امریکہ پاکستان پر دباو بڑھاتا رہیگا ؟

zaheer-babar-logoدفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین سے دہشت گردی کے مکمل خاتمہ کے لیے پرعزم ہے جبکہ افغانستان میں 40 سالوں سے شور برپا ہے اسی لیے وہاں دہشت گردی نے زور پکڑا۔ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا کا موقف تھا کہ حقانی نیٹ ورک کے کئی رہنما افغانستان میں مارے جاچکے ہیں جبکہ امریکہ سمیت کئی ممالک نے پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کوششوں کو تسلیم کیا ہے۔ دفتر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ پاکستان پہلے بھی باور کرواچکا کہ بھارت افغانستان کے زریعہ پاکستان میں مداخلت کا مرتکب ہورہا ہے جس روکنے کے لیے عالمی برداری کو اپنا کردارادا کرنا چاہے۔ “
اس میںدوآراءنہیں کہ افغانستان میں پائی جانے والی بدامنی پاکستان کو بالواسطہ یا بلاواسطہ طورپر متاثر کررہی۔ دراصل یہی وہ حقیقت ہے جس کے پیش نظر پاکستان پر پلیٹ فارم پر معاملہ اٹھا چکا کہ عالمی برداری افغانستان میںقیام امن کے لیے الزامات کی بجائے حقائق کو ملحوظ خاطر رکھے۔ امریکہ ، بھارت اور کابل کا یہ موقف کسی طور پر درست نہیں کہ پاکستان میں براجمان بعض مسلح گروہ افغانستان میں دہشت گرد کاروائیوں میںملوث ہیں۔درحقیقت متحدہ ہائے امریکہ اور اس کے ہم خیال افغانستان میں اپنی ناکامی تسلیم کرنے کوتیار نہیں۔ دنیا کی اکلوتی سپرپاور کے لیے یہ کہنا مشکل ہورہا کہ تمام تر وسائل کے باوجود وہ افغان طالبان کو شکست دینے میںناکام رہا۔ انکل سام کو سمجھ لینا چاہے کہ طالبان کی پرتشدد کاروائیاں اپنی جگہ مگر بعقول ان کے وہ اپنے ملک کو غیر ملکی افواج سے خالی کرنے کے لیے لڑ رہے ہیں۔ آج صورت حال یہ ہے کہ امریکہ اور طالبان دونوں اپنی اپنی شرائط کے مطابق بات چیت کرنے کے خواہشمند ہیں۔ پڑوسی ملک میں دراصل اعصاب شکن جنگ جاری ہے جس کا مسقبل قریب میں خاتمہ ہوتا نظر نہیںآتا۔ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اب طالبان کے بعد پڑوسی ملک میں داعش نے اپنا نیٹ ورک پھیلانا شروع کردیا ، ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ دولت اسلامیہ افغانستان کے بعض علاقوں پر قابض ہے۔پڑوسی ملک میں ایک طرف طالبان اور داعش باہم برسر پیکار ہیں تو دوسری جانب ان کا نشانہ اتحادی افواج اور افغان شہری ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی صدر بن جانے کے بعد افغانستان میں حالات مذید خطرناک شکل اختیار کررہے۔ نئے امریکہ صدر مسائل کا حل صرف اور صرف طاقت سے چاہتے ہیں جس کے سبب خطے میں غیر یقینی صورت حال بڑھ رہی ۔ امریکہ افغان طالبان کوطاقت کے بل بوتے پر نیست ونابود کرنے کے درپے ہے تو دوسری جانب جنوبی ایشیاءمیںچین اور روس کا اثر رسوخ بڑھ رہا۔ دراصل دونوں طاقتور ممالک پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک کو پیغام دے رہے کہ جنوبی ایشیاءمیں دائمی امن اسی وقت ممکن ہے جب سات سمندر پار موجود ملک کی طرف نہ دیکھا جائے۔
ٹرمپ انتظامیہ سمجھتی ہے کہ سی پیک کی شکل میں پاکستان چینی مفادات کو آگے بڑھا رہا۔ امریکہ کسی طور پر نہیں چاہتا کہ چین کو جنوبی ایشیاءمیں بالخصوص اور دنیا بھر میں بالعموم فیصلہ کن حثیثت حاصل ہوجائے، اسی لیے امریکہ بھارت کے زریعہ چین کو الجھائے رکھنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ ادھر حال ہی میں چین اور بھارت کے درمیان سرحدی کشیدگی ثبوت ہے کہ دونوں ملکوں میں تعلقات اطمنیان بخش نہیں۔ یقین سے نہیںکہا جاسکتا کہ بھارت امریکہ کے ہاتھوں کس حد تک استمال ہونے کے لیے تیار ہے۔ بادی النظر میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ امریکہ اور بھارت دونوں اپنے اپنے مفاد کے اسیر ہیں۔بھارت کو باخوبی اندازہ ہے کہ امریکہ اس سے کیا کام لینا چاہتا ہے مگر مودی سرکار کی خواہش ہوگی کہ وہ امریکہ سے اس حد تک ہی تعاون کرے جب تک اس کے مفادات متاثر نہیں ہوتے۔
یقینا پاکستان کو چوکنا رہنا ہوگا۔ خطے کی بدلتی صورت حال میں ملک وملت کے مفاد کا تحفظ زمہ دار اداروں کے لیے بڑا چیلنج ہے۔ وطن عزیز ان دنوں اندرونی مسائل سے دوچار ہے۔ سپریم کورٹ میں پانامہ لیکس کا مقدمہ اپنے انجام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ شائد زیادہ وقت نہیں رہ گیا جب سپریم کورٹ اس حوالے سے اپنا فیصلہ سنا دے۔ اگر یہ تصور کرلیا جائے کہ عدالت عظمی کی جانب سے پانامہ لیکس کا فیصلہ حکومت کے مخالف آتا ہے تو اس کے نتیجہ میں عارضی طور پر ہی سہی بحران پیدا ہوگا۔ وثوق سے کہنا مشکل ہے کہ وزیراعظم پاکستان اور ان کے بچوں کے خلاف فیصلے پر حکومت کس قسم کے درعمل کا اظہار کرتی ہے۔ یہ آپشن لائق تحٰسین ہوتا کہ ملکی مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے میاں نوازشریف پی ایم ایل این میں کسی اور کو وزیراعظم بنا دیتے تاکہ ملک اس غیر یقینی صورت حال سے دوچار نہ ہوتا جو محسوس کی جارہی۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ چار سال گزرنے کے باوجود ملک میں وزیر خارجہ کا تقرر نہیں کیا جاسکا۔ حکومتی خارجہ پالیسی میںسوائے سی پیک کے دکھانے کے لیے کچھ نہیں۔ بھارت کے ساتھ تعلقات کا معاملہ ہو یا بنگہ دیش اورایران کے ساتھ روابط کو بہتر بنانا ملکی خارجہ پالیسی کہیںبھی مثالی ثابت نہیں ہوئی۔سیاست کا مسلمہ اصول ہے کہ مضبوط خارجہ پالیسی اسی ملک کی ہوسکتی ہے جو اندرونی طور پر مستحکم ہو۔ بطور قوم ہمیں کھلے دل ودماغ سے تسلیم کرنا ہوگا کہ مسلم لیگ ن کسی بھی محاذ پر خاطر خواہ کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرسکی۔ لوڈشیڈنگ اور مہنگائی جیسے مسائل پر قابو پانے میںناکام ہونے والی حکومت سے خارجہ محاذ پر متاثر کن کارکردگی کی امید رکھنا کسی طور پر ہوشمندی نہیں ۔

Scroll To Top