جب تک اس ” نظام ِ خرابی “ کو جڑوں سے کاٹ کر پھینکا نہیں جاتا تبدیلی کیسے آئے گی ’ انقلاب کون لائے گا ؟ 20-12-2011

kal-ki-baatایک طرف پاکستان کی آزادی سلامتی اور بقاءکا معاملہ ہے جس پر پوری قوم کی توجہ مرکوز ہے اور دوسری طرف قومی معیشت کے روز افزوں زوال ’ قومی اداروں کی تباہی و بربادی اور انفرادی و اجتماعی اقدار کی شکست و ریخت کا معاملہ ہے جس نے قوم کے سامنے ملک کے مستقبل کے بار ے میں نہایت حوصلہ شکن اور تکلیف دہ سوالات کھڑے کرنے شروع کردیئے ہیں۔
سپریم کورٹ آف پاکستان ملک کی بقاءسلامتی اور آزادی کے ساتھ جڑے ہوئے ایک ایسے معاملے کی گُتھی سلجھانے میں لگ گئی ہے جسے ملک کی اعلیٰ ترین عدالت میں لے جانے والے اصحاب بھی ایک خوفناک سازش قرار دے چکے ہیں اور جسے ہر قیمت پر عدالتی تحقیقات سے دور رکھنے کے متمنی حلقے بھی ایک سنگین سازش قرار دے رہے ہیں۔ اس معاملے کو ” میمو گیٹ“ کا نام دیا گیا ہے۔ اور اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ جب سپریم کورٹ اس معاملے کے بارے میں کسی حتمی نتیجے یا فیصلے پر پہنچے گی تو اقتدار کے ایوانوں میں زلزلہ آئے بغیر نہیں رہے گا۔ اس ضمن میں ایبٹ آباد تحقیقاتی کمیشن کا ذکر کرنا بھی مناسب ہوگا جس کے دائرہ کار کا تعلق بھی ان ہی معاملات سے ہے جو میمو گیٹ کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔
ہمارے ملک میں ایسے دانشور اور اہلِ فکر بھی موجودہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ ” سلامتی آزادی اور بقاء“ کے حوالوں کے پیچھے اصل سوال یہ ہے کہ ملک کی تقدیر کے بارے میں حتمی فیصلے کرنے کااختیار ” سِول“ قیادت کے ہاتھوں میں ہونا چاہئے یا ” فوجی قیادت “ کے ہاتھوں میں۔
یہ سوال گمراہ کن ہے۔ کیوں کہ دنیا میں کوئی بھی ملک ایسا نہیں جو اس بات کو یقینی بنانا ضروری نہیں سمجھتا کہ اس کی آزادی سلامتی اور بقاءکے بارے میں فیصلے کرنے والے لوگ قابلیت ’ نیت اور دیانت کے حوالے سے ناقابلِ تردید حوالے رکھتے ہوں۔ یہ سارا معاملہ جمہوریت یا آمریت وغیرہ کا نہیں قابلیت نیت اور دیانت کا ہے۔
دوسرا معاملہ قومی معیشت ’ قومی اداروں اور قومی اقدار کی شکست و ریخت اور تباہی کا ہے ۔ اور اس معاملے میں قوم کو سامنا کرپشن ’ بداعمالی ’ اقرباپروری اور بے ضمیری کے خون آشام عفریتوں کا ہے جو ” خوفِ خدا“ اور ” خوف ِ خلق خدا “ دونوں سے بے نیاز ہو کر گاﺅں ‘ بستیاں اور شہروں کے شہر اجاڑنے میں مصروف ہیں۔
یہ سارا ” فیض“ اس نظامِ خرابی کا ہے جسے ہم نے جمہوریت کا نام دے کر اپنارکھاہے۔
فضاﺅں میں تبدیلی اور انقلاب کے نعرے بھی بلند ہورہے ہیں مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب تک اس ” نظا م ِخرابی “ کو جڑوں سے کاٹ کر پھینکا نہیں جاتا تبدیلی کیسے آئے گی ’ انقلاب کون لائے گا ؟

Scroll To Top