عمران خان جانتے ہیں کہ صرف میاں نوازشریف کا جاناکافی نہیں ہوگا۔۔۔۔

aaj-ki-baat-new-21-aprilجب سے تاریخ کا پہیہ چلا ہے آسمان نے کرہءارض پر عجب عجب معجزے یا کرشمے رونما ہوتے دیکھے ہیں۔۔۔ ان میں سے ایک آج کل ہم پاکستان میں بھی دیکھ رہے ہیں۔۔۔ جنا ب آصف علی زرداری کی جماعت کے” روشن “ ستارے سید خورشید شاہ اورسید یوسف رضا گیلانی نظریاتی سیاست اور کرپشن سے پاک پاکستان کا ذکر بڑھ چڑھ کرکررہے ہیں۔۔۔ جن لوگوں نے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو نہایت مفکّرانہ اور مدّبرانہ انداز میں آنے والے دور کا نقشہ کھینچتے دیکھا اور سنا ہے وہ یقینا انگشت ِ بدنداں ہوں گے۔۔۔ اور ان لوگوں نے تو اپنی انگلی کوکاٹ بھی لیا ہوگا جنہوں نے سید خورشید شاہ کو یہ کہتے سنا کہ میاں نوازشریف کے نااہل ہوجانے کے بعد عمران خان بھی نا اہل قرار پائیں گے۔۔۔ جس کے بعد راوی چین کی بانسری بجائے گا۔۔۔ ہر طرف پی پی پی کے پرچم لہرا رہے ہوں گے اور کرپشن اسی طرح ملک میں ناپید ہوجائے گی جس طرح آج کل سچ ناپید ہے۔۔۔

موجودہ صورتحال کا سب سے بڑا المیہ ہی یہ ہے کہ اسے میاں نوازشریف اور عمران خان کے درمیان اقتدار کی جنگ بنا کر پیش کیا جارہا ہے۔۔۔
یہ جنگ ضرور ہے۔۔۔ مگر یہ جنگ اس وحشیانہ اور مادر پدر آزاد کرپشن کے خلاف ہے جس کی وجہ سے یہ ملک قرضوں کے پہاڑ تلے دب چکا ہے اور تجارتی خسارے کا تیس ارب ڈالر تک پہنچ جانا آنے والے دور کا بڑا ہی بھیانک نقشہ پیش کررہا ہے۔۔۔
یہ جنگ بنیادی طور پر عمرا ن خان نے شروع کی تھی۔۔۔ اور اب اس میں ملک کے وہ ادارے بھی شامل ہوچکے ہیں جن کی بقاءکا انحصار اس ملک کی بقاءپر ہے۔۔۔
زیادہ دن نہیں گزرے جب عمران خان نے بڑے واشگاف الفاظ میں کہا تھا کہ ” اگر پاکستان پر قابض طاغوتی قوتیں انتقاماً مجھے نا اہل قرار دلوانا چاہتی ہیں تو میرے لئے یہ سودا مہنگا نہیں ہوگا۔۔۔ میں اسی بات کو اپنی عظیم کامیابی سمجھ کر سجدہ شکر ادا کروں گا کہ کرپشن کے عفریت اپنے انجام کو پہنچ گئے ہیں۔۔۔“
سید خورشید شاہ کو ایک بات یا درکھنی چاہئے اور وہ یہ کہ جب کرپشن کی بات ہوتی ہے تو ان خاندانوں کی بات ہوتی ہے جو ایک عرصے سے اقتدار کے ایوانوں پر قبضہ جمائے ہوئے ہیں اور جن کے اثاثے ملک کے اندر شاید اتنے زیادہ نہ ہوں جتنے ملک سے باہر ہیں۔۔۔ اور یہ اثاثے آسمان سے من و سلویٰ کی صورت میں نہیں اترے` اس ملک کی دولت لوٹ کر اور اس کے عوام کا خون چوس کر بنائے گئے ہیں۔۔۔ جہاں تک ” پاناما“ کا تعلق ہے یہ محض ایک علامت ہے۔۔۔ جب میاں نوازشریف کا دورِاقتدار ختم ہوگا تو دنیا جانے لگی کہ یہ کہانی صرف ایک پاناما کی کہانی نہیں۔۔۔ ہر سُو پاناما ہی پاناما بکھرے نظر آئیں گے اور ان کے ساتھ ان دونوں خاندانوں کا نام جڑا دکھائی دے گا۔۔۔
جہاں تک عمران خان کا تعلق ہے اسے اقتدار میں آنے کے لئے ہنوز آگ کے دریا عبور کرنے ہوں گے۔۔۔ میاں نوازشریف کے جانے کا مطلب یہ نہیں کہ عمران خان اگلے روز وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھالیں گے۔۔۔ صرف میاں نوازشریف کا جانا کافی نہیں ہوگا۔۔۔ پاکستان پر سے نحوست کے کالے بادل تب چھٹیں گے جب یہ نظام مسمار ہوگا جو 1973ءکے آئین کی بنیادوں پر کھڑا ہے۔۔۔

Scroll To Top