فیصلہ محفوظ مگر حکمران غیر محفوظ

سپریم کورٹ نے پانامہ لیکس کے مقدمہ کا فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے مناسب وقت میں سنانے کا اعلان کیا ہے۔ پانچ روز تواتر کے ساتھ جاری اس اہم مقدمہ کی سماعت کے آخری دن عدالت عظمی کا کہنا تھا کہ وہ وزیراعظم کی نااہلی کے معاملے کو بھی ضرور دیکھے گی۔حالیہ سماعت کے موقعہ پر بینچ کے سربراہ جناب جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دئیے کہ عدالت آئین اور قانون کے دائرے سے باہر نہیں لہذا ان دونوں چیزوں کو مدنظر رکھ ہی فیصلہ کیا جائیگا۔“
قومی سیاست میں پانامہ لیکس کیس کو جو اہمیت حاصل ہوچکی اس کے پیش نظر مسلسل یہ معاملہ موضوع بحث ہے۔ ایک سال سے زائد عرصہ سے پرنٹ ، الیکڑانک اور سوشل میڈیا پر انواع واقسام کے تبصرے دیکھنے اور سننے کو مل رہے ۔ ہر کوئی اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق رائے کا اظہار کررہا ۔ اس پس منظر میں سپریم کورٹ کی جانب سے وزیراعظم کی نااہلی کو خارج ازامکان قرار نہ دینے اشارہ اہمیت کا حامل ہے اس پس منظر میں حکمران جماعت کے اندار نئے وزیراعظم کے ناموں پر غور کی خبریں سامنے آرہی ہیں۔ یہ بھی اہم ہے کہ تاحال مسلم لیگ کے اندر کسی قسم کی تھوڈ پھوڈ کی اطلاع نہیں ۔ قومی وصوبائی اسمبلیوں کے اراکین وزیراعظم نوازشریف پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرچکے مگر اس میں دو آراءنہیںکہ وزیراعظم نوازشریف کی نااہلی مسلم لیگ ن کی سیاست پر منفی اثرات مرتب کرسکتی ہے۔ اہم بات یہ کہ جے آئی ٹی کی تحقیقات میں وزیراعظم نوازشریف ان کے بچوں اور سمدھی وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے مالی معاملات ہرگز شفاف ثابت نہیں ہوئے۔عملا لندن فلیٹس کے لیے منی ٹریل نہ دینا شریف فیملی کو بے تحاشا مسائل سے دوچار کرگیا۔
سیاسی پنڈتوں کے مطابق پانامہ لیکس پر سپریم کورٹ کا فیصلہ نہ آنے تک قیاس آرائیوں کا بازار گرم رہیگا۔ تمام نظریں وزیراعظم نوازشریف پر مرکوز ہیں کہ وہ اس صورت حال سے کس طرح کامیابی سے نبرد آزما ہونگے۔ ایسی خبریں بھی ہیں کہ مسلم لیگ ن قومی وصوبائی اسمبلیاں تحلیل کرنے کی حکمت عملی اختیار کرسکتی ۔صورت حال پر نگاہ رکھنے والے مبصرین کے مطابق اعلی عدلیہ کی جانب سے اس اہم مقدمہ کا فیصلہ کچھ بھی ہو یہ طے ہے کہ ملک میں سیاسی ہلچل اب ختم نہیںہونے والی۔ جے آئی ٹی کی شکل میں شریف خاندان کے خلاف جو مواد سامنے آچکا اس کو بیناد بنا کر سیاسی اور قانونی دونوں محاذ گرم رہیں گے۔
