جب کوئی انقلاب آتا ہے تو نقوشِ کہن مٹا دیئے جاتے ہیں۔۔۔

aaj-ki-baat-new-21-aprilہرزبان کی اپنی اصطلاحات اور ترکیبیں ہوا کرتی ہیں۔ ترجمہ ان کا صحیح مفہوم ادا نہیں کر پاتا ۔ مثال کے طور پر انگریزی زبان سے ایک ترکیب آئی ہے۔ Status Quoانگریزی میں یہ ترکیب فرانسیسی اور لاطینی سے آئی ہوگی، کیونکہ Quo انگریزی کا لفظ نہیں۔ مفہوم اس کا یہ ہے کہ ”جو کچھ جیسا ہے ویسا ہی رہے یعنی جوں کا توں“۔ مقتدر قوتیں ہمیشہ اسی فلسفے پر ایمان رکھا کرتی ہیں کیونکہ جو کچھ جیسا ہے ویسا نہ رہے تو ان کی مقتدر حیثیت ختم ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر معاشرے کی مقتدر یا حکمران قوتیں ”سٹے ٹس کو“ (Stataus Quo) کا تحفظ کرنا اپنی اولین ترجیح سمجھتی ہےں۔ پاکستان کی تمام قابل ذکر سیاسی جماعتیں جو ”سٹے ٹس کو“ سے فیضیاب ہو چکی ہیں یا ہو رہی ہیں ¾ اسی بنیاد پر ”جمہوریت “ کے تسلسل کو اپنی بقاءکی ضمانت سمجھتی ہیں۔ جمہوریت جس انداز میں یہاں رائج ہے وہ انداز ہماری حکمران قوتوں کو اقتدار میں رکھنے کی ضمانت دیتا ہے۔ گذشتہ ربع صدی سے گھوم پھر کر وہی چار پانچ نام ہیں جو سیاست اور اقتدار کے حوالے سے آپ کی زبان پر آتے ہیں۔ آپ ان ناموں سے باہر نکل ہی نہیں سکتے ۔ ان ہی ناموں کے ساتھ چار پانچ سو دیگر نام نتھی ہیں جنہیں ہم ”عوامی نمائندے“ کہہ کر پکارتے ہیں۔ ان سب کے ملاپ سے ہمارا ملک کا حکمران طبقہ وجود پاتا ہے۔ انگریزی میں اس طبقے کو Eliteکہتے ہیں۔ اُردو میں اس کے لئے جو اصطلاح منتخب کی گئی ہے وہ ”اشرافیہ“ ہے جسے میں مناسب نہیں سمجھتا۔ صحیح اصطلاح”امرائ“ ہے ۔ انگریزی میں اسے ‘Nobility’ کہا جا تا ہے جس سے ہاﺅس آف لارڈز تشکیل پایا۔ برطانیہ میں جمہوریت اس لئے کامیابی سے ہمکنار ہوئی کہ وہاں ایک طویل جدو جہد کے نتیجے میں ”ہاﺅس آف کامنز “ کا وجود عمل میں آگیا۔ ہماری جمہوریت میں ”کامنز“ کا کوئی وجود نہیں۔ صرف لارڈز یعنی امرا ہیں۔ اور وہی ”سٹے ٹس کو“کی علامتیں ہیں۔ اور ان ہی سے عمران خان کا مقابلہ ہے۔

میں ”سٹے ٹس کو“ کی اصطلاح کو اردو میں ”نقوشِ کہن“ کا نام دوں گا۔
آنحضرت کے ورود مسعود کے وقت ابو جہل اور ابولہب علامتیں تھیںتمام ”نقوشِ کہن“ کی ۔ انہیں اسلام نے مٹا ڈالا ۔
علامہ اقبال نے اسی بنیاد پر کہا ۔
”جو نقشِ کہن تجھ کو نظر آئے، مٹا دو
انقلاب کا مطلب ہی نقوشِ کہن کو مٹانا ہے۔
عمران خان نقوشِ کہن کو مٹا پاتے ہیں یا نہیں یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ لیکن ایک بات یاد رکھی جانی چاہئے کہ ابو سفیانؓ بھی فتح مکہ تک نقشِ کہن ہی تھے۔ پھر انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔ جب کوئی انقلاب آتا ہے تو ایسا ہی ہوتا ہے۔
(اس سے پہلے یہ کالم 02نومبر2011ءکو بھی شائع ہوچکا ہے۔)

Scroll To Top