ایک قوم تحریک

  • ہماری ”ایک قوم تحریک “ کے مقاصد کی ترجمانی جس قدر مکمل طور پر ملک کے مایہ ناز ناول نگار نسیم حجازی مرحوم کی تصنیف ”خاک اور خون“ میں کی گئی ہے، اس قدر مکمل طور پر شاید کئی دہائیاں گزرنے کے بعد ہم آج نہ کرسکیں۔ خاک اور خون کو تحریک پاکستان کا ”آنکھوں دیکھا حال“ قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ اس کے اختتامی باب ”اے قوم“ میں ناول کے ہیرو سلیم نے
    ان تمام خطرات کے بارے میں قوم کو آگاہ کرنے کی کوشش کی تھی جن کا سامنا ہم نے اپنی گذشتہ دہائیوں میں کیا ہے۔
    وطن عزیز سے محبت کرنے والے کروڑوں اصحاب (اور خواتین) کے لیے یہ دستاویز مشعل ِ راہ کا درجہ رکھتی ہے۔
    ( غلام اکبر )

naseem-ejazi-logoaaaaہم بہت کچھ کھو چکے ہیں لیکن اب بہت بڑی دولت ہمارے پاس ہے، اور وہ یہ کہ ہمارے عوام کا عزم برقرار ہے۔ تاریخ انسانی کے بڑے سے بڑے حوادث سے دوچار ہونے کے باوجود ان کے سینوں میں ایمان اور یقین کی مشعلیں روشن ہیں۔ وہ اسلام کے نام پر جینا اور مرنا چاہتے ہیں۔ کفر کے سیلاب ان کے دلوں سے عشق رسول ﷺ کی چنگاریاں نہیں بجھا سکا۔ ان کی بے غرضی، ان کا ایثار، ان کا خلوص ہماری سب سے بڑی متاع ہے لیکن پاکستان نے آج تک اس متاع گراں قدر سے پورا فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کی۔
جس دریا سے کھیتیاں سیراب نہیں کی جاتیں وہ یا تو کسی جھیل یا سمندر میں جا گرتا ہے اور یا کسی ریگستان میں جذب ہو کر رہ جاتا ہے۔ جس طاقت کو بروقت قوم کی تعمیر کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا ، وہ وقت گزر جانے پر تخریب کی طرف مائل ہو جاتی ہے۔ پاکستان کے عوام میں زندگی ہے، تڑپ ہے، اُمنگیں ہیں، ولولے ہیں لیکن بد قسمتی سے ہمارے طبقہ اعلیٰ کی بے حسی اور جمود ان پر ٹھنڈے پانی کے چھینٹوں کا کام دے رہا ہے۔ ہمارے لیڈروں کے ایک گروہ نے ابھی تک اس بات کا احساس نہیں کیا کہ ان پر ایک ایسی قوم کے بقاءکی ذمہ داری عائد ہوتی ہے جو انسانی تاریخ کے عظیم ترین خطرے کا مقابلہ کررہی ہے۔ ہمارے سیاست دانوں کی صفوں میں ابھی تک وہ لوگ موجود ہیں جو اپنا حال اور مستقبل عوام کے ساتھ وابستہ کیے بغیر عوام کی لیڈری فرما رہے ہیں۔ مشرقی پنجاب پر مصیبت آئی تو ان میں سے بہت کم ایسے لوگ تھے جنہوں نے عوام کے ساتھ جینا اور مرنا پسند کیا ۔ اکثر کی یہ حالت تھی کہ ہوا کے پہلے جھونکے کے ساتھ ہی عوام کو اپنی قیادت کے بوجھ سے آزاد کر کرے پاکستان پہنچ گئے۔ وہ جاتے جاتے عوام کو یہ بھی نہ بتا سکے کہ پاکستان کا راستہ اس طرف ہے۔
اے قوم !
