!برطانوی عدالتی نظام پر سوالات اٹھ گے

متحدہ قومی موومنٹ کے بانی کے خلاف منی لائنڈرنگ کیس کا خاتمہ یقینا ان حلقوں کے لیے حیران کن ہے جو برطانیہ میںانصاف کی سربلندی کو مثالی خیال کرتے ہیں۔ ان میں ایسے بھی ہیں جو اس حقیقت کو نظر انداز کرنے کے مرتکب ہوئے کہ دنیا کے دیگر طاقتور ممالک کی طرح برطانیہ کی داخلی اور خارجی پالسیوں میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔ قانون کی بالادستی کی صبح وشام دعوے کرنے والا برطانیہ دراصل اپنے قومی مفاد کے نام پر ایسے اقدمات بھی کر گزرتا ہے جس کی امید کسی بھی مہذب ریاست سے ہرگز نہیں کی جاسکتی۔ الطاف حسین سمیت چھ افراد کے خلاف منی لائنڈرنگ کیس ختم کرنے کی وجہ یہ بتائی گی کہ اس سلسلے میں ناکافی ثبوت موجو د ہیں کہ دوہزار بارہ اور چودہ میں ملنے والی پانچ لاکھ پاونڈ کی رقم جرائم کے زریعہ حاصل کی گی تھی یا پھر اس رقم کو غیر قانونی کاموں کے لیے استمال کیا جانا تھا۔
ایم کیوایم کے بانی اور ان کے قریبی ساتھیوں پر بنے والے منی لائنڈرنگ کیس نے جس طرح طول پکڑا اس سے ان خدشات کو تقویت ملی کی الطاف حسین کے خلا ف برطانوی حکومت کوئی فیصلہ کن کاروائی کرنے کے موڈ میں نہیں۔ ادھر توقعات کے عین مطابق ایم کیوایم رہنما کے قریبی حلقوں نے اس فیصلے کو قانون کی فتح قرار دیتے ہوئے اپنے بے گناہی کا ٹھوس ثبوت قرار دے ڈالا ۔
ہمیں نہیں بھولنا چاہے کہ حال ہی سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیر نے ٹی وی انٹرویو میں برملا طور پر اس کا اعتراف کیا کہ عراق پرحملے کے لیے ٹھوس شوائد دستیاب نہ تھے اور یہ بھی کہ اس سلسلے میں مسلمہ قانونی تقاضوں کو پامال کیا گیا۔ ان دنوں ٹونی بلیر بارے یہ تاثر عام تھا کہ وہ امریکی صدر کے تابعداد کا کردار باخوبی نبھا رہے ہیں اور وہ قطعا اس کی پرواہ کرنے کو تیار نہیں کہ مشرق وسطی میں جنگ کی تباہی کس کو کہاں تک متاثر کرسکتی ہے۔ سوال ہے کہ برطانیہ کے سابق وزیراعظم کے اس اعتراف کے بعد برطانوی قانون کیونکر حرکت میں نہ آیا تاکہ مسقبل میں ایسے فیصلوں کی روایت کو توڈا جاسکے۔ جو دنیا کی بالخصوص اور برطانیہ کی بالعموم مشکلات بڑھا گے۔
مغربی دنیا کا یہی تاریک چہرہ ہے جس کو انتہاپسند عناصر اپنے مقاصد کے لیے کامیابی سے استمال میں لارہے۔ مقبوضہ وادی ہو یا تنازعہ فلسطین کہیں بھی باضمیر یورپی حکمران متحرک کردار ادا کرنے کو تیار نہیں۔ اسلامی دنیا میں انتہاپسندی کی ایک وجہ تو خود مسلم اشرافیہ ہے تو دوسری جانب طاقتور مغربی ممالک کی وہ پالیساں بھی ہیں جو عملا جلتی پر تیل کا کام کررہیں جن کا مقصد خالصتا معاشی مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔
سوال یہ ہے کہ اگر بااثر اقوام دنیا میں اصلاح احوال کے حوالے سے اپنا موثر کرداد ادا نہیں کریں گی تو اس کراہ ارض پر ایسے حالات کا ظہور کیونکر ہوگا جہاں امن اور سلامتی ترجیح اول کہلائی گی۔ عصر حاضر میں امریکہ اور برطانیہ کا عالمی سیاست میں کردار یقینا ایسا نہیں ہے جس کی داد دی جاسکے۔ شائد یہی وجہ ہے کہ مظلوم اقوام گزرے ماہ وسال کے برعکس اب کسی طور پر دونون ممالک پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں۔
ڈاکڑ عمران فاروق قتل کیس ہو یا حالیہ ہی میں ختم ہونے والا منی لائنڈرنگ کیس دونوں کی درپردہ وجوہات سیاسی نظر آتی ہیں۔ایم کیوایم کی کراچی کی سیاست میں حثیثت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اس امکان کو کسی صورت مسترد نہیںکیا جاسکتا کہ متحدہ قومی موومنٹ کے بانی کی سیاسی حثثیت سے فائدہ اٹھانے کے لیے سات سمندر پارسے مسلسل کوشیش کی جارہیں۔ کراچی میں آگ اور خون کاکئی دہائیوں سے جاری رہنے والا کھیل بلاوجہ نہیں۔ لسانی سیاست کی آڈ میں کراچی کی بندگارہ کو قابو کرنے کی کوشیش قیام پاکستان سے لے کر مسلسل جاری وساری رہیں۔ برطانیہ نے پاکستان اور بھارت کی شکل میں ہندوستان کے دو حصے تو کردیے مگر اس کے معاشی مفادات اس خطے سے مسلسل جڑے ہوئے ہیں۔ ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہے کہ عالمی سیاست میں انسانی جان کی حرمت سے کہیں بڑھ کر معاشی اور سیاسی مفادات ہیں جن کے حصول کے لیے سینکڑوں نہیں ہزاروں معصوم لوگوں کا خون بہانا بھی قطع معیوب نہیںسمجھا جاتا ۔
پاکستان میں تازہ برطانوی فیصلہ یقینا مثبت اثرات مرتب نہیں کریگا۔ اسی موقف کو مذیر پذائری ملنے کا امکان ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ شہرقائد میں آگ اور خون کے کھیل میںبیرونی قوتیںملوث ہیں ۔کراچی کی سیاست میں حالیہ دنوں میں بڑی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔پاکستان مخالف نعرے لگانے والے ایم کیوایم کے بانی کو ان کی اپنی جماعت نے مسترد کردیا ۔ آنے والے دنوں میں اس بات کا قوی امکان ہے کہ الطاف حسین بتدریج کراچی میں اپنی حمایت کھو دیں۔بظاہر برطانوی حکام کو یقین نہیں کہ ایم کیوایم کے بانی کا سیاسی مسقبل روشن نہیں رہامگر حقیقت یہ ہے کہ کراچی میں جاری ٹارگٹیڈ آپریشن کے نتیجے میں ان عناصرکے لیے زمین تنگ کردی گی ہے جو علاقائی اورعالمی طاقتوں کے ایماءپر روشنیوں کے شہر کو یرغمال بنانے کا کھیل طویل عرصے سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اس رائے کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ برطانیہ کی کراچی میں اہمیت آنے والے کئی سالوں تک کم نہیں ہونے والی چنانچہ ایم کیوایم بانی کے لیے لندن کے پالیسی ساز حلقوں میں نرم گوشہ بھی موجود رہیگا۔ اب یہ زمہ داری پاکستان کی ہے کہ وہ شہرقائد کو سات سمندر پارسے کنڑول کرنے کا کھیل کب اور کیسے ختم کرتا ہے۔

Scroll To Top