وہ دن کب آئے گا ؟

23-07-2017
سندھ کے جس نوجوان ہاری نے اسلام آباد میں ایوان ہائے اقتدار کے قریب اپنے آپ کو تیل چھڑک کر راکھ کر دیا، وہ دو نقط ہائے نظر سے بدقسمت تھا۔ ایک تو یہ کہ اس نے ” غمِ ہستی “ سے نجات پانے کے لئے ایک حرام موت کا انتخاب کیا ۔ اور اس کے علاوہ یہ کہ ” روٹی کپڑا اور مکان “ کی ضمانت دینے والی پارٹی اسے ” بے نظیر انکم سپورٹ “ پروگرام کے باوجود سانسوں کے ساتھ رشتہ قائم رکھنے کا کوئی جواز فراہم نہ کرسکی۔
دو روز بعد پاکستان کے دل لاہور میں ایک بوڑھے پنشنر نے اس بینک کے سامنے تڑپ تڑپ کر جان دے دی جہاں سے اسے پنشن کے وہ چند روپے ملنے تھے جو زیست کے ساتھ اس کا رشتہ قائم رکھنے کا باعث بنتے اور جن کے انتظار میں اس نے 25اکتوبر کی بے رحم رات سڑک پر گزاری تھی۔
خود سوزی کرنے والے نوجوان نے وہاں موجود سپاہی کو اپنے ارادے کے بارے میں بتا دیا تھا۔ شاید اس امید پر کہ قائداعظم ؒ اورقائد عوام کا پاکستان آگے بڑھ کر اسے روزگار اور ” وجہءزندگی “ فراہم کردے گا۔ یا پھر اس کا خیال یہ ہوگا کہ ممکن ہے کہ ” میری قربانی پاکستان میں تونس جیسے انقلاب کا پہلا شعلہ بن جائے۔“
لیکن ہر خود سوزی انقلاب کا شعلہ نہیں بنا کرتی۔
اور بھوک پیاس اور انتظار کے کرب سے جنم لینے والی ہر موت اس للکار کا روپ اختیار نہیں کیا کرتی جو کاخِ امراءکے درودیوار گرا سکتی ہو یا جس کے شعلوں سے بھڑکنے والی آگ ¾ دہقان کو روزی سے محروم رکھنے والے کھیت کے ہر خوشہءگندم کو جلا دیا کرتی ہے۔
پھر بھی رحمت الالعالمین کے پیروکار رب ِرحیم و کریم سے یہ امیدیں باندھے بغیر نہیں رہ سکتے کہ ایک روز کچھ ایسا ضرور ہوگا کہ پاکستان کی فضاﺅں میں تاج و تخت یوں اچھلیں گے جیسے بارود کے دھماکے سے ملبہ اچھلا کرتا ہے۔
وہ دن کب آئے گا ؟

Scroll To Top