’’عمران خان کبھی نوازشریف نہیں بنیں گے……..!!!‘‘

23-07-2017
میاں نواز شریف کے معاملے کو عمران خان کے معاملے سے ملانا یا دونوں کو ایک ہی نوعیت کا معاملہ قرار دینا ان لوگوں کے ذہنی و فکر ی افلاس کا مظہر ہے جو سپریم کورٹ سے یہ اُمید باندھے بیٹھے ہیں کہ وہ میاں نواز شریف کو نا اہل قرار دینے کے بعد عمران خان کو بھی نااہل قرار دے دی گی تاکہ سکور برابر ہو جائے۔ دونوں کے معاملات اس وجہ سے ایک جیسے کہے جاسکتے ہیں کہ عمران خان کے خلاف دائر کی جانے والی درخواست بھی سپریم کورٹ سن رہی ہے۔
میاں نوازشریف پر الزام یہ تھااور اب جرم یہ ہے کہ انہوں نے اقتدار میں رہ کر اپنے اختیارات کو اپنی اور اپنے خاندان کی مالی حیثیت میں ہوشربا اضافہ کےلئے استعمال کیا۔ اسے آئین اور اخلاقیات کی زبان میں خیانت اور چوری کہا جاتا ہے۔
عمران خان کبھی اقتدار میں نہیں آئے۔ ان کا ذریعہ آمدنی ہمیشہ کرکٹ رہا اور کرکٹ سے جو کچھ بھی کمایا یا کرکٹ سے جڑے معاملات سے انہوں نے جو کچھ بھی حاصل کیا ، وہ اس کا حساب دے رہے ہیں۔ ان پر الزام یہ نہیں کہ انہوں نے اختیارات کا ناجائز استعمال کر کے اپنی مالی حیثیت میں اضافہ کیا۔ ان پر الزام یہ بھی نہیں کہ انہوں نے ملکی دولت بیرون ملک بھجوا کر وہاں قیمتی املاک خریدیں۔
کرکٹ سے انہوں نے جو کچھ بھی کمایا اس میں ایک اہم چیز ”نیک نامی“ یعنی ”گڈ وِل“ ہے جسے کیش کر کے انہوں نے شوکت خان میموریل ہسپتال اور نمل یونیورسٹی جیسے عظیم ادارے قائم کرنے کے علاوہ تحریک انصاف کی بنیاد رکھی۔
تحریک انصاف کے قیام یعنی سیاست میں قدم رکھنے سے پہلے وہ کیا تھے اور کیا نہیں تھے اسے کھنگالنا بے سود ہے۔ قبولِ اسلام سے پہلے ہر جلیل القدر صحابی ِ رسول کا بھی ایک ماضی تھا۔ لیکن ہمارا تعلق ان میں سے کسی کے بھی ماضی سے نہیں۔
عمران خان کو بھی ان کے صرف بیس برس کی بنیاد پر پرکھنا چاہیے جو انہوں نے سیاست کے میدان میں گزارے ہیں۔
ویسے عمران خان حقیقی معنوں میں قوم کے سامنے جوابدہ تب ہوں گے جب قوم اِقتدار اُن کے سپر د کرے گی۔
عمران خان کے کروڑوں مداحوں کو یقین ہے کہ وہ نواز شریف نہیں بنیں گے۔

Scroll To Top