آزادی کا اک لمحہ ہے بہتر غلامی کی حیاتِ جاوداں سے 22-10-2011

kal-ki-baatمیرے لئے یہ بات باعث صدا افتخار ہے کہ میں نے اپنی زندگی کے بڑے قیمتی سال محترم ایئر مارشل اصغر خان کے ساتھ ” سیاسی رفاقت “ میں گزارے ہیں۔ ان کی دیانت ` صداقت اور حب الوطنی ہر قسم کے شک و شبہ سے بالاتر ہے۔ مگر ضروری نہیںکہ بڑے سے بڑا آدمی بھی تمام تر سوچیں ایسی رکھتا ہو جنہیں ہم ” راست “ اور ناقابلِ ِتردید کہہ سکیں۔ محترم ایئر مارشل اصغر خان بھی بہرحال انسان ہیں۔ او ر ایک انسان کی حیثیت سے بڑی دیانت داری کے ساتھ ایسا اندازِفکر اختیار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جو حقائق سے متصادم ہو۔
میری حقیر رائے میں یہ اندازِفکر حقائق سے متصادم ہے کہ پاکستان کو بھارت سے نہ تو کبھی کوئی خطرہ تھا ` اور نہ کبھی ہوگا۔ اور بھارت تاریخی طور پر ایک ایسا ملک ہے جس نے کبھی شمال پر جارحیت کا ارتکاب نہیں کیا ` ہمیشہ شمال سے جارحیت کا نشانہ بناہے۔ سکندر اعظم ` محمود غزنوی ` محمد غوری اور ظہیر الدین بابر کے حوالے سے یہ بات درست ہوگی مگر آج کا بھارت جس سوچ کی تجسیم ہے اس کی بھرپور عکاسی بھارت کی آنجہانی وزیراعظم اندرا گاندھی کی اس تقریر سے ہوتی ہے جو انہوں نے 13دسمبر1971ءکو فیروز شاہ کوٹلہ نیو دہلی کے جلسہ عام میں کی تھی۔ میرے کانوں میں آج بھی اندرا گاندھی کے یہ الفاظ گونج رہے ہیں۔
” سقوط ڈھاکہ کی صورت میں بھارت کی اس ناری نے ایک ہزار سال کی شکستوں کا بدلہ لے لیا ہے۔“
ایئر مارشل اصغر خان اپنی ” شفاف سوچ“ سے بھارت کے مزاج کو نہ پرکھیں۔ ’ ’ اشوک اعظم “ نے بھارت کوایک سلطنت بنانے کے لئے جتنا خون بہایا تھا اس کے بارے میں تاریخ خاموش نہیں ۔ برہمنوں اور کھتریوں کے گٹھ جوڑ سے جنم لینے والی سوچ طاقتور کے سامنے جھکتی اور کمزور کو ہڑپ کرنے کے لئے دوڑا کرتی ہے۔
یہ کالم میں محترم اصغر خان کی اس تقریر کے جواب میں تحریر کررہا ہوں جو انہوں نے 20اکتوبر کی شام کو عمران خان کی کتاب کی تقریبِ رونمائی میں کی۔ انہوں نے کہا کہ جو وسائل ہم فوجی تیاریوں پر خرچ کررہے ہیں ان کا رُخ تعلیم کے فروغ کی طرف موڑ دیا جائے تو پاکستان ترقی کی شاہراہ پر دوڑیں لگائے گا۔ کوئی شک نہیں کہ ہماری اولین ترجیح تعلیم ہونی چاہئے۔ مگر اس کے لئے وسائل حاصل کرنے کے لئے ہمیں کرپشن اور لوٹ مار کا قلع قمع کرنا چاہئے ` اپنی سلامتی اور آزادی کی ضمانت دینے والے ادارے کا پیٹ نہیں کاٹنا چاہئے۔

Scroll To Top