بات تین حیران کن تقاریر کی اور میاں صاحب کی فکری تربیت پر مامور 6 اساتذہ کی

aaj-ki-bat-logo14اگست2017ءپاکستان کی آزادی کی 70ویں سالگرہ کا دن تھا جو پوری قوم نے ایک عرصے کے بعد پورے جوش و خروش کے ساتھ منایا۔ اسلام آباد میں عالمِ اسلام کی تین بڑی طاقتوں ۔۔۔ پاکستان ` ترکی اور سعودی عرب کا جو مشترکہ فضائی مظاہرہ ہوا اسے ان لوگوں کو ایک منہ توڑ جواب سمجھا چاہئے جو وطنِ عزیز کے بارے میں اچھے ارادے نہیں رکھتے۔۔۔
14اگست2017ءکو میں چند حیران کن تقاریر کا دن بھی کہوں گا۔۔۔
کیلنڈر کے لحاظ سے دن کا آغاز آدھی رات کو ہی ہوگیا جب واہگہ پر پاکستان کے ایک فلک بوس پرچم کی رونمائی کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل باجوہ نے کہا کہ ” پاکستان آئین اورقانون کے راستے پر آگے بڑھ رہا ہے اور پاک فوج اس کا میاب سفر میں باقی اداروں کے ساتھ کھڑی ہے۔ پاکستان کے اندرونی و بیرونی دونوں دشمن فوج کو اپنے راستے میں ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند پائیں گے۔۔۔“
یہ تقریر حیران کن نہیں ` ایمان افروز تھی۔ حیران کن تقاریر کا سلسلہ چند گھنٹوں کے بعد شروع ہوا۔ پہلے وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا۔ ” ہم آزادی کے ستر سال بعد بھی جس کسمپرسی کی حالت میں کھڑے ہیں اس کی وجہ کرپشن کا عفریت ہے جو ملک کی جڑوں کو کھارہا ہے ۔ کھوکھلا کررہا ہے۔“
اگر یہ تسلیم کرلیا جائے کہ میاں شہبازشریف کا ملک کی حکومت چلانے میں کوئی عمل دخل نہیں تو اِس تقریر کو اقبالِ جرم نہیں سمجھا جانا چاہئے۔ اسے اُن کے بڑے بھائی اور نااہل سابق وزیراعظم میاں نوازشریف پرفردِ جرم قرار دیا جانا چاہئے ` کیوں کہ چارسال تک وہی حکمران تھے ` اور اقتدار کے ایوانوں میں اُن کا آنا جانا ایک تہائی صدی کا قصہ ہے۔
دوسری حیران کن تقریر صدر ممنون حسین کی تھی جنہوں نے نام لئے اور براہ راست مخاطب ہوئے بغیر میاں نوازشریف سے کہا کہ ۔۔۔’ ’ جناب جوش چھوڑیئے۔۔۔ ہوش میں آیئے اور اپنے آپ کو لگام دیجئے“ ۔
صدر مملکت نام کے ہی ” ممنون“ نہیں درحقیقت میاں نوازشریف کے ممنون ہیں کہ اپنے آپ کو ایسے اعلیٰ مرتبے پر پارہے ہیں۔ پھر بھی انہوں نے حق گوئی میں سارے رشتوں اور ساری مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ دیا ۔ اور ایسا انہوں نے پہلی مرتبہ نہیں کیا۔ جب پاناما کیس تازہ تازہ ” موضوع سخن“ بنا تھا تو صدر ممنون حسین نے نہایت معصومیت سے رسمِ حق گوئی ادا کرتے ہوئے کہا تھا۔ ” یہ اللہ تعالیٰ کی پکڑ ہے۔ دیکھتے جایئے آگے آگے اس پکڑ میں کون کون سا روسیاہ آتا ہے۔ بہت سارے آئیں گے اور آتے چلے جائیں گے ۔“
چاہیں تو صدر ممنون حسین علم نجوم پر دسترس رکھنے کا دعویٰ بھی کرسکتے ہیں!
اور آخری حیران کن تقریر خود سابق وزیراعظم میاں نوازشریف نے کی جس میں انہوں نے ووٹ کی حرمت کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین بھی پیش کیا اور اِس حرمت کی پامالی کے خوفناک نتائج سے بھی قوم کو آگاہ کیا۔ جو کچھ انہوں نے کہا اس کا مطلب یہ تھا۔ ” شیخ مجیب الرحمان کو ملنے والے مینڈیٹ کا احترام نہ کیا گیا تو قائداعظمؒ کا پاکستان ٹوٹ گیا۔ اب اُس مینڈیٹ کی توہین کی جارہی ہے جو مجھے ملا۔ خدا نہ کرے کہ اس کی وجہ سے باقیماندہ پاکستان بھی ٹوٹ جائے۔ میں ووٹ کے تقدس کو بحال کرنے کے لئے سردھڑ کی بازی لگادوں گا۔“ میاں صاحب نے خود تاریخ نہیں پڑھی۔ انہیں تاریخ پڑھائی جارہی ہے۔ اور پڑھانے والے امتیاز عالم ` نجم سیٹھی اور عاصمہ جہانگیر ہیں۔ اگرچہ ان کے فکری اساتذہ میں جناب عرفان صدیقی ` جناب عطاءالحق قاسمی اور برادرم مجیب الرحمان شامی بھی موجود ہیں لیکن پلّہ ان اساتذہ کا بھاری ہے جو ” تقسیم درتقسیم“ کے مشن پر مامورہیں۔ اِن اساتذہ کو پہلے ” پاک فوج “ زہر لگتی تھی ` اب ” پاک عدلیہ “ بھی زہر لگنے لگی ہے۔ اِ ن کا نقطہ ءنظر یہ ہے کہ ووٹ کے تقدس کے لئے دونوں زہر قاتل ہیں۔ اگر ان کے پَر کاٹ دیئے جائیں تو انہیں پنجرے میں بند کرنا مشکل نہیں ہوگا۔ پرَ اِن کے یوں کاٹے جاسکتے ہیں کہ آئین میں بنیادی تبدیلیاں لائی جائیں جن کے بعد مینڈیٹ حاصل کرنے والوں کو قتل عام بھی معاف ہو۔۔۔
جہاں تک باقی تین ” اسلام دوست “ اساتذہ کا تعلق ہے وہ بس یہی کہتے ہیں کہ ” بیٹے سے کون سا غیرتمند باپ تنخواہ لیتاہے۔؟میاں صاحب کی غیرتمندی کو جرم کیوں بنا دیا گیا ۔۔۔؟“

Scroll To Top