عمرا ن خان کے پرانے جاں نثار اور نئے ساتھی۔۔۔ 21-12-2011

kal-ki-baatاس بات میں کوئی شک نہیں کہ مختلف جماعتوں کے ساتھ وابستگی رکھنے والے سیاست دان اور لیڈر جتنی بڑی تعداد میں تحریک انصاف کے پلیٹ فارم پر جمع ہورہے ہیں اس کی وجہ سے برسہا برس تک تحریک انصاف کو آگے لانے کی جدوجہد میں مشغول کارکن اور عہدیدار محسوس کرنے لگے ہیں کہ پارٹی میں ان کی اہمیت اور قدر و منزلت اب ویسی نہیں رہے گی جیسی قدر و منزلت کے وہ عادی ہوچکے تھے۔ مگر یہ حقیقت بھی کوئی نہیں جھٹلا سکتا کہ جب بھی کسی سیاسی جماعت کا ” سفر عروج “ شروع ہوتا ہے تو نئے لوگ ضرور آتے ہیں اور اکثر طوفانی انداز میں آکر اس جماعت پر چھا بھی جایا کرتے ہیں ۔ ایسے میں پرانے لوگوں کے سامنے اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہوتاکہ وہ اپنے نئے ساتھیوں کو ذہنی طور پر قبول کریں اور ان کی آمد کو اپنی جماعت کی بڑھتی ہوئی قوت کی وجہ سمجھیں۔ یہاں میں فتح مکہ کے بعد مسلمانوں کی قوت میں بڑی قلیل مدت کے اندر بے پناہ اضافے کی مثال دوں گا۔
تحریک انصاف کی بڑھتی ہوئی عوامی مقبولیت کا سفر تو اس سال کے آغاز سے ہی جاری ہے۔ مگر سیاسی قوت میں کئی گنا اضافہ نومبر اور دسمبر کے مہینوں کے دوران ہوا ہے۔
گزشتہ دنوں ایک گفتگو کے دوران میں نے عمران خان صاحب سے کہا کہ تحریک انصاف میں جتنی کثرت کے ساتھ نئے لوگ آرہے ہیں اس کے پیش نظر ” ہیومن مینجمنٹ“ کے شعبے میںآپ کو ایک بہت بڑے چیلنج کا سامنا ہوگا۔
” میں جانتا ہوں “ خان صاحب نے جواب دیا۔ ” مگر میں اپنے ان ساتھیوں کی خدمات اور قربانیوں کو کبھی فراموش نہیںکروں گا جنہوں نے ایسے حالات میں بھی میرا ساتھ دیا جب مجھے یوں لگ رہا تھا جیسے میرا سایہ بھی میرا ساتھ چھوڑ دے گا۔“
مجھے یقین ہے کہ خان صاحب کے احساسات اپنے پرانے ساتھیوں کے بارے میں حقیقتاً ایسے ہی ہیں۔
گزشتہ روز زمان پارک لاہور میں واقع عمران خان کی آبائی رہائش گاہ پر نئے شامل ہونے والوں کا ایک جم غفیر تھا۔ وہاں سے خان صاحب خورشید محمود قصوری کے ساتھ ایک جلسہ ءعام میں شرکت کے لئے قصور جانے والے تھے۔ وہاں شاہ محمود قریشی ` جہانگیر ترین اور غلام سرور خان وغیرہ بھی موجود تھے۔
ایک پرانے رکن نے ٹھنڈی سانس لے کر مجھ سے کہا۔ ” اب تو خان کے ساتھ ہاتھ ملانا بھی ہمارے لئے ممکن نہیںہوگا۔“
” آپ کو ایسا نہیں سوچنا چاہئے۔ آپ کو تو خوش ہونا چاہئے کہ جو خواب لے کر آپ بر سہا برس سے چل رہے ہیںوہ اب آپ کی جماعت کی گرفت میں آرہا ہے ۔“
وہ ایکدم مسکرا دیا اور بولا۔” آپ درست کہہ رہے ہیں۔ ہمیں اپنی خود غرض اور تنگ نظری پر قابو پاناہوگا۔“

Scroll To Top