انسانوں کا وہ گروہ جو بھیڑوں کی زندگی اختیار کرتا ہے،بھیڑیوں کے ہاتھوں ہلاک ہوتا ہے۔ہم میں آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو صرف چرواہے کہلانے کے شوق میں جمہور کو بھیڑوں کی زندگی اختیار کرنے پر آمادہ کر رہے ہیں۔لیڈری کے بعض خواہش مندوں کو اندیشہ ہے کہ جب قوم متحد ہو کر جہد و عمل کے میدان میں نکل آئے گی ،تو ان کی منفی اور تخریبی کاروائیوں کی قیمت گھٹ جائے گی۔اس لیے وہ قوم کے شیرازے کو ہر قیمت پر منتشر رکھنا چاہتے ہیں۔
ان لوگوں نے گزشتہ صدیوں میں بارہا ملت کی چٹان کو خود غرضی کے تیشوں سے پاش پاش کیا ہے۔اسلام ایک تھا لیکن انہوں نے اس کی وحدت کو فرقوں،گرہوں ،نسلوں اور خطوں میں تقسیم کیا۔آلام و مصائب کے اَدوار میں جب مسلمانوں میں اتحاد و تنظیم کی روح بیدار ہوئی یہ لوگ میدان میں نکل آئے تھے۔جب اہل غرناطہ پر مصائب کی گھٹائیں نازل ہو رہی تھیں یہ لو گ انہیں عربی ،اندلسی اور بریری کے نام پر لڑا رہے تھے۔جب بغداد پر تاتاری یورش کر رہے تھے۔ یہ لوگ مختلف فرقوں میں منافرت پھیلانے میں مصروف تھے۔
آج پاکستان میں اسی قسم کا گروہ صوبائی عصبیت کا بیج بونے کی فکر میں ہے۔ ہم ایک ہیں۔ ہمارے مسائل بھی ایک ہیں۔ اگر اسلام عرب میں عربی اور عجمی ، قریش اور حبشی کی تفریق کے خلاف تھا تو پاکستان میں بھی پنجابی، سندھی، سرحدی، بلوچستانی اور بنگالی کے درمیان تفریق کی اجازت نہیں دے سکتا۔ پاکستان کے انعامات اور پاکستان کے مصائب میں ہم سب یکساں حصے دار ہیں۔ موجودہ حالات کا تقاضایہ ہے کہ ہم پاکستان میں صوبوں کی تقسیم کو ایک وحدت ملی کے اندر جذب کر دیں۔ اجنبی سامراج نے صوبائی حد بندیوں سے پنجابی کے لئے سندھی، سندھی کے لیے سرحدی اور سرحدی کے لیے بلوچستانی کو اجنبی بنا دیا تھا لیکن پاکستان کی بقاءاور استحکام کا راز ان حد بندیوں کو ختم کردینے میں ہے۔ قوم کو ان غرض کے بندوں کی پروا ہ نہیں کرنی چاہئے جو یہ محسوس کرتے ہیں کہ اگر تمام مسلمان ایک ہوگئے تو ہمارے لیے زندہ باد کے نعرے کون لگائے گا۔
ایک کچھوایک گدلے پانی کے جوہڑ سے مچھلیاں شکار کیا کرتا تھا۔ جب برسات کے دن آئے اور آس پاس کے چھوٹے چھوٹے جوہڑ مل کر ایک بڑی جھیل میں تبدیل ہونے لگے تو کچھوے کو خطرہ محسوس ہونے لگا کہ اگر اس کا جوہڑ بھی جھیل کے ساتھ مل گیا تو جھیل کے وسیع رقبے اور گہرے پانی میں مچھلیوں کا شکار مشکل ہو جائے گا۔ چنانچہ اس نے مچلیوں سے کہا ۔ ”تم جوہڑ کے کناروں پر بند لگادو، ورنہ تمہاری عزت اور آزادی بہت بڑے خطرے کا سامنا کر رہی ہے۔ تم چھوٹی چھوٹی لہروں سے دل بہلانے کے عادی ہو اور جھیل میں تمہیں بڑی بڑی لہریں پریشان کیا کریں گی۔“
پاکستان کے صوبوں میں اس قماش کے معتبرین کی کمی نہیں۔ جب یہ لوگ صوبوں کی مکمل آزادی اور خودمختاری کا نعرہ لگاتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ انہیں لوٹ مار کی پوری آزادی ہو اور مرکز اس قدر کمزور ہو کہ وہ مدافعت نہ کرسکے۔ صوبوں کا درد ان کے دل میں نہیں، پیٹ میں اٹھتا ہے لیکن چند آدمیوں کی خوشنودی کے لئے قوم کا اجتماعی مفاد قربان نہیں کیا جاسکتا ۔ وہ قوم جو ہندوستان کے اژدہوں اور نہنگوں کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ رکھتی ہے، اسے ان کچھوو¿ں کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔
ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا ہے، جو قربانیاں قوم نے پاکستان کے لیے دی ہیں، وہ خدا اور رسول ﷺ کے نام پر تھیں۔ ہمارے اجتماعی اور قومی شعور کی اساس ہی دین اسلام پر ہے۔ تاریخ اس حقیقت کی گواہی دیتی ہے کہ جب بھی ہم نے دینِ الٰہی کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ ا ہے، ہم ہر مصیبت اور ہر ابتلاءکے دور سے سرخرو ہو کر نکلے ہیں۔ جب بھی ہم نے ذوق یقین سے لبریز ہو کر اسلام کی شاہراہ پر قدم رکھا ، ہمارے سامنے پہاڑوں نے سرجھکا دیئے اور جب بھی ہم نے اپنے سینوں میں عشق محمد ﷺ کی قندیلیں روشن کیں، آلام و مصائب کی تاریکیاں ہمارے پاﺅں متزلزل نہ کر سکیں۔
اسلام ہمارے لیے وہ ڈھال ہے جو کفر کے ہر تیر کو روک سکتی ہے۔ اسلام ہمارے ہاتھ میں وہ تلوار دیتا ہے جو ہر تلوار کو کاٹتی ہے۔ اسلام ظلمت کی گھٹاﺅں میں ہمارے سامنے روشنی کا وہ مینارہ ہے جو ہمارے سفینے کو ساحل مقصود تک پہنچا چکا ہے۔ آج ہم موت کے منہ سے نکل کر زندگی کے دامن کی طرف ہاتھ بڑھا رہے ہیں اور اسلام وہ چشمہ ہے، جس سے قیامت تک زندگی کے دھارے پھوٹتے رہیں گے۔ کفر کی آندھیوں کے سامنے ہم اپنے منتشر شیرازے کو صرف اسلام کی رسی سے باندھ سکتے ہیں۔ اسلام ہی ہماری راکھ کے انبار سے بجلیاں پیدا کر سکتا ہے۔
اگر ہم خلوصِ نیت سے پاکستان کی نیام میں اسلام کی تلوار کو جگہ دیں تو وحشت اور بربریت کا طوفان جس تندی اور تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اسی رفتار سے سمٹتا ہوا نظر آئے گا۔ وہ زمین جو ہمارے شہیدوں کے خون سے لالہ زار ہوئی ہے وہ ہمارے سپاہیوں کے پاو¿ں کو بوسے دے گی۔ جس آسمان نے قوم کی بیٹیوں اور بچوں کی جگردوز چیخیں سنی ہیں، وہ ہمارے غازیوں کے نعرے سنے گا۔ جو مساجد، مندروں اور گوردواروں میں تبدیل کر دی گئی ہیں، وہاں پھر ایکبار اللہ اکبر کی صدائیں گونجیں گی۔
اے قوم!
مےں تجھے عافیت پسندوں کے اس گروہ سے خبردار کرتا ہوں جو یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان کی صلح جوئی اور امن پسندی ہندوستان کے جارحانہ عزائم بدل دے گی۔ گزشتہ واقعات بارہا اس حقیقت کا ثبوت دے چکے ہیں کہ ہندو فاشزم صرف تلوار کی زبان سمجھ سکتا ہے۔
بھارت میں اس تہذیب و تمدن کا احیا ہو رہا ہے۔ جس کی بنیاد نفرت اور حقارت کے جذبے پر رکھی گئی ہے۔ ہندوطاقتور کا احترام کرتا ہے، نہیں بلکہ اس کی پوجا کرتا ہے اور کمزور کو اچھوت کا درجہ دے کر کچل ڈالتا ہے۔ خاندان مغلیہ کے زوال کے بعد مسلمانوں کے انتشار اور کمزوریوں نے ہندونے اچھوت دشمنی کو اسلام دشمنی میں تبدیل کر دیا اور جس قدر اسلام، ہندومذہب کی ضد ہے، اسی قدر ہندو کے لئے مسلمان کا وجود ناقابل ِ برداشت ہے۔ ہماری شرافت ، ہماری صداقت ، امن پسندی اور نیکی اس وقت تک اس کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی جب تک ہم بزوربازو اس سے زندہ رہنے کا حق نہیں منواتے۔
ہندوستان کے صنم خانوں سے جو آگ نمودار ہو رہی ہے وہ دس کروڑ فرندانِ توحید کو بھسم کرنا چاہتی ہے۔ یہ آگ ہمیشہ کسی محمد بن قاسم اور کسی محمود غزنوی کی منتظر رہے گی۔
گزشتہ واقعات ہمیں اس غلط فہمی میں مبتلا ہونے کی اجازت نہیں دیتے کہ ہمارے ہاتھوں میں صلح و آتشی کے پھول دیکھ کر یہ آگ خود بخود ٹھنڈی ہو جائے گی۔ ہمیں اس تلخ حقیت کو ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ ہندوستان میں قتل عام کے ساتھ کفر اور اسلام کا فیصلہ کن معرکہ شروع ہوچکا ہے اور ہمیں صرف ایک ناقابل تسخیر عزم ہی برہمنی استبداد کے غلبہ سے بچا سکتا ہے۔
