میں یقینا انقلاب کی ضرورت ہے لیکن کیسا ؟

aaj-ki-bat-logoایک با ر پھر پاکستان میں انقلاب کی باتیں ہورہی ہیں۔ اس مرتبہ انقلاب کا نعرہ قصرِ سلطانی سے اٹھا ہے۔۔۔ اس طبقے کی نمائند ہ شخصیت نے انقلاب کی بات کی ہے جس کے خلاف انقلاب آتا رہا ہے ` آیا کرتا ہے ` آنا چاہئے اور آئے گا۔
ہمیں یقینا انقلاب چاہئے۔مگر کون سا ؟ اس سوال کا جواب میں نے تین برس قبل اپنی ایک تحریر میں دیا تھا۔ تب میاںنوازشریف کی حکومت کوقائم ہوئے صرف ایک برس ہوا تھا ۔ اب وہ تقریباً چار برس اقتدار میں رہ کر صادق اور امین نہ ہونے کی بناءپر نا اہل قرار پاچکے ہیں اور وزارت عظمیٰ کا عہدہ ان کے ہاتھوں سے نکل چکا ہے۔
وہ تحریر آج میں دوبارہ اس لئے پیش کررہا ہوں کہ حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ ہم اپنی تاریخ کے اس اہم موڑ پر کوئی غلط فیصلہ نہ کریں۔
تاریخ میں ہم جب بھی حکمرانوں کے کردار اور مقام کا تعین کرتے ہیں تو ہم اس کا حسب نسب نہیں دیکھتے اور نہ ہی یہ دیکھتے ہیں کہ وہ کس نظام کی پیداوار ہے ` ہم صرف اس کی اپنی شخصیت ` اس کے اپنے اعمال ` اس کی اپنی قابلیت اس کے اپنے جھکاﺅ ` اس کے اپنے نظریات اور اس کی اپنی کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہیں۔
دنیا کی تاریخ میں حکمرانی جن نظاموں کے تحت ہوئی ہے اُن کی تعداد بہت زیادہ نہیں۔ آزاد ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے قیام سے پہلے نظامِ جمہوریت سے لوگ نا آشنا تھے ۔ یہ تقریباًوہی دور ہے جب فرانس میں انقلا ب آیا۔جب جین جیکس روسو نے ” نیو سوشل کنٹریکٹ“ (نیاعمرانی معاہدہ ) کے نام سے ” تصور ِ جمہوریت “ کو پہلی بار ایک دستاویز کی شکل میں پیش کیا تو فرانس میں ہنوز بادشاہت قائم تھی۔ ” نیو سوشل کنٹریکٹ “ کی اشاعت 1761ءمیں ہوئی۔ ایک ربع صدی بعد فرانسیسی انقلاب آیا اور دنیا کی تاریخ میں پہلی بار عوام تخت گرانے اور تاج اچھالنے کے لئے بپھری ہوئی موجوں کی طرح سڑکوں پر نکلے۔
لیکن یہ خونی انقلاب ” سلطانی ءجمہور “ کا وہ نظام قائم نہ کرسکا جس کا خواب رﺅسو نے دکھایاتھا۔ اس انقلاب کی کوکھ سے پہلے نیپولین بونا پارٹ نے جنم لیا اور اس کے بعد کچھ عرصے کے لئے پھر شخصی حکمرانی واپس آگئی۔
جہاں تک جمہوریت کا تعلق ہے اس کی نشوو نما یورپ میں انیسویں صدی کے دوران ہوئی۔ لیکن یورپ کی تاریخ چونکہ بادشاہتوں کی تاریخ تھی اس لئے جمہوریت کا امریکی ماڈل یہاںشروع میں مکمل طور پر مستردہوا۔ یورپی ممالک اپنی سربراہی بادشاہوں کے پاس رکھنا چاہتے تھے لیکن اس انداز میں کہ اختیارات بادشاہوں کے ہاتھوں سے نکل کر پارلیمنٹ کے پاس آجائیں جو سربراہِ حکومت منتخب کرے۔ سربراہ حکومت کو وزیراعظم کاصدیوں پر انا عہدہ دے دیا گیا ۔ برسبیل تذکرہ میں یہاں ابن علقمی کا ذکر کروں گا جو بغداد میں عباسی بادشاہت کا آخری وزیراعظم تھا۔ عباسی بادشاہوں کے دوسرے وزرائے اعظم میں یحییٰ برمکی اور جعفر برمکی خصوصی شہرت کے حامل ہیں جن کا تعلق ہارون الرشید کے دربار سے تھا۔
جو بات کہنے کے لئے میں نے یہ موضوع چھیڑا ہے وہ یہ ہے کہ جس طرح ماضی میں وزیراعظم دربار کے امراءکے جوڑ توڑاور ملکی بھگت اور بادشاہ سلامت کی نظرِعنایت کی بدولت حکمرانی پر قابض ہوا کرتے تھے ` اسی طرح دورِ جدید کے وزیراعظم بھی برا ہ راست عوام کے نمائندے نہیں ہوا کرتے اور ان کا انتخاب بھی حکمران طبقے سے تعلق رکھنے والے خواص کے جوڑ توڑسے ہوا کرتاہے۔
