مسئلہ کشمیر پر ایٹمی جنگ چھڑ سکتی ہے، عالمی برادری مداخلت کرے، رفیق تارڑ

  • دونوں ممالک کے درمیان مسئلہ کشمیرفلیش پوائنٹ بن چکا ہے ، جن حکمرانوں نے مسئلہ کشمیر پر غفلت کا مظاہرہ کیا وہ قومی مجرم ہیں، انٹرویو

رفیق تارڑاسلام آباد(آن لائن)سابق صدر پاکستان محمد رفےق تارڑ نے خبردار کیا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ پاکستان اور بھارت کے درمیان فلیش پوائنٹ بن چکا ہے اگر عالمی برادری نے اس مسئلے کو توجہ نہ دی تو دونوں ممالک کے مابین مسئلہ کشمیر پر ایٹمی جنگ چھڑ سکتی ہے،پاکستان کے جن حکمرانوں نے مسئلہ کشمیر پر غفلت کا مظاہرہ کیا ہے وہ قومی جرم کے مرتکب ہوئے ہیں پاکستان کو آبی وسائل کے حوالے سے بہتر منصوبہ بندی کرنی ہوگی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک میگزین کو دئےے جانے والے انٹرویو میں کیا۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے اور کشمیری نوجوان اپنے ملک کی آزادی کی خاطر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ کشمیر کے مسئلے کو نہرو خود اقوام متحدہ میں لیکر گیا اور کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے کا وعدہ کیا گیا مگر بعد میں اس سے مکرگیا۔انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر دونوں ممالک کے مابین فلیش پوائنٹ بن چکا ہے اور دونوں ممالک کے مابین اس مسئلے پر ایٹمی جنگ چھڑنے کا خطرہ بدستور موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ بڑی طاقتوں کو مسئلہ کشمیر کے سنگینے کا نوٹس لیکر بھارت پر دبا¶ ڈالنا چاہئے کہ وہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرے۔انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر حل کئے بغیر برصغیر میں قیام امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندو ذہنیت نے تقسیم ہند کو دل سے قبول نہیں کیا ہے اور وہ تقسیم کے بعد سے پاکستان کے خلاف مسلسل سازشوں میں مصروف ہے۔انہوں نے کہا کہ سقوط ڈھاکہ پاکستان کی تاریخ کا ایک المیہ ہے اور ہماری اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں سے مشرقی پاکستان ہم سے الگ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش ہمارا برادر اسلامی ملک ہے ۔انہوں نے کہا کہ وطن عزیز کو پانی کے بحران کا سامنا ہے اور اس میں بہت سے عوامل کارفرما ہیں اس میں کہیں بھارت کی پاکستان دشمنی نظر آئی ہے جبکہ کہیں پاکستانی حکمرانوں کے بے سوچھے سمجھے فیصلے ہیں اور جن حکمرانوں نے اس میں غفلت کا مظاہرہ کیا ہے وہ قومی مجرم ہیں،آئندہ نسلیں انہیں کبھی بھی معاف نہیں کریں گی پاکستان کو آبی وسائل کے حوالے سے م¶ثر منصوبہ بندی کرنی ہوگی

Scroll To Top