گرانا حکومت کو نہیں نظام کو ہے 22-12-2011

kal-ki-baatمجھے ڈر ہے کہ ہماری یہ امید بھی کہیں ایک ” امیدِ خام “ ثابت نہ ہو کہ قیادت کی تبدیلی سے قوم کا مقدر بھی تبدیل ہوجائے گا۔بہتری ضرور آئے گی مگر جب تک کرپشن `حرص و ہوس اور مادہ پرستی پر مبنی لوٹ مار کا یہ نظام قائم ہے ` اس ملک کی فضاﺅں میں فلاح و نجات کے نغمے بلند نہیں ہوں گے۔
جن طبقوں کے لئے یہ ملک طالع آزمائی کا ایک وسیع و عریض میدان بنا ہوا ہے ` اور جن قسمت آزماﺅں نے اسے اپنا مقدر سنوارنے کے لئے ایک کھلی شکار گاہ بنایا ہوا ہے` انہوں نے اس کو جمہوریت کا نام دے رکھا ہے ۔ یہ لوگ اپنے آپ کو عوامی نمائندے قرار دے کر جب عوام کے وسائل اور عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالتے ہیں تو اس نظام کی شان میں قصیدے لکھنے والے شرم سے سر جھکانے کی بجائے ` تحسین کی تالیاں بجایا کرتے ہیں۔
کہنا میں یہ چاہ رہا ہوں کہ حقیقی تبدیلی اس ملک میں تب آئے گی جب سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ نظام کے آقاﺅں اور گماشتوں کے اقتدار کو آئین کا تحفظ فراہم کرنے والی یہ نام نہاد جمہوریت منوں مٹی کے نیچے دفن کردی جائے گی۔
جب تک پاکستان کے عوام کو اپنا حکمران اور اپنا لیڈر خود براہ راست اپنے ووٹوں سے منتخب کرنے کا حق نہیں ملے گا ` اس وقت تک اس ملک پر ان ایک ہزار کے لگ بھگ خاندانوں کا قبضہ برقرار رہے گا جن کے باہمی گٹھ جوڑ اورجن کے درمیان سدا جاری رہنے والے لین دین کی بدولت پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنیوں جیسی سیاسی جماعتیں اقتدار کی بندر بانٹ میں مصروف رہتی ہیں۔
تحریک انصاف کے پلیٹ فارم پر عمران خان کا ظہور تازہ ہوا کا ایک دل خوش کن جھونکا ہے۔ لیکن مقصد اگر اس بوسیدہ نظام کا سہارا بننے کی بجائے اسے گرانا اور اس کی جگہ حقیقی سلطانی ءجمہور لانا نہ ہوا تو پھر مملکت ِ خداداد کے باسیوں کو ایک اور عمران خان کا انتظار کرنا ہوگا۔
خدا ہمارا حامی و ناصر رہے۔

Scroll To Top