عمران خان ایک ہدف بھی رہا ہے۔۔۔ اور ایک عزم بھی ۔۔۔۔

aaj-ki-baat-new-21-aprilمیاں نوازشریف کی شاہانہ نوازشات سے فیض پانے والوں کی صفوں میں ایک عجیب بے یقینی اور وحشت کا سماں ہے۔۔۔ انہیں یقین ہی نہیں آرہا کہ جس شخص کو انہوں نے اپنا ” ان داتا“ بنا رکھا تھا اور جس کی بادشاہت نے ان پر برکات کی بارش کررکھی تھی اسے تاریخ نے کھینچ کر اپنے کباڑخانے میں پھینک دیا ہے۔۔۔ اس بے یقینی کی منہ بولتی تصویر خواجہ سعد رفیق ہیں جنہوں نے پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ سے مخاطب ہو کر ایک تاریخی جملہ بولا تھا۔۔۔ ” ہم لوہے کے چنے ہیں ۔۔۔ ہمیں چبا نہیں پاﺅ گے۔۔۔“
جب لوہے کے چنے خشک پتے بن کر اڑے اور میاں صاحب کا آفتابِ اقبال ہمیشہ ہمیشہ کے لئے غروب ہوگیا تو خواجہ سعد رفیق نے خود ہی نوحہ پڑھ ڈالا۔۔۔ ” ہم تو گئے عمران خان ۔۔۔ مگر تم بھی 62-63کی تلوار سے بچ نہیں پاﺅ گے۔۔۔“
میں اس بات پر میاں نوازشریف کو کریڈٹ دیئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ انہوں نے بیس برس قبل ہی بھانپ لیا تھا کہ عمران خان کی صورت میں ان کے اقتدار کے لئے ایک بڑا خطرہ پیدا ہوچکا ہے۔۔۔ چنانچہ 1997ءمیں ہی میاں صاحب نے عمران خان کی کردار کشی کے لئے ایک خصوصی سیل قائم کردیا تھا۔۔۔ 1997ءمیں اس سیل کے کرتا دھرتا خلیل ملک مرحوم اور جناب پرویز رشید تھے۔۔۔
عمرا ن خان کی کردار کشی کے لئے جو حکمت عملی تیار کی گئی اس میں انہیں ایک زانی اور عیاش ”پلے بوائے “کے روپ میں پیش کرنا ایک بنیادی ضرورت تھی۔۔۔ اِس مقصد کے لئے انہوں نے سیتاوائٹ کی کہانی کو زندہ کیا۔۔۔ اور تب سے اب تک ” نونی کیمپ“ اِسی امید پر قائم ہے کہ کسی نہ کسی طرح کبھی نہ کبھی عمران خان 62-63کی زد میں آکر قصہءپارینہ بن جائیں گے۔۔۔ پاکستان کی تاریخ میں شاید ہی کوئی شخص گناہ کبیریٰ اور صغیریٰ کے اتنے سارے الزامات کی زد میں آیا ہو جتنے الزامات نون لیگ کے خصوصی ” عمران سیل “ نے گھڑ کر پھیلائے ہیں۔۔۔ ان کے کھاتے میں زنا کاری سے لے کر کوکین وغیرہ جیسی منشیات باقاعدگی سے ڈالی جاتی رہی ہیں۔۔۔مقصد عمران خان کے حامیوں کے دلوں میں شکوک وشہبات پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ عمران خان کے خلاف نون لیگ کے حامیوں کی نفرت کو زیادہ مستحکم بنانا رہا ہے۔۔۔
میاں نوازشریف نے جھوٹ کا ہتھیار جس تواتر اور کامیای کے ساتھ استعمال کیا ہے اس کا اندازہ اِس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان کے حامیوں میں اب بھی ایسے جنونی موجود ہیں جو سمجھتے ہیں کہ ان کے ” محبوب وزیراعظم “ کو سچ مچ ایک بین الاقوامی سازش کے نتیجے میں ہٹایا گیا ہے اور سپریم کورٹ کے جج ` جے آئی ٹی کے ارکان ` فوج کے جنرل ` عمران خان اور کچھ اینکر پرسن تجزیہ کار اور صحافی ۔۔۔ سب کے سب اس سازش میں ” نامعلوم “ بیرونی طاقتوں کے آلہ کار ہیں۔۔۔
