پارلیمنٹ کی عمر تین سال سے زیادہ نہیں ہونی چاہئے۔۔۔ 11-11-2009

گزشتہ دنوں کسی ٹی وی پروگرام میں دوران گفتگو میرے منہ سے خود بخود نکل گیا تھا کہ اگر پاکستان میں جمہوریت کا مستقبل خوشگوار بنانا مقصود ہے تو دیگر آئینی اصلاحات کے ساتھ ایک یہ بھی ہونی چاہئے کہ پارلیمنٹ کی عمر پانچ سال سے گھٹا کر تین سال کردی جائے۔
آج میں اپنی اس تجویز کی وضاحت کرناچاہتا ہوں۔ پانچ سال کی مدت ہم نے برطانوی پارلیمنٹ کو سامنے رکھ کر متعین کررکھی ہے ۔ یہی مدت بھارت نے بھی اپنی پارلیمنٹ کے لئے اختیار کی ہے۔ میں بھارت کی مثال سامنے اس لئے نہیں رکھنا چاہتا کہ بھارت کو میں ایک ناکام جمہوریت سمجھتا ہوں۔ اس کے مقابلے میں چین کے مطلق العنان نظام کو سامنے رکھیں۔ وسائل اور آبادی کے لحاظ سے دونوں ممالک میں بہت زیادہ فرق نہیں لیکن اقتصادی ترقی میں چین اتنا آگے جاچکا ہے کہ بہت جلد وہ دنیا کی دوسری بڑی معیشت کے طور پر جاپان کی جگہ لے لے گا۔ میں مطلق العنان حکمرانی کو جمہوریت پر برتر ثابت کرنا نہیں چاہ رہا۔ صرف اس بات پر زور دے رہا ہوں کہ جمہوریت کا برطانوی ماڈل اختیار کرکے بھارت نے اپنے کرپٹ سیاستدانوں کو ” زیادہ لمبی مدت حکمرانی“ کی سہولت دے دی۔ اگربھارت میں بھی سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کو ہر تین سال بعد عوام کا سامنا کرنا پڑتا تو وہ ” کرپشن کابازار“ سجانے میں ذرا احتیاط برتتے۔
یہاں دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا کی دوسری بڑی معیشت رکھنے والا ملک یعنی جاپان ہر دو برس بعد ایک نئے انتخابی عمل سے گزرتا ہے۔ اور سب سے بڑی معیشت یعنی امریکہ کے صدر کی مدت چار برس ہے۔
پانچ برس صرف ان ممالک کے لئے موزوں قرار دیئے جاسکتے ہیں جہاں تعلیم کا معیار بہت بلند ہو۔ ہم کسی بھی لحاظ سے برطانیہ کی نقل کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ برطانیہ کی جمہوریت بے شمار طوفانوں سے گزر کر نکھری ہے۔
ہمارے سیاست دان اگر اپوزیشن میں ہوں تو پانچ برس تک انتظار کرنا ان کے بس سے باہر ہوجاتا ہے۔ اور وہ حکومت کو گرانے کی کوششوں میں لگ جاتے ہیں۔
اور اگر حکومت میں ہوں تو کرپشن کی طویل منصوبہ بندی کرتے وقت انہیں ذرا زیادہ اطمینان ہوتا ہے۔
اگر ہمارے ملک میں کم ازکم پانچ انتخابات تین تین سال کی مدت کے بعد ہوجائیں تو خود فوج بھی جمہوری نظام کے ساتھ چلنے کی عادی ہوجائے گی۔

Scroll To Top