کم نیند حاملہ خواتین میں قبل از وقت زچگی کی وجہ بن سکتی ہے، ماہرین

eپاکستان میں ہر سال تقریباً 8 لاکھ بچے قبل از وقت پیدا ہوتے ہیں جن میں سے صرف 18.5 فیصد ہی زندہ رہ پاتے ہیں۔ (فوٹو: فائل)

سان فرانسسکو: امریکی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ وہ حاملہ خواتین جو بے خوابی اور نیند سے متعلق مختلف مسائل کا شکار رہتی ہیں ان کے لیے وقت سے پہلے بچے کو جنم دینے کا خطرہ بھی زیادہ ہوتا ہے جس سے زچہ و بچہ کی جان بھی جا سکتیہے۔

واضح رہے کہ خواتین میں حمل کا اوسط قدرتی دورانیہ 37 ہفتے (تقریباً 9 ماہ) ہوتا ہے لیکن طبّی پیچیدگیوں اور صحت کے مسائل کی بناء پر بعض مرتبہ بچے کی پیدائش اس وقت سے پہلے (یعنی ساتویں یا آٹھویں مہینے میں) ہو جاتی ہے۔

قبل از وقت بچے کی پیدائش سے ایک طرف زچہ (ماں بننے والی عورت) کی جان کو خطرہ ہوتا ہے تو دوسری جانب یا تو بچے کی پیدائش ہی مُردہ حالت میں ہوتی ہے یا پھر وہ اتنا کمزور ہوتا ہے کہ عموماً چند سانسیں لینے کے بعد ہی اس دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے۔

یہ دونوں صورتیں ہی زچہ و بچہ کے لیے شدید خطرناک ہیں اور اب تک کی گئی تحقیق سے ان کے مختلف اسباب سامنے آ چکے ہیں۔ تاہم یہ پہلا موقعہ ہے جب نیند کے مسائل اور قبل از وقت زچگی میں بہت گہرا تعلق سامنے آیا ہے۔

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سان فرانسسکو میں 4500 سے زائد خواتین پر کیے گئے ایک تفصیلی مطالعے میں جائزہ لیا گیا کہ حاملہ خواتین میں کم نیند آنے اور بے خوابی کا ان کے ہونے والے بچے پر کیا اثر ہوتا ہے۔

مطالعے سے معلوم ہوا کہ جن حاملہ خواتین کی نیند متاثر رہی تھی ان میں قبل از وقت زچگی (پری ٹرم برتھ) کا امکان پوری اور بھرپور نیند لینے والی خواتین کے مقابلے میں 4.6 فیصد زیادہ تھا۔

البتہ بچوں کی قبل از وقت یعنی 34 ویں ہفتے میں پیدائش کا 20 فیصد یا اس سے بھی زیادہ امکان ایسی حاملہ خواتین میں دیکھا گیا جنہیں یا تو بے خوابی کی مسلسل شکایت تھی یا پھر سوتے دوران ان کی سانسوں میں بار بار خلل پڑتا تھا (اس کیفیت کو sleep apnea کہا جاتا ہے)۔

ریسرچ جرنل ’’اوبسٹیٹرکس اینڈ گائناکولوجی‘‘ میں شائع ہونے والی اس تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ اگر حاملہ خواتین دیگر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ بھرپور نیند بھی لیتی رہیں تو وہ صحیح وقت پر صحت مند بچے کو جنم دے سکتی ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر سال 15 ملین (1 کروڑ 50 لاکھ) بچے قبل از وقت پیدا ہوتے ہیں جن میں سے 10 ملین (ایک کروڑ) بچے مرجاتے ہیں۔ زندہ رہ جانے والے 50 لاکھ میں سے بھی اکثر بچے ساری زندگی مختلف بیماریوں اور تکالیف کا عذاب جھیلتے رہتے ہیں۔ پاکستان میں ہر سال تقریباً 8 لاکھ بچے قبل از وقت پیدا ہوتے ہیں جن میں سے صرف 1 لاکھ 26 ہزار (15.8 فیصد) بچے ہی زندہ رہ پاتے ہیں۔

Scroll To Top