اس نظام کو سولی پر لٹکائے بغیر قوم کی تقدیر نہیں بدلے گی

aaj-ki-baat-new-21-aprilآج کل لٹکائے جانے اور سڑکوںپر گھسیٹے جانے کا چرچا کافی کثرت سے ساتھ ہورہا ہے۔ اس چرچے میں جو شخصیات کلیدی حیثیت رکھتی ہیں ` میرے نزدیک وہ کوئی اہمیت نہیں رکھتیں۔ میرے نزدیک اہمیت اس بات کی ہے کہ اگر یہ مملکت ہم نے واقعی اپنی مسلمانی کی لاج رکھنے اور اسلام کے آفاقی اصولوں کو ایک ریاستی سانچے میں ڈھالنے کے لئے حاصل کی تھی تو اب وقت آگیا ہے کہ وافر تعداد میں تختے اور پھندے تیار کئے جائیں اور ساتھ ہی ان گردنوں کی نشاندہی کی جائے جن کا وجود اس ملک کے لئے ` اس قوم کے لئے اور اس معاشرے کے لئے باعثِ شرم ہے۔

ان درندوں کو زندہ رہنے کا کیا حق ہے جن کی حیوانی جبلتیں ایک پانچ سالہ بچی پر بھی رحم کرنے کے لئے تیار نہیں۔؟
ان ہوس پرست شیطانوں کے وجود کو کیوں برداشت کیا جائے جو اپنی ماں(حوا )کی بیٹیوں کو اپنی نفسانی خواہشات کی سولی پر چڑھاتے وقت نہ تو خدا کا خوف محسوس کرتے ہیں اور نہ ہی قانون کا۔؟
اور حرص و طمع کے ان پجاریوں کو ہم معافی کے قابل کیوں سمجھیں جنہوں نے قوم کی رہبری کا لبادہ اوڑھ کر ` عوام کی خدمت کرنے کے لمبے چوڑے دعوﺅں کے ساتھ بے رحمانہ ”رہزنی“ سفاکانہ ”ڈاکہ زنی“ اور ناقابل ِ یقین لوٹ مار کو اپنا شعار بنا رکھا ہے۔؟
جو معاشرہ اپنے اتنے بڑے مجرموں کا وجودبرداشت کرنے کی عادت ڈال لیتا ہے اس کے مقدر میں صرف اندھیرے ڈال دیئے جاتے ہیں ` صرف بربادیاں لکھ دی جاتی ہیں۔
چیف جسٹس صاحب تو آئین کی حفاظت کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہیں ` اور جنرل کیانی جمہوریت کو پروان چڑھانے کے جذبے سے سرشار دکھائی دیتے ہیں۔ پھر اس ملک کو تباہی سے کون بچائے گا ` اور اس کے عوام کی تقدیر بن جانے والی ظلمتوں کو کون بھگائے گا۔؟
جب ہم بات نظام بدلنے کی کرتے ہیں تو کیا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ جو نظام ہماری امنگوں کا قاتل اور ہماری بربادی کا سبب بنا ہوا ہے اسے تختہءدار پر لے جاکر اس کی گردن میں پھندا ڈال دیا جائے۔۔۔؟
اس نظام کو سولی پر لٹکائے بغیر قوم کی تقدیر نہیں بدلے گی۔۔۔
(یہ کالم 3نومبر2011کو شائع ہوا تھا لیکن حالات وہی ہیں صرف کچھ چہرے بدلے ہیں)

Scroll To Top