خواجہ سعد رفیق صاحب۔۔۔ فتح مکہ کے بعد کیا ہوا تھا؟

aaj-ki-baat-new-21-april28جولائی2017بروز جمعہ پاکستان کی عدلیہ نے ہماری تاریخ میں جس روشن باب کا اضافہ کیا اس پر قوم جتنا بھی فخر کرے کم ہے۔

عدلیہ کے پانچوں ججوں اور سپر یم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے قانون کی حکمرانی کے عظیم تصور کے ساتھ اپنی وفاداری کا حق ادا کیاہے۔
اس ضمن میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی انتھک جدوجہد اور کرپشن سے پاک نظام کے قیام کی منزل کی طرف اُن کی پُرعزم پیش قدمی کو خراجِ تحسین پیش نہ کرنا زیادتی ہوگی۔
اس سے بھی بڑی زیادتی ان جری بہادر اور اول العزم اراکین جے آئی ٹی کی کاوشوں سے منہ موڑنا ہوگا جن کی وجہ سے یہ عظیم الشان کا مرانی قوم کے مقدر میں لکھی گئی ہے۔
میرا ذہن یہاں فتحِ مکہ کی طرف جا رہا ہے۔جس ہزیمت کا سامنا سرداران مکہ کو”فتحِ مکہ“ پرکرنا پڑا اس کا سبق اموز منظر حضرت امیر حمزہؓ کی قاتلہ ہندہ کا قبولِ اسلام تھا۔ لیکن میں اپنے قارئین کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ سطوتِ اسلام کی سب سے بڑی جنگ فتح مکہ کے بعد لڑی گئی تھی۔ اسے ہم غزوئہ حنین کے نام سے جانتے ہیں۔
اگر آپ نے خواجہ سعد رفیق کی گفتگو سنی ہے تو آپ سمجھ جائیں گے کہ میں کیا کہہ رہا ہوں۔
خواجہ سعد رفیق نے کہا۔
”ایک شریف گیا تو ہم دوسرا سامنے لائے ہیں۔ دوسرا بھی گیا تو ہم تیسرا شریف سامنے لائیں گے۔“
خواجہ صاحب۔۔ حنین کا انتظار کریں۔۔ پھر مکہ کے سارے ”شریف “تاریخ کے کباڑ خانے میں پھینک دیئے جائیں گے۔
پاکستان ”خاندانِ شریفان“ کہ لئے نہیں بنا تھا۔

Scroll To Top