یاد کرو اپنے اس نبی ﷺ کی عظمت اور سچائی کو جس کے ہم غلام ہیں !

گزشتہ شب نیوز چینل92 نے اپنے گیارہ بجے رات کے نیوز بلٹین میں اچانک یہ اعلان کرنا شروع کردیا کہ کسی ” صاحب ِنظر “ نے دیکھا ہے کہ چاند پر ” یاحسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ “ لکھ دیا گیا ہے۔
یہ اعلان نیوز کاسٹر نے کچھ اس شدت اور والہانہ انداز میں بار بار کیا کہ مجھے یقین ہے کہ عالم ِ بالا میں بھی کھلبلی مچ گئی ہوگی۔
دیکھتے ہی دیکھتے ہزاروں دیگر ” مشتاقانِ دید“ بھی یہ گواہی دینے کے لئے سامنے آگئے کہ اللہ تعالیٰ نے واقعی اپنی شانِ کریمی دکھانے کے لئے چاند پر ” یا حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ “ لکھ دیا ہے۔
میں اسے اللہ تعالیٰ کا ” معجزہ“ کہوں یا ” عقیدت“ کا کمال۔۔۔ لیکن اس طرح کی باتیں پہلی بار سامنے نہیں آئیں۔
مجھے یاد ہے کہ برسہا برس قبل دنیا بھر میں ” زہرہ فومی“ نامی ایک ایسی عورت کا بڑا چرچا ہوا تھا جو حاملہ تھی اور جس کے پیٹ سے بچہ بولتا تھا۔ اس عور ت کا تعلق انڈونیشیاسے تھا۔
کئی دنوں تک ” ماں کے پیٹ میں بولتا“یہ بچہ اخبارات کی زینت بنا رہا۔ پھر خبر آئی کہ یہ سارا کمال شعبدہ بازی اور مہارت سے چھپائے گئے ایک مائیکرو فون کا تھا۔
ابھی کچھ ہی برس ہوئے اسلام آباد میں یہ خبر کئی دن تک اخبارات کی زینت بنی رہی کہ ایک پل کے نیچے بہتے نالے میں ” بونوں کی ایک بستی “ نمودار ہوئی ہے۔ اور بہت سارے لوگوں نے ان ” بالشت بھرانسانوں “ کو چلتے پھرتے دیکھا ہے۔
میں خود متذکرہ پُل کو دیکھنے گیا۔ اور اس نتیجے پر پہنچا کہ انسان کے دماغ کا کمال ہے کہ وہ جو چاہے دیکھ سکتا ہے۔ حتیٰ کہ پانی کی لہریں اس کی نظروں میں بونوں کا روپ دھار لیتی ہیں۔
انسان کس قدر توہم پرست اور کمزور ہے!
ویسے یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آپ ” فوٹو شاپ“ کے ذریعے مریخ پر انسانوں کی ایک بستی بھی دکھا سکتے ہیں جس میں حضرت عیسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے جاں نثاروں سے خطاب کرتے نظر آئیں گے۔۔۔
اللہ تعالیٰ نے ہمارے رسول ﷺ کو اتنے آلام اور مصائب سے کیوں گزارا۔ ؟ کیا وہ اپنی کرشمہ سازی سے غزوہ بدر ` غزوہ احد اور غزوہ حنین کے بغیر ہمارے رسول ﷺ کو سرخرونہیں کرسکتا تھا۔؟
لوگو اپنے رسول ﷺ کو یاد کرو۔۔۔
جب آپ ﷺ کا صاحبزادہ ابراہیم دفن کیا جارہا تھا تو سورج گرہن ہوا تھا ۔ مدینہ میں یہ بات گردش کرگئی تھی کہ اللہ تعالیٰ آنحضرت ﷺ کے فرزند کا سوگ منا رہاہے۔ آپ ﷺ کو خبر ہوئی تو مسجد نبوی ﷺ میں آئے اور لوگوں کو وہاں بلا کر کہا۔۔۔
” جو کچھ تم نے دیکھا یہ نظام ِقدرت ہے۔ اس کا کسی انسان کی زندگی یاموت سے کوئی تعلق نہیں ۔اللہ تعالیٰ نہ تو کسی کے مرنے پر سوگ مناتا ہے اور نہ ہی کسی کے جینے پر خوشی۔۔۔“

Scroll To Top