صرف ایک آئین ایسا ہے جس سے انحراف غداری کے زمرے میں آتا ہے 15-11-2011

kal-ki-baatچوہدری نثار علی کا فرمانا ہے کہ فوج اورآئی ایس آئی نے اپنی مرضی کی قیادت سامنے لانے کے عمل کا آغاز کردیا ہے۔
وزیراعظم صاحب کا فرمانا ہے کہ غیر آئینی تبدیلی برداشت نہیں کی جائے گی ۔” نجومیوں کی پیشنگوئی سے آئے ہیں نہ ہی جائیں گے۔“
وزیراطلاعات نے بھی فرمادیا ہے کہ بعض لوگ بُلٹ سے بیلٹ کی طاقت ہائی جیک کرنا چاہتے ہیں۔
اِدھر عمران خان نے کہا ہے کہ اگر اگلاالیکشن فراڈ کے ذریعے ” چرانے “ کی کوشش کی گئی تو تحریک انصاف ملک بھر میں نظامِ زندگی معطل کردے گی۔
یہ سب ایک ہی دن کی خبریں ہیں۔ اس سے ایک رو ز قبل چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری فرما چکے ہیں کہ آئین توڑنے کے عمل کو بغاوت سمجھا جائے گا۔یہ بات انہوں نے فوج سے مخاطب ہو کر کہی۔
ان تمام خبروں کو ملا کر صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو لگتا ہے کہ ملک پر ایک ایسی سوچ مسلط ہوچکی ہے جو سول سوسائٹی اور فوج کو ایک اکائی کا حصہ سمجھنے کی بجائے متحارب قوتوں کا درجہ دیتی ہے۔ میں یہاں اس سے زیادہ تبصرہ نہیں کرنا چاہتا کہ یہ سوچ پاکستان کے لئے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے ۔ اس ملک کا ایک ایک سچا شہری (خواہ وہ سول ہو یا فوجی)اِس ملک اور اُس کی اساس سے محبت کرتاہے۔اگر ملک کو کوئی خطرہ ہے تو ان مٹھی بھر لوگوں سے ہے جو اقتدار پر قابض رہنے کے لئے قوم کا بنیادی مفاد بھی قربان کرسکتے ہیں۔
وزیراعظم صاحب بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ موجودہ حکومت کس ” انتظام “ کے تحت قائم ہوئی تھی۔ اور یہ بات سمجھنے میں انہیں زیادہ دشواری پیش نہیں آنی چاہئے کہ ایک کروڑ ووٹوں کے ذریعے اٹھارہ کروڑ عوام کا مستقبل یرغمال نہیں رکھاجاسکتا۔
جہاں تک چیف جسٹس کے اس عہد کا تعلق ہے کہ وہ آئین کو پامال نہیں ہونے دیں گے تو وہ اپنے آپ سے یہ سوال ضرور کریں کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کی بے حرمتی آئین کی پامالی کے زمرے میں آتی ہے یا نہیں ۔؟
میں اِس ” دقیانوسی“ سوچ کو پالنے والے کلمہ گوﺅں کے گروہ سے تعلق رکھتاہوں جن کی نظروں میں ہمارا حقیقی آئین وہی ہے جو چودہ سو برس قبل نزول قرآن کے ساتھ نافذ ہوا تھا۔ میری نظروں میں غداری کا ارتکاب وہ لوگ کررہے ہیں ` جو ہمارے اُس آئین کی دھجیاں بکھیرتے وقت کوئی خوف محسوس نہیں کرتے۔
میرے لئے فوج ` سول سوسائٹی اور آئین وغیرہ سب محض اصطلاحیں ہیں۔ سچائی صرف وہ ہے جس کا پرچم لے کر ہمارے رہبراعظم ایک تاریک رات کو مکہ سے نکلے تھے۔ اگر کوئی اس سچائی کو سمجھنا چاہتا ہے تو نعرہءتکبیر بلند کرے۔
اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر
حقیقی حاکمیت صرف اللہ کی ہے۔ نہ کسی آئین کی ` نہ سول سوسائٹی کی اور نہ ہی فوج کی۔۔۔

Scroll To Top