مسلم دنیا میں اتفاق واتحاد کا امکان نہیں ؟

zaheer-babar-logoایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کا کہنا ہے کہ یمن کے تنازعہ پر ایران اور سعودی عرب کے ساتھ براہ راست تصادم کا خطرہ نہیں ۔ جواد ظریف نے نیویارک میںاقوام متحدہ کی سلامتی کونسل برائے خارجہ امور کو بتایا کہ یمن میںجاری خانہ جنگی سے کسی کو فائدہ نہیںپہنچ رہا۔ ان کے بعقول مذکورہ تنازعہ نے ایک اشتعال انگیز انسانی بحران پیدا کیا جس میں تہران اور ریاض مختلف پہلووں کی حمایت کررہے ہیں۔
بادی النظر میںایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کا بیان اس لحاظ سے خوش آئند ہے کہ دو اسلامی ملکوں میںبراہ راست تصادم کا خدشہ انھوں نے یکسر مسترد کردیا۔ مذکورہ بیان کی اہمیت اس اعتبار سے مذید بڑھ جاتی ہے کہ حالیہ دنوںمیں سعودی عرب اور ایران کے درمیان شدید کشیدگی دیکھنے میں آئی۔ عام تاثر یہ ہے کہ ریاض اور تہران کے درمیان جاری چپقلش محض دو ملکوں تک ہی محدود نہیں بلکہ کئی اور اسلامی ملکوں میںاس کے مظاہرے دیکھنے میں آتے ہیں۔ یاد رہے کہ سعودی عرب نے اپنے اتحادی ملکوں کے ساتھ مل کرتقریبا دوسال قبل باغیوںکے خلاف کاروائی کا آغاز کیا تھا مگر اس میں تاحال اسے واضح کامیابی نہیں ملی۔ زمینی حقائق یہ ہیں کہ یمن میں اب بھی بعض علاقوں پر باغیوں کا قبضہ ہے۔ دراصل یمن سے پہلے سعودی عرب اور ایران کے درمیان شام کے تنازعہ پر کشیدگی پیدا ہوچکی تھی کہا جاسکتا کہ باغیوں کے تنازعہ نے دونوں ملکوں کے تعلقات میں مذید تناو پید اکردیا۔
ایران اور سعودی عرب میں تعلقات بہتر نہ ہونے کی پوری تاریخ ہے۔ مقام افسوس یہ ہے کہ دونوں ملکوں کو قریب لانے میں دیگر اسلامی ملک خاطر خواہ پیش رفت دکھانے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔درحقیقت مسلم اشرافیہ نے دانستہ یا غیر دانستہ طور پر اپنے ہاں ایسی خلیج پیدا کرچھوڈی جسے پر کرنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ درجنوں اسلامی ملک اس سوال کو جواب دینے کو تیار نہیں کہ آخر وہ کیونکر مغربی قوتوں کے ہاتھوں استمال ہونے پر تیار ہیں۔ مسلم حکومتوں کی قابل زکر تعداد سیاسی بالغ نظری کا مظاہرہ نہیں کرپارہی۔ وہ اس حقیقت کا ادارک کرنے میں مسلسل ناکام ثابت ہورہی کہ دشمن اس پر تقسیم کرو اور حکومت کرو کا فارمولہ کامیابی سے آزما رہا۔ معمولی تنازعات کو یوں ہوا دی جارہی کہ وہ تصادم کی شکل اختیار کررہے۔ اس ضمن میں ایران اور عراق کی جنگ کو ہرگز فراموش نہیں کی جاسکتی ، کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود بھی ایسے حقائق منظر عام پر نہیں آسکے جو اس لڑائی کو جائز قرار دے سکیں۔
آج مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن جہالت اور پسماندگی ہے۔ اہل مذہب کی اکثریت بھی اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام ہیں جس کے نتیجے میں جدید مسائل کو حل کیا جاسکے۔ اس حقیقت کو جھٹلایا نہیں جاسکتا کہ اسلامی ملکوں میں ”عالم “ کہلانے والوں کی اکثریت انگریزی سے نابلد ہے۔ یہ خامی اس کے باوجود ہے کہ ترقی یافتہ اقوام کی اکثریت انگریزی کو بطور زبان تعمیر وترقی کے لیے استمال میں لارہی ۔ افسوس کہ مسلم دنیا میں ایسے مفکر اور دانشور کثرت میں نہیں پائے جاتے جو ایک طرف تو قرآن وسنت کا علم رکھتے ہوں تو دوسری جانب جدید علوم وفنون میں ہونے والی ترقی پر بھی ان کی نگاہ ہو۔یاد رکھنا ہوگا کہ کراہ ارض پر بسنے والے اربوں مسلمانوں کی مشکلات پر اسی وقت قابو پایا جاسکتا ہے جب وہ علم وحکمت کی دنیا سے آشنا ہوں۔
پاکستان سمیت کئی اسلامی ممالک میں بسنے والے اس پر یقین رکھتے ہیںکہ مسلم ممالک کو درپیش مسائل کی واحد وجہ یہود وہنود کی سازش ہے۔ ستم بالاستم یہ کہ خرابیوں کی وجہ دوسروں میں تلاش کرنے کا رواج اس قدر رچ بس چکا کہ اہل توحید کی اکثریت اس سے تائب ہونے کو تیار نہیں۔ عصر حاضر میں علوم وفنون جس زبان میں باآسانی موجود ہیں اہل اسلام کی اکثریت اسے کافروں کی زبان قرار دے کر مسترد کرچکی۔ مجموعی طور پر مسلمان معاشرے عہد جدید کے تقاضے نبھانے سے قاصر ہیں ۔ حد تو یہ ہے کہ خود اہل مذہب کی اکثریت قول وفعل کے تضاد کا شکار ہے۔ قرآن کا ہر طالب علم باخوبی جانتا ہے کہ خالق کائنات نے جہاں نماز فرض قرار دی وہی حصول علم کو مرد وعورت دونوں کے لیے فرض قرار دیا مگر کسی طور پر مسلمان ممالک میں شرح خواندگی اطمینان بخش نہیں ۔ یہ رائے بڑی حد تک درست ہے کہ درجنوں اسلامی ممالک میں خاندانی بادشاہت کئی مسائل کی وجہ ہے۔ نسل درنسل چلے آنے والے حکمران نہیں چاہتے کہ ان کی عوام کا سیاسی شعور بہتر ہو جس کے نتیجے میں عام شہری کو اظہار خیال کی آزادی ملے، انھیں ووٹ کا حق دیا جائے تاکہ وہ اپنی مرضی سے اپنا حکمران چن سکیں۔ دراصل یہی وجوہات ہیں کہ مسلم سماج میں انتہاپسندانہ خیالات فروغ پذیر ہیں۔افغانستان روس جنگ کے نتیجے میں بندوق کے زور پر مقاصد حاصل کرنے کا جو رواج چلا وہ اب بھی کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے۔چالاک مغرب مسلم ممالک کی کمزوریوں کو پوری طرح اپنے حق میں استمال کرنے میں مشغول ہے۔ وہ ایک طرف مسلم ممالک کو جمہوریت نہ ہونے کا طعنہ دیتا ہے تو دوسری جانب اہم مسلم ممالک پر انتہاپسند گروہوں کی مدد کرنے کا الزام بھی تھوپ رہا ۔افسوس اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے علاوہ چارہ کار نہیںکہ ایران اور سعودی عرب کے ساتھ ساتھ دیگر مسلم ممالک میں پائی جانے والی خیلج مسقبل قریب میں بھی ختم ہوتی نظر نہیں آرہی۔

Scroll To Top