں 9.0 پیمائش کا زلزلہ (2011ء) شامل ہیں۔ مطالعے میں شامل 12 شدید ترین زلزلوں کی ریکٹر اسکیل پر پیمائش 8.2 یا زیادہ رہی تھی اور ان میں سے 9 اُس وقت آئے تھے جب یا تو نیا چاند یا پورا چاند تھا۔

قبل ازیں اس سال کی ابتداء میں شائع شدہ ایک اور مقالے میں امریکی ماہرین نے انتہائی معمولی زلزلوں (جن کی پیمائش تقریباً 1.0 تھی) اور چاند کی پوزیشن کے درمیان تعلق ثابت کیا تھا۔ لیکن دلچسپی کی بات ہے کہ جاپانی سائنسدانوں کو درمیانی شدت والے زلزلوں اور چاند کے اثرات میں تعلق کی کوئی واضح شہادت نہیں ملی۔ اس پورے مطالعے میں صرف 20 سالہ ریکارڈ کا احاطہ کیا گیا ہے جو زلزلوں کے حساب سے بہت کم مدت ہے۔

Scroll To Top