لوہے کا چنا چبایا نہیں جاتا آگ کی بھّٹی میںپھینک دیا جاتا ہے !

aaj-ki-baat-new-21-aprilمیر ا ذہن آج خود بخود اور خواہ مخواہ ماضی کی طرف جارہا ہے۔۔۔ جب میں نے روزنامہ کوہستان سے اپنی صحافتی زندگی کا آغاز کیا تھا تو مرحوم سعید جعفری کے یہ اشعار زبان زدِعام تھے۔۔۔
یہ سوال وجواب کیا کہنا !
صدر عالی جناب کیا کہنا !
کیا لکھایا ہے کیا پڑھایا ہے
قدرت اللہ شہاب کیا کہنا !
آپ نے مشہور کتاب ” شہاب نامہ “ کے بارے میں سناہوگا ۔۔۔ قدرت اللہ شہاب مرحوم اِسی کے مصنف تھے۔۔۔ وہ فیلڈ مارشل ایوب خان کے قریب ترین بیوروکریٹس میںشمار ہوتے تھے۔۔۔ الطاف گوہر مرحوم سے پہلے وہی وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات کے سیکرٹری تھے۔۔۔فیلڈ مارشل ایوب خان کو داد دی جانی چاہئے کہ وہ اپنے اقربا میں قدرت اللہ شہاب اور الطاف گوہر جیسے بے نظیر اہلِ دانش بھی رکھتے تھے۔۔۔ آپ شاید کہیں کہ ایسی داد میاں نوازشریف کو بھی ایک حد تک تو ضرور ملنی چاہئے۔۔۔ میں آپ کی اِس رائے سے کسی حد تک اتفاق ضرور کروں گا۔۔۔ میرے ذہن میں کبھی کبھی یہ مصرعہ ضرور گونجتا ہے۔۔۔
نذیر ناجی کیا کہنا۔۔۔!
مگر نذیر ناجی پرانے وقتوں کی بات ہیں۔۔۔
اس کے بعد یہ مصرعہ بھی گونجا۔۔۔
عطاءالحق قاسمی کیا کہنا!
اور آج کل یہ مصرعہ گونج رہا ہے۔۔۔
عرفان صدیقی کیا کہنا!
یہ کوئی مواز نہ یاتقابل نہیں۔۔۔۔ قدرت اللہ شہاب اور الطاف گوہر یقینا بڑے با کمال لوگ تھے۔۔۔وہ اپنے بلند مرتبوں پر قصیدہ گوئی کی بدولت نہیں پہنچے تھے۔۔۔
یہ امتیاز عطاءالحق قاسمی کو حاصل ہوا۔۔۔ او ر اب عرفان صدیقی کوبھی حاصل ہے۔۔۔
آپ نے گزشتہ دنوں میاں نوازشریف کو ایک تقریر میں بڑے جوشیلے انداز میں یہ کہتے سنا ہوگا۔۔۔
” جو اٹھتا ہے کہتا ہے۔۔۔ نوازشریف استعفیٰ دو۔۔۔
نوازشریف ان کے کہنے پر استعفیٰ دے گا؟“
میں نے یہ سن کر بے اختیار عرفان صدیقی کو داد دی تھی۔۔۔ اچھے اچھے شعر بھی عرفان صدیقی ہی میاں صاحب کو لکھاتے پڑھاتے ہیں۔۔۔
آج کل میاں صاحب عجیب امتحان میں ہیں۔۔۔ کبھی ان کا دل کہتا ہے۔۔۔ شہید ہو جاﺅ اور کبھی آواز آتی ہے ۔۔۔ غازی بنو۔۔۔
مجھے لگتا ہے کہ عنقریب عرفان صدیقی میاں صاحب کو حضرت خالد بن ولیدؓ جیسی”رجز “لکھ کر دیں گے“۔۔۔
سیف اللہؓ جب میدان جنگ میں جاتے تھے تو یہ رجز ان کے منہ پر ہوتی تھی۔۔۔
” صحرائے عرب میں وہ ماں پیدا نہیں ہوئی جو ایسا بچہ پیدا کرے جو جواں ہو کر میرے مقابلے پر آئے۔۔۔“
میں سمجھتا ہوں کہ میاں صاحب کے لئے رجز لکھتے وقت خواجہ سعد رفیق کے یہ الفاظ ضرور عرفان صدیقی کے ذہن میں ابھریں گے۔۔۔
” ہم لوہے کے چنے ہیں ۔۔۔“
میاں صاحب جب میدان میں نکلیں گے تو کہیں گے ۔۔۔
” میں لوہے کا چنا ہوں۔۔۔ چباﺅ گے تو دانت ٹوٹ جائیں گے ۔۔۔“
جواب آئے گا۔۔۔
” لوہے کا چنا چبایا نہیں جاتا ` آگ کی بھّٹی میں پھینک دیاجاتا ہے۔۔۔“

Scroll To Top