یہ بڑا عجیب اتفاق ہے کہ یورپ میں بادشاہتوں کے ہاتھو ں سے اقتدار جس انقلاب کے نتیجے میں نکلا وہ بھی فرانس میں آیا تھا اور جس انقلابی اقدام نے عوام کو پہلی بار اپنا سربراہِ حکومت خود براہ راست منتخب کرنے کا حق اور موقع دیا وہ بھی فرانس میں ہی کیا گیا۔ میرا اشارہ یہاں جنرل چارلس ڈی گال کے نافذ کردہ آئین کی طرف ہے جس میںفرانس کا چیف ایگزیکٹو `براہ راست منتخب کئے جانے والے صدر کو بنا دیا گیا۔ عہدہ و زیراعظم کا بھی قائم رکھا گیا لیکن اس کی حیثیت ثانوی کردی گئی ۔ میں یہاں جنرل چارلس ڈیگال کی ایک تقریر کا ذکر کروں گا جو انہوں نے فرانس میں پارلیمانی جمہوریت کے خاتمے اور اپنے عبوری وزیراعظم نامزد کئے جانے کے موقع پر کی تھی۔
” سیاست میں ارتقاءکا علم رک جائے تو قومی ترقی کا پہیہ بھی رک جایا کرتا ہے۔ میں جمہوریت میں سیاسی پارٹیوں کی اہمیت سے انکار نہیں کرتا لیکن عوام کو یہ حق بہرحال ملناچاہئے کہ وہ ملک اور حکومت کی سربراہی کے لئے موزوں ترین شخص کا انتخاب خود اپنی بصیرت اور اپنا ووٹ استعمال کرکے کریں۔ حکومت بنانے کاحق صرف عوام کے پاس ہونا چاہئے۔ پارلیمنٹ کا کام حکومت بنانا نہیں قانون بنانا ہے۔“
بات ساری حکومت بنانے کے حق کی ہے۔ ملوکیت کی مختلف شکلوں میں یہ حق ہمیشہ ایسے خاندانوں کے ہاتھوں میں رہاجو خود کو ہمیشہ برتر سمجھتے تھے اور جن کا ” عقیدہ “ تھا کہ خدا نے انہیں ہی حکومت کرنے کا اختیار دیا ہے۔
دورِ جدید میں آزاد ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا قیام ” حقِ حاکمیت “ کے اس روایتی تصور سے پہلی بغاوت تھی۔امریکہ میں جو نظامِ جمہوریت قائم ہوا اس کی دو بڑی خصوصیات تھیں۔ ایک تو یہ کہ سربراہِ حکومت یعنی چیف ایگزیکٹو یعنی صدر کا انتخاب چھان بین کے ایک لمبے مرحلے کے بعد ہمیشہ عوام براہ راست اپنے ووٹوں سے کریں گے۔دوسری خصویت یہ کہ نہ تو سیاسی جماعتوں میں اور نہ ہی صدر کے عہدے کے انتخاب میں موروثی عمل کو کوئی دخل ہوگا۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ امریکی جمہوریت میں امراءاور خواص کی مداخلت کو بڑی حد تک پارٹی کے معاملات تک محدود کردیا گیا۔ یہ درست ہے کہ پارٹی بیورو کریسی یہ فیصلہ کرنے میں کوئی نہ کوئی کردار ضرور ادا کرتی ہے کہ صدارت کا الیکشن لڑنے کا ٹکٹ کس امیدوار کو ملے مگر فیصلہ کن کردار بہرحال رائے عامہ ادا کرتی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ابراہم لنکن ¾ بل کلنٹن اور براک اوبامہ جیسے پس منظر کے اصحاب وہائٹ ہاﺅس میں کبھی نہ پہنچتے ۔
میں نے امریکی جمہوریت کے خدوخال پر یہاں زور اس لئے دیا ہے کہ مجھے امریکیوں کے نظام میں اُس نظام کی کچھ نہ کچھ جھلک ضرور نظر آتی ہے جو ساتویں صدی عیسوی کی تیسری دہائی میں قائم ہوا اور جسے اگر بنی نوع انسان کی تاریخ کی پہلی حقیقی جمہوریت قرار دیا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔
میری مراد ریاست ِ مدینہ کا قیام ہے جس کے بانی خدا کے آخری پیغمبر اور دینِ آدم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے والے ہادی ءاعظم حضرت محمد ﷺ تھے۔
