نظرثانی کی اپیل اور تنقید ساتھ ساتھ

zaheer-babar-logoسابق وزیراعظم نواز شریف نے عدالتِ عظمی کے پانچ رکنی بینچ کے فیصلے کے خلاف نظرِثانی کی تین درخواستیں دائر کر دی ہیں۔مذکورہ درخواستیں سابق وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث کی جانب سے جمع کروائی گئیں۔ تین درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیا کہ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کی طرف سے 28 جولائی کو سنائے گئے فیصلے میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے اور حقائق کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔درخواستوں کے مطابق پاناما کیس کا فیصلہ قانون کے خلاف اور حقائق کے منافی ہے۔ سپریم کورٹ سے درخواست کی گئی ہے کہ جب تک نظرِثانی کی درخواستوں پر فیصلہ نہیں کیا جاتا اس وقت تک پانچ رکنی بینچ کے فیصلے پر عملدرآمد روک دیا جائے۔“
میاں نوازشریف ایک طرف اپنی تقریروں کے زریعہ عدالت عظمی کو مسلسل متازعہ بنانے کی پالیسی پر گامزن ہیں تو دوسری جانب وہ سپریم کورٹ سے پانامہ لیکس کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی اپیل بھی دائر کرچکے۔ تین مرتبہ وزرات عظمی کے منصب پر براجمان رہنی والی شخصیت اگر اب تک یہ نہیں جان پائی کہ ریاستی اداروں کو متنازعہ بنانا کس قدر سنگین جرم ہے تو پھر اس کی سیاسی بصیرت کا اللہ ہی حافظ ہے ۔سابق وزیر اعظم جس طرح جلسے جلوسوں میں ”مجھے کیوں نکالا “کا ودر کرتے نظر آتے ہیں وہ کسی طور پر قابل تحسین نہیں۔ مسلم لیگ ن ملک کی نمایاں سیاسی جماعت ہے ۔میاں نوازشریف کم وبیش 35سال سے قومی سیاست میں متحرک ہیں مگر افسوس کہ ملک وملت کے تقاضے نبھانے کو تیار نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ شریف فیملی کے خلاف عدالتوں سے شازونادر ہی کوئی فیصلہ آیا ۔ زیادہ پرانی بات نہیں جب پاکستان پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں سید یوسف رضا گیلانی کو عدالت عظمی نے نااہل قرار دیا تو میاں نوازشریف نے فوری طور پر ان سے عہدہ چھوڈنے کا مطالبہ کردیا۔
بعض حلقوں کے مطابق سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی جانب سے نظرثانی کی اپیل دائر کرنے کا مقصد اس بات کا اندازہ کرنا بھی ہوسکتا ہے کہ حالیہ لاہور مارچ سے عدالت عظمی کس قدر دباو میں آئی ۔ دوسری جانب عدالت عظمی میں دائر کی جانے والی نظرِثانی کی درخواستوں میں قومی احتساب بیورو کو نواز شریف اور ان کے اہلخانہ کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کے احکامات کو یہ کہہ کر چیلینج کیا گیا کہ عدالت کا مذکورہ حکم اپنے اختیارات سے تجاوز کرنے کے مترادف ہے۔میاں نوازشریف کے وکیل کے مطابق سپریم کورٹ کی جانب سے ریفرنس احتساب عدالت میں بھیجنے کا معاملہ آئینِ پاکستان کی شق نمبر 175 سے متصادم ہے جو کہ اختیارات کی تقسیم سے متعلق ہے۔
نظرثانی کی درخواست میں میاںنوازشریف کا یہاں تک کہنا ہے کہ پاناما کیس کا فیصلہ قانون کے خلاف اور حقائق کے منافی ہے۔یاد رہے کہ جناب جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے 28 جولائی کو اپنے فیصلے میں نواز شریف کو نہ صرف نااہل قرار دیا بلکہ ان سمیت ان کے بچوں کے خلاف قومی احتساب بیورو میں ریفرنس دائر کرنے کا بھی حکم سنایا ۔مزید یہ کہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے پانچ رکنی بینچ کی سفارش پر جسٹس اعجاز الاحسن کو نگراں جج مقرر کردیا جو احتساب عدالتوں میں ان ریفرنسز کی سماعت کی نگرانی کریں گے۔
میاں نوازشریف اور ان کے ہم خیال یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ پانامہ لیکس بین الاقوامی مالیاتی سیکنڈل تھا جس میں کئی ممالک کے حکمرانوں کے نام آئے۔ اس معاملے پر سابق وزیر اعظم اور ان قریبی رفقاء جس طرح متضاد بیانات دیتے رہے وہ ہرگز کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ میاں نوازشریف کے بچوں کے انٹرویوز بھی ریکارڈ پر ہیں جس میںکئی متضاد موقف اختیار کیے گے ۔ یہ بھی بتانے کی ضرورت نہیں کہ عمران خان کی جانب سے پانامہ لیکس پر بھرپور اجتجاج کے بعد میاں نوازشریف نے خود سپریم کورٹ سے معاملہ نمٹانے کی درخواست کی تھی۔ عدالت عظمی نے فریقین سے تحریری یقین دہانی بھی حاصل کی کہ وہ لکھ کر دیں کہ پانامہ لیکس پر سپریم کورٹ جو بھی فیصلہ کریگا اسے قبول کیا جائیگا۔
بظاہر اس میں دوآراءنہیں کہ میاں نوازشریف اب جلسے جلوسوں میں عدالت عظمی کے خلاف جو زبان استمال کررہے ہیں وہ کسی طور پر توھین عدالت سے کم نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اس ضمن میں میاں نوازشریف کے خلاف سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں توھین عدالت کی درخواستیں دائر کی جاچکیں ہیں۔ملک کے سنجیدہ حلقوں کا خیال ہے کہ سابق وزیر اعظم کی عوامی رابطہ مہم دراصل عدلیہ اور دفاعی اداروں کے خلاف ہے جس میں ملک وقوم کے لیے ہرگز کوئی فلاح کا پہلو نہیں۔ میاں نوازشریف بظاہر اپنی ہی جماعت کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے خلاف مورچہ زن ہیں۔ آئین میں ترمیم سے لے کر عام آدمی کو سستا اور فوری انصاف فراہم کرنے کے دعوے سابق وزیر اعظم شائد اہل پاکستان کی آنکھوں میںدھول جھونکنے کے لیے کررہے ۔ اپنے چار سالہ دور وزرات عظمی میں میاں نوازشریف کہاں تک مسائل کی دلدل میں دھنسے عوام کی داد رسی کرتے تھے یہ کسی بھی باخبر پاکستانی سے مخفی نہیں۔سابق وزیراعظم کے مخالفین کے بعقول میاں نوازشریف قومی سیاست میں کئی دہائیاں گزارنے کے باوجود سیاست دان سے آگے نہیں بڑھ سکے۔ 70 سالہ ناکامیوں کی دہائی دیتے سابق وزیر اعظم شائد بھول رہے کہ وہ خود 35سال سے سیاست میں ہیں یعنی کہا جاسکتا کہ موجودہ قومی مسائل میں میاں نوازشریف کا آدھا کردار ہے۔

Scroll To Top