قومی سلامتی کمیٹی کی اہمیت سمجھی جائے

zaheer-babar-logoقومی سلامتی کمیٹی نے ایک بار پھر کہا ہے پاکستان افغان عوام کی مرضی ومنشاء کے تحت امن عمل کی حمایت جاری رکھے گا۔اس عزم کا اظہار وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا جس میں ملک کی داخلی اور بیرونی سیکیورٹی کی صورتحال، ملکی سلامتی، کنٹرول لائن پر بھارتی خلاف ورزیوں اور آپریشن ردالفساد میں پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے اختتام پر جاری اعلامیے کے مطابق کمیٹی کے ارکان نے اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ افغان عوام کے وسیع تر مفاد کے تناظر میں امن عمل کی مکمل حمایت جاری رکھی جائے گی۔مذید یہ کہ کمیٹی نے افغانستان میں پائیدار امن اور استحکام کی پالیسی پر گامزن رہنے کے عزم کا اظہار کیا اور ساتھ ہی مطالبہ کیا گیا کہ افغانستان سے دہشت گردوں کی پاکستان آمد اور سرحد پار فائرنگ بند کی جائے۔ لائن آف کنٹرول پر بھارتی فورسز کی فائرنگ کے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے ہاتھوں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی بھی شدید مذمت کی۔قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کی اہمیت یوں بھی رہی کہ اس میں یہ عزم دہرایا گیا کہ دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشنز رد الفساد اور خیبر فور جاری رکھے جائیں گے۔
اس میں کوئی شک وشبہ نہیں جب کسی بھی قوم مسائل اور بحرانوں کا شکار ہوا کرتی تو اس کی قیادت انفرادی کے ساتھ اجتماعی دانش بھی بروئے کار لاتی ہے۔ یعنی سیاسی اشرافیہ کا طبقہ اتفاقِ رائے پیدا کرکے مسائل کا حل تلاش کرنے کی پوری کوشش کیا کرتی جب کہ اس کے برعکس ہمارے ہاں صورتحال قدرے مختلف ہے۔اب تک زیادہ تر یہی دیکھا گیا کہ بطور قوم ہم بحرانوں میں اتفاقِ رائے کی بنیاد پر آگے بڑھنے کی بجائے افراد کی مرضی ومنشاءکے مطابق فیصلے کرتے ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ریاست’ حکومت اور عوام میں فاصلے پیدا ہوتے ہیں یعنی عام آدمی ریاست و حکومتی فیصلوں کو قبول کرنے کی بجائے ان معاملات سے لاتعلقی اختیار کر لیتے ہیں۔ اکثر وبشیتر یوں بھی ہوتا ہے کہ اعلی شخصیات سے لے کر نچلی سطح تک کوئی بھی معاملات کی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔
بلاشبہ ہمیں کھلے دل ودماغ سے اعتراف کرنا چاہے کہ درپیش مسائل ہی ہیں جن کے سبب جمہوریت ثمرات دینے سے قاصر رہی ہے۔ بعض حلقوں کے مطابق ہماری سیاسی قیادت یا تو اپنے آپ کو عقلِ کل سمجھتی ہے یا پھر اس کا خیال ہے کہ اگر اتفاق ِ رائے پیدا کرنے کی کوشش کی تو انہیں ناکامی ملے گی۔ تادم تحریر اتفاقِ رائے نہ ہونے کا نقصان یہ بھی ہوا کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کو عالمی دبا اور بڑی طاقتوں کے فیصلوں کے سامنے سر تسلیم خم کرنا پڑتا ہے۔۔
یاد رہے کہ جب ہم اتفاق رائے کی بات کرتے ہیں تو اس ضمن میں بعض ادارے یا فریق بنیادی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں ۔ مثال کے طور پر موجودہ نظام میں پارلیمنٹ موجود ہے۔ سب اتفاق کرتے ہیں کہ ملک میں پارلیمنٹ کی بالادستی ہونی چاہیے ، ہمارے جمہوری مزاج کے حامل دانشوروں اور سیاسی قیادت سب سے زیادہ زور بھی اسی پر دیتے ہیں لیکن پارلیمنٹ بدستور اپنی افادیت ثابت کرنے سے قاصر ہے ۔ جمہوری اور پارلیمانی سیاست میں قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف سمیت پارلیمنٹ میں موجود دیگر پارلیمانی جماعتوں کے سربراہوں کی سب سے بہت اہمیت ہوا کرتی ہے ۔ پارلیمنٹ کے جمہوری اور غیر جمہوری طرز عمل کا تجزیہ بھی انہی لوگوں کے طرز عمل سے کیا جا سکتا ہے ۔ ادھر یہ دعوی کیا جاتا ہے کہ وزیر اعظم اور وزرا اعلی اکثر اوقات ترقیاتی کاموں کا جائزہ اور دیگر دفتری امور میں مصروف رہتے ہیںمگر یاد رہے کہ اگر طویل عرصہ بعد بھی وہ ایوان میں شریک نہ ہوں تو ایوان کی جمہوری ساکھ متاثر ہوتی ہے۔
یاد رہے کہ اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں حکومت کا کردار سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔زمہ دار حکومت اہم فیصلوں پر اعتماد میں لینے کے لیے حزب اختلاف کو بھی مشاورت اور فیصلہ سازی کا حصہ بناتی ہے ۔ ۔ آج عملا حالت یہ ہے کہ آزادی حاصل کرنے کے 70سال بعد بھی ملک میں سیاسی، سماجی، قانونی اور آئینی بحرانوں کی فضا قائم ہے۔تاریخ کے ہر دور میں ہر قومی قیادت پر فیصلہ کرتے وقت یقینا داخلی اور خارجی دباو ہوا کرتا ہے لیکن قیادت کا کمال ہوتا ہے کہ وہ اپنے فیصلوں میں قومی مفادات ‘ خود مختاری اور سلامتی کو اہمیت دیتی ہے۔ کسی بھی ملک یا حکومت کے لیے اتفاق رائے کی فضا کا ساز گار ہونا اسی صورت ممکن ہے جب ادارے اپنی اپنی حدود میں رہ کر کام کریں۔ یہ صرف اسی صورت ممکن ہے کہ سیاسی اور عسکری قیادت ماضی کی تلخیوں کو بھلا کر ایک پیج پر آ کر سوچیں۔پرویز مشرف کے جانے کے بعدجنرل اشفاق پرویز کیانی ،جنرل حیل شریف اور موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے دور میں سیاسی و عسکری قیادت میں ہم آہنگی موجود ہے جسے مزید بہتر کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ مخالفین نہیں چاہتے کہ ہماری سیاسی و عسکری قیادت اختلافات بھلا کر ایک پیج پر جمع ہو۔ بظاہر قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس سیاسی وعسکری قیادت کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں کردار ادا کررہا ہے ۔ یاد رکھنا ہوگا کہ دوعشروںسے دہشت گردی کی جنگ میںبے پناہ جانی و مالی نقصان اٹھانے کے بعد ہم مزید مسائل کے متحمل نہیں ہو سکتے لہذا لازم ہے کہ سیاسی و عسکری قیادت سر جوڑ کر بیٹھے اور ایسی پالیسیاں وضع کرے کہ جس سے قیام امن کی فضا قائم ہو اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو۔

Scroll To Top