یہ بڑا دلچسپ اتفاق ہے کہ سرزمین حجاز جہاں آفتاب اسلام طلوع ہوا کرہ ءارض کا واحد خطہ تھا جہاں نہ تو کبھی کوئی روایتی بادشاہت قائم ہوئی اور نہ ہی کبھی حتمی فرماں روا پیدا ہوا۔آنحضرت کے زمانے میں بھی حجاز میں نہ تو کوئی تخت تھا اور نہ ہی کوئی تاجدار ۔ سیاسی اقتدارقبائلی سرداروں اور موروثی طور پر طاقتور خاندانوں کے ہاتھوں میں تھا۔ ریاست کے روایتی تصور کا کوئی وجود نہیں تھا۔
سب سے پہلی ریاست حجاز کی سرزمین پر مدینہ میں قائم ہوئی جو اتنی تیزی کے ساتھ پھیلی کہ بنی نوع انسان کا مقدر بن گئی۔
پیغمبروں میں آنحضرت سے پہلے حکمرانی کا افتخار یااعزاز صرف حضرت داﺅد علیہ السلام اور حضرت سلیمان ؑ کو حاصل ہوا تھا۔ مگر ان کی حکومتیں یا ریاستیں روایتی ملوکیت کی خصوصیات کی حامل تھیںمملکت یا حکومت میں سلطانی ءجمہور کے تصور نے پہلی بار ریاستِ مدینہ کے ذریعے ہی حقیقت کا روپ دھارا۔ حاکمیت اگرچہ خدا کی تھی مگر آنحضرت نے ایک نبی کی حیثیت سے حکومت کرنے کے خدائی اختیار کو استعمال کرنے کا افتخار خدا کے نیک بندوں میں سب سے مقبول موزوں اور مستحق بندے کو دے دیا ۔
ریاست ِ اسلامیہ کے سب سے پہلے سربراہ آنحضرت خود تھے۔ آپ کے بعد سربراہی کا حق و افتخار اپنی تمام تر ذمہ داریوں کے ساتھ حضرت ابوبکر ؓ کے کندھوں پر آن پڑا۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اپنے جانشین کا تقرر آنحضرت نے خود نہیں کیا تھا۔ اس بات میں منشائے خداوندی پنہاں تھی۔ اگر آپ خود خلیفہ کی نامزدگی کرتے یا خلیفہ اپنے خاندان میں سے کسی کو بناتے تو ”منشائے خلقِ خدا “ کو معاملات ِ مملکت میں کبھی اہمیت حاصل نہ ہوتی۔ اسلام میں ریاست اور حکومت دونوں کی تشکیل میں اولین اہمیت منشائے خداوندی کی ہے اور اِس کے بعد اہمیت ” منشائے خلقِ خداوندی “ کی ہے۔
ریاست مدینہ کے قیام سے لے کر حضرت علی ؓ کی شہادت تک مندرجہ بالا ” اصولِ حکمرانی“ پر عملدرآمد بڑی سختی کے ساتھ کیا گیا۔ مگر اس کے بعد اقتدار¾ خلقِ خدا کی منشاءکے امانت داروں کے ہاتھوں سے نکل کر واپس طاقتور امراءاور ان کے خاندانوں میں چلا گیا۔
مسلمانوں کی باقی ساری تاریخ ملوکیت اور ملوکوں کی تاریخ ہے۔ اگر میں اِسے امتِ محمد ی کی سب سے بڑی بدقسمتی کہوں تو غلط نہیں ہوگا۔
آج جب احیائے اسلام اور سطوتِ ہلال کی طرف واپسی کی باتیں ہورہی ہیں تو ہمارے سامنے چیلنج ان اصولوں اور قواعد و ضوابط کو واپس لانے کا ہے جن کی بنیاد پر ریاست ِ مدینہ قائم ہوئی تھی۔
ہم یہ عظیم تجربہ اگر اسلامی جمہوریہ پاکستان میں نہیں کرسکتے تو کہیں اور نہیں کرسکتے۔ ہمیں بھول جانا چاہئے کہ ہم کبھی برطانوی سامراج کی ایک نو آبادی تھے۔ ہمارے سامنے دورِ جدید کا کوئی قابلِ توجہ او ر قابلِ تقلید رول ماڈل موجود ہے تو وہ امریکی جمہوریت کا رول ماڈل ہے۔1973ءکا آئین یورپ کے اس فرسودہ نظام پر مبنی ہے جسے 1956ءمیں جنرل ڈیگال نے مسترد کرکے فرانس کو ایک نیا آئین اور نیا نظام دیا تھا۔
ملک میں جس انقلاب کی باتیں ہورہی ہیں وہ فرانس کے 1789ءکے انقلاب کی تقلید کرکے نہیں فرانس کے 1956ءکے انقلاب کی تقلید کرکے لایا جاسکتا ہے۔ اس ضمن میں بنیادی رہنمائی کے لئے ہمارے سامنے ہماری اپنی تاریخ موجود ہے ۔ میری مراد یہاں اُس تاریخ سے ہے جو 622 سے شروع ہو کر شہادت علی ؓ پر ختم ہوئی تھی۔
ضرو رت ہمیں صرف ایک ڈیگال کی ہے۔

Scroll To Top