طالبان کا انتظار نہ کریں! 04-11-2011

kal-ki-baatجس تہذیب کے شکنجے میں ہمارا ملک اور ہمارا معاشرہ بری طرح کسا جا چکا ہے اور مزید بری طرح کسا جا رہا ہے اس کے بارے میں تقریباً ایک صدی قبل شاعرِ مشرق اور مفکرِ پاکستان علامہ اقبالؒ نے فرمایا تھا کہ ”یہ تہذیب خود اپنے خنجر سے خود کشی کرے گی“۔
ہنوز وہ لمحہ نہیں آیا کہ ہم کہہ سکیں کہ علامہ ؒ کی پیشگوئی درست ثابت ہو رہی ہے۔ اس کے برعکس ہم اس تہذیب کا خنجر مسلسل اپنے قومی و معاشرتی وجود کے سینے میں گھونپے جا رہے ہیں۔ چشمِ فلک دیکھ رہی ہے کہ ہم خودکتنی بے دردی کے ساتھ ان اقدارکی شکست وریخت اور پامالی میں مصروف ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ اس شکست و ریخت اور پامالی کو ہم نے ترقی اور روشن خیالی کا نام دے دیا ہے۔ جو کچھ میں کہہ رہا ہوں اس کو سمجھنے کے لئے ہمارے ٹی وی چینلز پر چلنے والے ”ٹیلی کمیونیکیشنز“ کے اشتہارات کافی ہیں۔ رات رات بھر جاگ کر ”سب کچھ کہہ دینے“ کی ترغیب دینے والے یہ اشتہارات ہماری اس نسل کی اخلاقی اقدار کی تشکیل کررہے ہیں جو کل اس ملک کا نظم و نسق سنبھالے گی۔ ستم ظریفی کی بات یہاں یہ ہے کہ ایسے ہی ایک اشتہار میں کام کرنے والے ایک گلوکار نے گذشتہ دنوں ملک کو سیاسی قیادت فراہم کرنے کی ٹھان لی اور مسلم لیگ (ن) اور تحریکِ انصاف کے مقابلے میں ایک ریلی نکال ڈالی۔
علامہ اقبالؒ نے اس تہذیب کی یلغار پر ان اشعار میں بڑا بھر پور تبصرہ کیا تھا۔
”خوش تو ہیں ہم بھی جوانوں کی ترقی سے مگر
لبِ خنداں سے نکل جاتی ہے فریاد بھی ساتھ
ہم سمجھتے تھے کہ لائے گی فراغت تعلیم
کیا خبر تھی کہ چلا آئے گا الحاد بھی ساتھ
گھر میں پرویز کے شیریں تو ہوئی جلوہ نما
لے کے آئی ہے مگر تیشہئِ فرہاد بھی ساتھ
تیشہئِ فرہاد سے مراد یہاں ”الحاد“ ہے اور الحاد سے مراد یہاں قرانی تعلیمات سے بغاوت ہے۔
علامہ اقبالؒ کی شاعری پڑھ کر پتہ چلتا ہے کہ یہ بغاوت آج کی نہیں دورِ غلامی سے چلی آرہی ہے۔
اس بغاوت کے خلاف ہی ”اقدار کی طرف واپسی“ کی تحریک شروع ہو رہی ہے۔ ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ اس تحریک کا آغاز مغربی ممالک میں رہنے والے مسلمانوں نے کیا ہے ۔ مگر وہ وقت دور نہیں جب یہ تحریک یہاں بھی پہنچے گی۔ اور جب پہنچے گی تو ”ثنا خوانِ ترقی“ چیخ چلا کر کہیں گے ”طالبان آ گئے۔۔۔۔!“
اگر معاشرتی اقدار کی تباہی و بربادی کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا طالبانائزیشن ہے تو پھر ترقی و روشن خیالی کی آڑ میں ایک حیوانی معاشرے کو فروغ دینے والے مکاتب ِفکر اپنی حفاظت کا بندو بست جلدی کرلیں۔ دور جاہلیہ کے بعد ہمیشہ اسلام آیا کرتا ہے۔

Scroll To Top