اگر وہ نہ ہوتیں! 26-10-2011

23اکتوبر کو حکمران جماعت پر یکایک یہ انکشاف ہوا کہ بیگم نصرت بھٹو نام کی ایک شخصیت بھی کبھی ہوا کرتی تھی۔ اور یہ انکشاف تب ہوا جب وہ رسمی اور سرکاری طور پر اس دارفانی سے کوچ کرگئیں۔
اس انکشاف کے ہوتے ہی حکمران جماعت کے سرکردہ رہنماﺅں کے دلوں میں عقیدتوں کا ایک سمندر امڈ آیا۔ 24اکتوبر کو مرحومہ کی یاد میں عام تعطیل کردی گئی۔ مرحومہ کی خدمات کوسراہنے اور ناقابلِ فراموش قرار دینے کا ایک لاامتناہی عمل شروع ہوا جو ابھی تک جاری ہے۔ ستم ظریفی کی بات یہاں یہ ہے کہ مرحومہ کی وفات تک ان کا نام تک فراموش کردیا گیا تھا۔
پی پی پی کے رہنما یہ حقیقت بھی بھول گئے تھے کہ 1977ءکے بعد جن زلزلوں اور طوفانوں نے ذوالفقار علی بھٹو کی جماعت کو گھیر لیا تھا اگر بیگم نصرت بھٹو کی شخصیت درمیان میں موجود نہ ہوتی تو پی پی پی محض ایک یاد اور ایک داستان بن کر رہ جاتی۔
بھٹو مرحوم کی گرفتاری کے بعد پوری ایک دہائی تک اس بلند ہمت اور بلند کردار خاتون نے پی پی پی کے شیرازے کو بکھرنے سے بچائے رکھا۔ اس دوران انہوں نے جن صعوبتوں کا مقابلہ کیا اور جس دلیری اور شان سے کیا وہ تاریخ کا حصہ ہیں۔ مگر آج کی پی پی پی 23اکتوبر تک اس تاریخ کو یاد رکھنا بھی مناسب نہیں سمجھتی تھی۔ میں سمجھتا ہوں کہ خود محترمہ بے نظیر بھٹو نے بھی ان محبتوں شفقتوں اور ایثار کا حق ادا نہیںکیا جن کی بدولت وہ ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی سے دخترِ مشرق اور پاکستان کی وزیراعظم بنیں۔
آپ پرائم منسٹر ہاﺅس میں جائیں یا ایوان صدر میں ` کہیں بھی آپ کو ایسی کوئی چیز نظر نہیں آئے گی جسے دیکھ کر آپ کا ذہن اس خاتون کی طرف جاسکے جسے اب اچانک ” مادر جمہوریت “ اور ” نشان امتیاز “ کی مستحق قراردیا گیا ہے۔
بیگم صاحبہ سے میری ملاقات صر ف تین مرتبہ ہوئی۔ پھر بھی مجھے یہ فیصلہ کرنے میں کوئی دیر نہ لگی اور دشواری پیش نہ آئی کہ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کی کامیابیوں میں اس ” شفاف“ خاتون کا کتنابڑا دخل ہوگا ۔
زندگی نے انہیں بہت دُکھ دیئے۔
سب سے بڑا دُکھ شاید یہ تھاکہ انہیں اپنے سامنے آنے والے ہر چہرے پر ” میر“ کے قاتل کا گماں ہوتا تھا۔
اقتدار کی سیاست میں لوگ کس قدر وحشی ہو جایا کرتے ہیں!

Scroll To Top