پاکستان فقط آٹھ کروڑ مسلمان کا دفاعی حصار نہیں بلکہ اس کی بقاءاور استحکام ہمارے ان تین کروڑ بھائیوں کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے جو انگریز کے بعد ہندو استبدار کی چکی میں پس رہے ہیں…. آج ان کے دروازوں پر موت کا پہرا ہے۔ آج ان کی بے بسی اس لڑکی کی مظلومیت سے کہیں زیادہ ہے، جس کی فریاد نے محمد بن قاسم کی تلوار کو بے نیام کیا تھا۔ آج یہ تین کروڑ مسلمان اس تلوار کو اپنی شاہ رگ کے قریب دیکھ رہے ہیں جس نے مشرقی پنجاب میںلاکھوں مسلمانوں کو قتل کیا ہے۔ آج ہمیں یہ سوچنا ہے کہ اگر پاکستان جاہ پسندوں اور وزارتوں اور عہدوں کی کرسیوں کے بھوکوں کا اکھاڑہ بنا رہا تو اس کا انجام کیا ہوگا۔
اگر پاکستان ہندوستان کے تین یا ساڑھے تین کروڑ مسلمان کے تحفظ کے لئے مو¿ثر قدم نہ اُٹھا سکا تو ان کے لیے موت، جلاوطنی، یا ترکِ اسلام کے سوا اور کوئی راستہ نہیں ہو گا۔
ہندوستان کا حکمران طبقہ جس قدر اسلام دشمنی کا مظاہرہ کرے گا اسی قدر اسے ہندو عوام میں مقبولیت حاصل ہو گی۔ صف ِ اوّل کے کانگرسی لیڈورں میں پٹیل نے اپنے آپ کو مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن ثابت کیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہندو عوام پر اس کا اثر و اقتدار گاندھی اور نہرو کی نسبت کہیں زیادہ ہے۔ ہندو مہاسبھا اور راشٹریہ سیوک سنگھ کے لیڈر پٹیل کے مقابلے میں کہیں زیادہ انہتا پسند ہیں اور واقعات کے پیش نظر ہمیں یہ یقین رکھنا چاہیے کہ آنے والے دور میں ہندوستان کی قسمت ان جنونیوں کے ہاتھ میں ہو گی جو ہندو رائے عامہ کے سامنے یہ ثابت کر سکیں گے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے متعلق ان کے عزائم پٹیل اور نہرو کی نسبت کہیں زیادہ بھیانک ہیں۔ وہ دن دور نہیں جب نہرو اور پٹیل کی کرسیوں پر ہمیں سیوا سنگھی اور مہاسبھائی نظر آئیں گے اور ہندوستان کے کونے کونے میں مشرقی پنجاب کی تاریخ دہرائی جائے اور اگر پاکستان کے مسلمانوں نے محض تماشائیوں کی حیثیت میں اپنے کروڑوں بھائیوں کا قتل عام دیکھا تو یہ ان کا ایک ایسا جرم ہو گا جو شاید قدرت معاف نہ کرے۔
وحشت اور بربریت کے سیلاب سے جو لوگ بچ جاکر نکلیں گے، ان کی آخر ی جائے پناہ پاکستان ہو گی لیکن پاکستان یں ان کروڑوں نئے مہاجرین کے لیے جائے پناہ تلاش کرنا ناممکن ہو گا۔
کسی دن اچانک ہم یہ سنیں گے کہ آج ہندوستان کی عنانِ اقتدار کسی مہا سبھائی یا سیوا سنگھی نے سنبھال لی ہے اور جس تندی اور تیزی سے مشرقی پنجاب میں مسلمانوں کو قتل عام ہوا تھا۔ اس سے کہیں زیادہ تندی و تیزی سے ہندوستان کے باقی صوبوں میں مسلمانوں کا قتل عام شروع ہو چکا ہے۔ اس وقت کائنات کا ضمیر پاکستان کے ہر بچے اور بوڑھے سے بھی اس سوال کا جواب پوچھے گا۔ ” کیا تم صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لیے تیا ر ہو….؟“
ہمیں اس غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہونا چاہئے کہ ہندوستان میں سوشلزم یا کمیونزم کی تحریکیں ہندو عوام کے تخریبی رجحات بدل دیں گے۔ جب تک برہمن ازم کے علم برداروں کے سامنے مسلمان کا ہدف موجود ہے وہ کسی دقت کا سامنا کیے بغیر بھارت کے ترکش کے ہر تیر کو ان کے خلاف استعمال کرتے رہیں گے ۔ ہندوستان میں جب بھی کوئی عوامی تحریک اُٹھے گی، اس کا رخ مسلمان کی طرف پھیر دیا جائے گا۔
٭٭٭٭٭

Scroll To Top