جن کے کملے بھی سیانے

اگریہ کہاجائے تو غلط نہیں ہوگا کہ لفظی معنوں کو چھوڑ کر خالص عملی نقطہ ءنظر سے دیکھا جائے تو مغربی جمہوریت کا جو ماڈل پاکستان میں نافذ ہے وہ براہ راست اسلام کے بنیادی تقاضوں سے متصادم ہے۔ اسلام میں خلق ِخدا کی قیادت کا اختیار صرف ایسے شخص کو دیا گیا ہے جو ایک طرف تو احکاماتِ خداوندی کا پابندہو اور دوسری طرف جسے خلق ِخدا کی غالب اکثریت کا اعتماد بھی حاصل ہو۔
پاکستان میں جو نظام رائج ہے اس میں متذکرہ دونوں اصولوں کی نفی کی گئی ہے۔ خلقِ خدا کو اپنا قائدیا حاکم منتخب کرنے کا اختیار ہی حاصل نہیں۔ یہ اختیار ایسے لوگوں کو دے دیا گیا ہے جو علاقائی بنیادوں پر اپنی دولت اور اپنے اثر ورسوخ کے بل بوتے پر منتخب ہو کر پارلیمنٹ میں پہنچتے ہیں ` اور پھر صرف اپنے مفادات کا تحفظ یقینی بناتے ہیں ۔
جہاں تک احکاماتِ خداوندی کی پابندی کا تعلق ہے ` اس معاملے میں ہمارے حکمران طبقے کا کردار جس آواز میں خود بولتا ہے اس پر کسی تبصرے کی ضرورت نہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام میں آمریت اور ملوکیت کی کوئی گنجائش نہیں۔ حاکمیت میں خلقِ خدا کی شمولیت بہرحال لازمی ہے۔ پاکستان میں جو جمہوریت رائج ہے اس میں ملوکیت کا ایک بنیادی اصول واضح طور پر نظر آتا ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں پر خاندانوں کا قبضہ ہے۔ اور اس قبضے کی وجہ سے حکومتی عمل میں خلقِ خدا کی براہ راست شمولیت ناممکن بنادی گئی ہے۔
سب سے زیادہ منفی پہلو پاکستان میں رائج نظام کا یہ ہے کہ اس میں پیسہ کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ حکومتی مناصب پر وہی لوگ پہنچ پاتے ہیں جن کے پاس پیسہ ہوتا ہے۔ یوں حکومتی عمل کے موثر اور نتیجہ خیز ہونے کی ایک بنیادی شرط نظر انداز ہوجاتی ہے۔ میرٹ کو کوئی موقع نہیں ملتا۔
اگر پاکستان میںجمہوریت کا مستقبل تابناک بنانا مقصود ہے تو اسے پہلے ان خاندانوں کے قبضے سے چھڑانا ہوگا جن کے ” کملے “ بھی ” سیانے “ سمجھے جاتے ہیں!
(یہ کالم اس سے پہلے 28اکتوبر 2011ءکو بھی شائع ہوا تھا)

Scroll To Top