نون لیگ کے کیمپ سے مجھے اکثر ” محبت نامے“ موصول ہوتے رہتے ہیں جن میں گالیوں کا انتخاب شائستگی کے تمام تقاضوں کو نظر انداز کرکے کیا جاتا ہے۔۔۔
ایک بات کی وضاحت میںیہاں پورے زور کے ساتھ کرنا چاہتا ہوں۔۔۔
میں نے عمران خان کے” کاز“ کے لئے اپنے بہت سارے وسائل ضرور استعمال کئے ہوں گے لیکن عمران خان کا مجھ پر کوئی احسان نہیں۔۔۔ میں اللہ تعالیٰ کا شکرگزار ہوں کہ اس نے مجھے کسی بھی بڑے آدمی یا حکمران کے کسی احسان کے بوجھ تلے آنے نہیں دیا۔۔۔ میں خود مختار تھا ` خود مختار ہوں او ر خود مختار رہوں گا۔انشااللہ۔۔۔ میرا اپنا ضمیر اور اپنا شعور ہی میرا آجر رہاہے۔۔۔
بات میں عمران خان کی کررہا تھا۔۔۔مجھے عمران خان کا قریبی دوست ہونے کا دعویٰ نہیں ۔۔۔ مگر ہمارے درمیان باہمی احترام پسندیدگی اور وابستگی کا رشتہ تقریباً انیس برس سے ہے۔۔۔ 2008ءسے 2011ءتک کے ایام میں مجھے عمران خان کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔۔۔
اس غیر معمولی شخص کے بارے میں ایک بات میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں۔۔۔ وہ جھو ٹ نہیں بولتا۔۔۔ اسے جھوٹ بولنا آتا ہی نہیں۔۔۔
ایک بار ہمارے درمیان بڑی نجی نوعیت کی گفتگو ہوئی تھی۔۔۔
” اکبر بھائی ۔۔۔میں جو کچھ بھی ہوںاپنی ماں کی بدولت ہوں۔۔۔ میرے اندر کمزوریاں رہی ہیں اور ان کمزوریوں پر میں اللہ تعالیٰ کے حضور شرمندگی کا اظہار بھی کرچکا ہوں۔۔۔ لیکن جمائما کے ساتھ شادی کرنے کے بعد میری زندگی میں کوئی عورت نہیں آئی۔۔۔ میں نے حدود کا احترام پوری ثابت قدمی کے ساتھ کیا ہے۔۔۔ شراب میں نے زندگی میں کبھی نہیں پی۔۔۔ او ر اس کی وجہ میری ماں تھی۔۔۔ ورنہ جیسے میرے دوست تھے ` جیسا میرا حلقہ ءاحباب تھا۔۔۔ جیسی میری سوسائٹی تھی ` اس میں شراب کا میرے ہونٹوں سے دور رہنا معجزے سے کم نہیں۔۔۔ پھر بھی میں گناہگار ہوں۔۔۔ اگرچہ میرے گناہ وہ نہیں جو گنائے جاتے ہیں۔۔۔ میری خوش قسمتی یہ ہے کہ آپ جیسے لوگ بھی میری زندگی میں آتے رہے ہیں۔۔۔“
میں عمران خان کی ایک ایک بات کو سچ مانتا ہوں۔۔۔ سوائے اُن باتوں کے جو انہوں نے میرے ساتھ کی ہی نہیں۔۔۔
وہ باقاعدگی سے نماز پڑھتے ہیں ۔باقاعدگی سے روزے رکھتے ہیں۔۔۔ زکوٰہ بھی باقاعدگی سے دیتے ہیں۔۔۔ اور ان کی زندگی میں نہ تو نمود ہے ` نہ تصنعّ اور نہ تکبّر۔۔۔
اور میں ایک بات کا یہاں اضافہ کروں گا۔۔۔ عمران خان غیر معمولی ذہانت بھی رکھتے ہیں۔۔۔آج میاں نوازشریف کے ” غروب “ کے بعد عمران خان جہاں کھڑے ہیں وہاں پہنچنے کے لئے صرف اول العزمی دلیری اور ثابت قدمی کافی نہیں تھی ۔۔۔ ذہانت بھی درکار تھی۔۔۔
لیکن یہاں یہ بات بھی سچ ہے کہ اگر یہ چیف جسٹس نہ ہوتا۔۔۔ یہ چیف آف آرمی سٹاف نہ ہوتا۔۔۔ یہ پانچ جج نہ ہوتے اور جے آئی ٹی کے یہ چھ غیر معمولی ارکان نہ ہوتے۔۔۔ تو عمران خان کہاں ہوتا۔۔۔؟
یہ اکیلے عمران خان کی جنگ نہیں۔۔۔ ہر اس شخص کی جنگ ہے جو پاکستان اور اس کی نظریاتی اساس سے محبت کرتا ہے۔۔۔۔

Scroll To Top