کہانی عمران خان کے محل کی 01-11-2011

kal-ki-baatعمران خان کے جس ” محل “ کا ذکر تحریک انصاف کے مخالفین بڑے زور وشور سے کرتے ہیں ` میں اس کی تلاش میں ہوں۔ مجھے کہیں نہیں ملا۔ جب سے تحریک انصاف بنی ہے میں تبھی سے عمران خان کو قریب سے جانتا ہوں۔ ان کے ساتھ میری ملاقاتیں ان کی زمان پارک لاہور والی آبائی رہائش گاہ پر بھی ہوئی ہیں اور اس حویلی نما مکان میں بھی جو بنی گالہ کی ایک پہاڑی پر واقع ہے۔ وہ ” محل“ جو اربوں روپے کی مالیت کا ہے اس کا دیدار بھی مجھے آج تک نصیب نہیں ہوا۔ ایک مرتبہ میں نے خان صاحب سے یہ شکوہ بھی کیا کہ وہ ” محل “ آپ نے کہاں چھپا رکھا ہے جس کا تذکرہ آپ کے پی پی پی اور پی ایم ایل (این)کے ” دوست “ کرتے رہتے ہیں ؟ عمران خان نے قہقہہ لگایا۔ اور جواب دیا ” اس وقت آپ اسی محل میں بیٹھے ہیں۔“
یہ موضوع میں نے آج اس لئے منتخب کیا ہے کہ لاہور میں تحریک انصاف کے تاریخ ساز اور ریکارڈ توڑ جلسے نے صرف نون لیگ کی صفوں میں ہی بوکھلاہٹ پیدا نہیں کی ` پی پی پی کے لیڈر بھی حواس باختہ ہوگئے ہیں۔
عمران خان کے پروگرام پر تبصرہ کرتے ہوئے سید فیصل رضا عابدی نے کہا ہے کہ اربوں کے محل میں رہنے والا شخص عوام کے دکھ درد کو کیسے سمجھ سکتا ہے۔
پہلے تو میں یہ سمجھا کہ عابدی صاحب اپنے آقا کے بارے میں خیال آرائی کررہے ہیں ` کیوں کہ زرداری صاحب نے گزشتہ برس پیرس جاکر اپنے ” آبائی محل“ میں قیام فرمایا تھا۔ اسلام آباد میں بھی وہ کسی جھونپڑی میں نہیں رہتے۔ اور جہاں تک کراچی کے بلاول ہاﺅس کا تعلق ہے اس پر بھی کسی کو کبھی کسی غریب خانے کا گماں نہیں ہوا۔
مگر عابدی صاحب بات بنی گالہ والے اس ” محل “ کی کررہے تھے جس کی تعمیر کئی مرتبہ اس لئے رُکی کہ خان صاحب کا ” شاہی خزانہ “ خالی ہوگیا تھا اور انہیں اسے بھرنے کے لئے کسی سپورٹس چینل کے ساتھ پروگرام کرنے پڑے تھے۔
بنی گالہ کے اس محل کی تعمیر سے پہلے خان صاحب ای سیون اسلام آباد میں کرائے کی ایک کوٹھی میں قیام فرما تھے۔ میں وہاں بھی ان کے پاس جایا کرتا تھا۔
اپنا مکان بنانے کا پروگرام ان کے ذہن میں تقریباً ان ہی دنوں بنا جب میں نے ایف الیون میں ہزار گز کا ایک پلاٹ ستر لاکھ روپے میں خرید کر اپنی ذاتی رہائش کی تعمیر شروع کی۔ آج اس مکان کی مالیت آٹھ کروڑ ہوچکی ہے۔ جب خان صاحب نے پہاڑی پر بنجر اور غیر آباد رقبہ اپنے متعدد دوستوں اور رشتہ داروں کے ساتھ مل کر خریدا تھا تو وہاں کی زمین کی قیمت کوڑیوں میں تھی۔ خان صاحب کے حصے میں جو رقبہ آیا اس کی کل قیمت تین کروڑ ادا کی گئی۔ تقریباً اتنی ہی رقم اس پر کھڑی کی جانے والی عمارت پر خرچ ہوئی۔ میرا دعویٰ ہے کہ چک شہزاد میں ایسے درجنوں فارم ہاﺅس تعمیر ہوچکے ہیں جن میں سے ہر ایک کی تعمیر پر خان صاحب کے محل سے کئی گنا زیادہ رقم خرچ ہوئی ہے۔
یہ درست ہے کہ سیاست الزامات کا کھیل ہے۔ مگر جو شخص خود چیلنج کررہا ہو کہ تمام ” امیدوارانِ اقتدار “ اپنے تمام اثاثوں کو سامنے لائیں تاکہ ان کی جانچ پڑتال ہوسکے اس کے ” فرضی محل“ پر پتھر پھینکنے والے یہ ضرور سوچ لیں کہ انہیں بھی احتساب کی دھار پر سے گزرنا ہے۔
وقت آگیا ہے کہ اپنے اثاثوں کے جھوٹے گوشوارے داخل کرکے قانون کی نظروں میں دھول جھونکنے والوں کو عوام گھسیٹ کر اپنی عدالت میں لے آئیں۔

Scroll To Top