سوال یہ ہے کہ کیا ملک کے موجودہ حالات کسی غیر یقینی صورت حال کے متحمل ہوسکتے ہیں یقینا نہیں۔ سیاسی جماعتوں کی بنیادی زمہ داری ہے کہ وہ بحران پیدا کرنے کی بجائے انھیںختم کرنے کی پالیسی پر عمل درآمد کریں۔ مسلم لیگ ن کی قیادت کم وبیش 35سالوں سے قومی منظر نامہ میں نمایاں مقام رکھتی ہے۔ عام پاکستان یہ توقع کرنے میں حق بجانب ہے کہ وزیراعظم نوازشریف معاملہ کا کوئی باوقار حل تلاش کریں گے۔ بظاہر اس رائے سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ وزیراعظم پاکستان سپریم کورٹ کی جانب سے واضح فیصلہ آنے تک کسی صورت اپنا عہدہ نہیںچھوڈیں گے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ بطور وزیراعظم کسی نہ کسی شکل میں انھیں استحاق حاصل ہے۔ادھر اعلی عدلیہ کے فاضل جج صاحبان کے ریمارکس بھی اس حقیقت کو نمایاں کررہے کہ سپریم کورٹ جان چکی کہ میاں نوازشریف رضاکارانہ طور پر اپنے عہدے سے دستبردار نہیں ہونے والے۔
مسلم لیگ ن کی جاری حکمت عملی سے اختلاف کرنے والوں کا موقف ہے کہ پی ایم ایل این ہر گزرتے دن کے ساتھ اپنی حمایت کھو رہی۔ جماعت کے ووٹرز کی قابل زکر تعداد میں تاحال باہر نہ آنا بتا رہا کہ پارٹی قیادت پر غم وغصہ دونوں موجود ہیں۔ افسوس کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے بعض رہنما کئی مہینوں سے یہ تاثر دینے کے لیے کوشاں ہیں کہ ان کی قیادت کو بدعنوانی کے مقدمات کا سامنا نہیں بلکہ سب کچھ کسی ”سازش “کے تحت کیا ہورہا۔
دراصل سیاسی اشرافیہ اس سچائی سے آگاہ ہے کہ اہل پاکستان کی اکثریت جذباتی ہے۔ حقائق کا ادارک کرنے کی بجائے ہر معاملہ کو یہود ہنود کی سازش کہہ کر خود احتسابی سے منہ موڈ لیا جاتا ہے۔ دوسری جانب سیاسی ومذہبی قائدین بھی معصوم پاکستانیوں کو یہ بتانے کو تیار نہیں کہ صحت ، تعلیم ، انصاف کی عدم فراہمی ، مہنگائی ، میڑٹ کی پامالی اور سب سے بڑھ کر کرپشن کے خلاف کچھ نہ کرنا ہرگز بیرونی سازش نہیں۔ اس پس منظر میں پانامہ لیکس کی اہمیت یوں بڑھ جاتی ہے کہ یہ عالمی مالیاتی سیکنڈل ہے جس میں درجنوں ممالک کے طاقتور افراد ملوث پائے گے ہیں۔ کم وبیش ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود پانامہ لیکس میں بیان کیے اعداد وشمار کی سچائی کو جھٹلایا نہیںجاسکا۔آئس لینڈ سمیت جہاں جہاں جمہوریت ہے پانامہ لیکس نے اپنے اثرات مرتب کیے ہیں۔
اہل وطن کو نہیں بھولنا چاہے کہ پانامہ لیکس کا معاملہ کبھی اپنے انجام کو نہ پہنچتا اگر ہمارے ہاں جسی تیسی جمہوریت موجود نہ ہوتی۔ دراصل یہ نظام کے ثمرات ہیں کہ ملک کا وزیراعظم اور اس کا خاندان قانون کے کٹہرے میں موجود ہے جہاں اس سے باز پرس کا عمل جاری ہے۔ پانامہ لیکس کے مقدمہ کو ملک میں بہتری کی ایک نمایاں نشانی کے طور پر دیکھنا چاہے۔ آنے والے دنوں میں ملک کے مذید طاقتور افراد سے باز پرس کی جاسکتی ہے جو یقینا ملک میں بہترین حکمرانی کا خواب شرمندہ تعبیر کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔

Scroll To Top