پہلے انقلاب۔۔۔ پھر جمہوریت 10-10-2009

اس حقیقت میںکسی شک وشبہ کی گنجائش نہیںکہ جس پارلیمانی جمہوریت کی شان میں ہمارے حکمران طبقے قصیدے پڑھا کرتے ہیں اس کا فیض بھی صرف ان حکمران طبقوں کو ہی حاصل ہوتا رہا ہے۔ ان حکمران طبقوںکی خوش قسمتی یہ ہے کہ اگر پارلیمانی جمہوریت اپنی روایتی انداز میںموجود نہ ہوتو اس کی جگہ ”فردواحد“ کا جو نظام لیا کرتا ہے اس کی ”برکات“ بھی صرف ان کے ہی حصے میں آتی ہیں۔
پاکستان کو ابھی تک ان ہی دو ”نظام ہائے حکومت“ سے سابقہ پڑا ہے۔ یعنی ایک وہ ”پارلیمانی جمہوریت“ جس میںملک کے متمول بااثر اور طاقتور طبقے اپنی امارت کے بل بوتے پر عوام کے ووٹ حاصل کرکے اقتدار کے ا یوانوں میںپہنچتے رہے ہیںاور ایک وہ ”شخصی آمریت“ جو بندوق کے زور پر اقتدار کے ایوانوںپر قابض ہوتی رہی ہے اور جو ملک کے حکمران طبقوں کے کسی نہ کسی گروہ کو اپنے ساتھ ملا کر حکومت کرتی رہی ہے۔ یہ درست ہے کہ ”بندوق“ کی طاقت ”دولت“ کی طاقت سے ہمیشہ زیادہ موثر ثابت ہوتی رہی ہے۔مگر یہ ہرگز درست نہیںکہ ہم ”دولت“ کی طاقت کو عوام کی طاقت قراردیں۔عوام تو دولت کی طاقت کے سامنے اتنے ہی بے بس ہوا کرتے ہیںجتنے بے بس وہ بندوق کی طاقت کے سامنے ہوتے ہیں۔ فرق صرف ایک ہے اور وہ یہ کہ جب جمہوریت کی آمد کا مژدہ سنایا جاتا ہے تو عوام کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ آﺅ انتخابی عمل میںحصہ لے کر اقتدار میںشریک ہو جاﺅ۔ چند دنوں کے لئے عوام واقعی اس سحرانگیز خوش فہمی میںمبتلا ہو جایا کرتے ہیںکہ دیکھو تمہارے ووٹوں میںکتنی طاقت ہے، جس رہزن کو چاہو اقتدار کے ایوانوں میںپہنچا سکتے ہو۔
چند سالوں کے بعد ایک دن واقعی ایسا آیا کرتا ہے جب عوام اپنی طاقت کا استعمال کرتے ہیں۔مگر اس ایک دن کے گزرنے کے بعد وہ سالہا سال تک اپنے فیصلے کے نتائج بھگتتے رہتے ہیں۔ درمیان میںبندوق کی طاقت آنمودار ہوتی ہے تو وہ چند روز کے لئے اطمینان کاسانس لیتے ہیںکہ شاید اب رہزنوں سے جان چھوٹ جائے ۔
یہی ہماری جمہوریت کی کہانی ہے۔ اگرجمہوریت کا مطلب اپنے لیڈر کا انتخاب کرنا ہے تو پاکستان میںجمہوریت آج تک نہیں آئی۔
اگر جمہوریت کا کوئی ثنا خواں یامدح سرا کسی ایسے شخص کانام سامنے لے آئے جسے عوام نے براہ راست اپنے ووٹوں سے اپنا لیڈر اور حکمران منتخب کیا تھا تو میںاپنے الفاظ بھی واپس لے لوںگا اور قوم سے معافی بھی مانگ لوں گا۔
ہمیں جمہوریت کے نام پر ایک بہت بڑا فریب دیاجاتا رہا ہے۔ یہ فریب ہمیںہمارے وہ حکمران طبقے دیتے رہے ہیںجو اپنے وسائل اور دولت کے زور پر منتخب ہوتے ہیں، اور منتخب ہونے کے بعداپنے وسائل اور اپنی دولت میںاضافے کی ”جدوجہد“ میںلگ جایا کرتے ہیں۔
میںنے ”ایوبی عہد“ سے لے کر”عہدزرداری“ تک جو کچھ دیکھا ہے اس کے بعد اس نتیجے پر پہنچے بغیر نہیںرہا کہ یہاں پہلے انقلاب آئے گا۔ اور پھر حقیقی جمہوریت۔
انقلاب کا مطلب انقلاب کے سوا اور کچھ نہیں۔
اگرکوئی جاننا چاہتاہے کہ انقلاب سے میری مرادکیا ہے تو میں اسے ساتویںصدی کے مدینہ کی طرف لے جانا چاہوںگا۔ظالم جب زیر ہو جائیں اور مجبور حاکم بن جائیںتو جونظام جنم لیتا ہے اسے انقلاب کہتے ہیں۔
مجھے یقین ہے کہ پاکستان بھی ایک ایسے ہی انقلاب کی طرف بڑھ رہا ہے۔
کسی روز جب قریش مکہ سوکراٹھیںگے تو انہیںمعلوم ہوگا کہ بلال حبشی رضی اللہ عنہ کعبہ کی چھت پر چڑھ کر اذان دے رہا ہے۔

Scroll To Top