چیف جسٹس اور چیف آف سٹاف جواب دیں `اگر انتخاب مملکت ِ خداداد پاکستان اور1973ءکے آئین میں سے ایک کا کرنا پڑے تو ترجیح کسے ملے گی ؟ 24-12-2011

kal-ki-baatاٹھارہویں ترمیم کے ذریعے اس پارلیمنٹ کو سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کا مطیع اور محکوم بنا دیا گیا ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے اراکین پارلیمنٹ جناب آصف علی زرداری کی منشا کو اپنا ایمان سمجھنے کے پابند ہیں۔ یہی صورتحال جناب الطاف حسین اور اسفندیار ولی کے احکامات کے مطابق اپنے ”ضمیر“ ڈھالنے والوں کی ہے۔ یہ وہ پارلیمنٹ ہے جس کا انتخاب ایسی ووٹر لسٹوں کے ذریعے عمل میں آیا جن کی بہت بڑی تعداد کو سپریم کورٹ بوگس قرار دے چکی ہے۔ اس پارلیمنٹ کے انتخاب میں ملکی آبادی کے صرف پندرہ فیصدحصے نے حصہ لیا جس میں سے اگر بوگس ووٹروں کو نکال دیا جائے تو پورے اعتماد کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ یہ پارلیمنٹ صرف دس فیصد آبادی کی نمائندگی کا دعویٰ کرسکتی ہے۔ اور اگر صرف حکومت کا ساتھ دینے والے اراکین کو شمار کیا جائے تو وزیراعظم صاحب کے لئے اس حقیقت کی تردید کرنا بہت مشکل ہوگا کہ وہ صرف چھ یا سات فیصد آبادی کی نمائندگی کررہے ہیں۔ میں اس بحث میں نہیں جاﺅں گا کہ چھ یا سات فیصد آبادی کی نمائندگی کرنےوالے ان ” پارلیمنٹرینز“ میں مورالٹی ` دیانت اور شرافت کے کم ازکم معیار پر کتنے اترتے ہوں گے `مگر وزیراعظم صاحب سے یہ سوال ضرور پوچھوں گا کہ وہ اس پارلیمنٹ کو سپریم کس بنیاد پر قرار دے رہے ہیں۔ اگر این آر او کی کوکھ سے جنم لینے والی یہ پارلیمنٹ پاکستان کے آئین کی حفاظت کرنے والی اعلیٰ ترین عدلیہ اورپاکستان کی سلامتی اور آزادی کا تحفظ کرنے والی فوج پر بالادستی رکھتی ہے تو مملکت ِ خداداد پاکستان کا کوئی بھی شہری اس ملک کی فضاﺅں میں سانسیں لینے کو اپنے لئے قابلِ فخر نہیں سمجھے گا۔
وزیراعظم نے فوج اور عدلیہ پر جو حملے کئے ہیں ان پر خوشی کی لہر اگر کہیں دوڑی ہوگی تو واشنگٹن میں دوڑی ہوگی۔ انہوں نے 22دسمبر2011ءکو جو دھواں دار تقاریر کی ہیں ان کی انسپیریشن انہیں اپنے ” باس “ سے تو ملی ہی ہوگی مگر یقینی طور پر میمو گیٹ کے مندرجات سے بھی ملی ہے۔ میمو گیٹ میں بھی یہی کہا گیا ہے کہ پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ حکومت سے جان چھڑانے کی سازش کررہی ہے اور وزیراعظم صاحب نے اپنی تقریروں میں بھی اسی الزام کو دہرایا ہے۔ مطلب اس بات کا واضح طور پر یہ ہے اور نتیجہ اس صورتحال سے یقینی طور پر یہ نکلتا ہے کہ میمو گیٹ محض ایک افسانہ نہیں ` پاکستان کی آزادی اور سا لمیت کے خلاف ایک خوفناک سازش کی دستاویز ہے۔
چیف جسٹس آئین اور قانون کی بالادستی کی بات اکثر کیا کرتے ہیں۔ لیکن وقت آگیا ہے کہ انہیں شاید اپنے آپ سے ایک نہایت تلخ سوال پوچھنا پڑے۔
” اگر ایسا وقت آجائے کہ انتخاب مملکت ِ خداداد پاکستان اور 1973ءکے آئینِ پاکستان میں سے کسی ایک کا کرناپڑے تو ترجیح کسے ملے گی۔؟“
تاریخ میں ہمیشہ ترجیحات کا قانون چلا ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ جن اداروں پر ہماری سیاسی قیادت اس قدر کھل کر حملے کررہی ہے ` ان اداروں کو اپنی بنیادی ذمہ داریوں کی تکمیل کے لئے کھل کر میدان میں آنا ہوگا۔
کوئی بھی ذمہ داری ملک کو اس کے خلاف کی جانے والی سازشوں سے بچانے کی ذمہ داری سے افضل نہیں۔

Scroll To Top