مظلوم و مجبور پنجاب 21-10-2011

kal-ki-baatkalمیدان جنگ سج چکا ہے ۔ طبل جنگ بج چکا ہے۔
میاں نواز شریف کا حملہ پاکستان پیپلز پارٹی اور اس کے سربراہ آصف علی زرداری پر بھی ہے اور ایم کیو ایم اور اس کے سربراہ الطاف حسین پر بھی ۔ اور پاکستان پیپلز پارٹی ایک طرف پاکستان مسلم لیگ (ن) پر حملہ آور ہے۔ اور دوسری طرف خود اپنے آپ پر بھی۔ اپنے آپ پر یوں کہ جب پی پی پی کا کوئی لیڈر یہ الزام لگاتا ہے کہ پنجاب نے دو سندھی وزرائے اعظم کی لاشیں سندھ بھجوائیں اور اب وہ سندھی صدر پر حملہ آور ہے، تو وہ دراصل پی پی پی کو خود ہی پنجاب سے الگ یا دستبردار کر لیتا ہے۔ یہ درست ہے کہ لیاقت علی خان اور بے نظیر بھٹو کو سر زمینِ پنجاب پر قتل کیا گیا مگر ان کے قاتل پنجابی تھے، سندھی تھے یا پختون تھے کوئی نہیں جانتا۔ لیاقت علی خان کے قتل نے پہلے سکندر مرزا اور اس کے بعد ایوب خان کے اقتدار کا راستہ ہموار کیا اس لئے پنجاب کو خود بخود ”استثنیٰ“ حاصل ہو جاتا ہے ۔ جہاں تک بے نظیر بھٹو صاحبہ کے قتل کا تعلق ہے اس کا سب سے زیادہ فائدہ ان لیڈروں اور سیاست دانوں کو ہی پہنچا ہے جو اپنی شناخت سندھی ٹوپی اور سندھی اجرک سے کراتے ہیں۔
پنجاب پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہونے کے باوجود سب سے مظلوم اور مجبور صوبہ بھی ہے۔ اس سے تعلق رکھنے والے دو اصحاب کو اقتدار ملا۔ پہلے جنرل ضیاءالحق اور پھر میاں نواز شریف ۔ دونوں کے پاس طاقت تھی۔ جنرل صاحب کے پاس بندوق کی طاقت ۔ اور میاں صاحب کے پاس دو تہائی مینڈیٹ کی طاقت۔ پھر بھی کالا باغ ڈیم نہ بن سکا۔ اس لئے نہ بن سکا کہ پاکستان میں یہ سوچ کسی نہ کسی انداز میں حکمران رہی ہے کہ پنجاب کو توانائی کے بٹن سے ہمیشہ محروم رکھا جائے گا۔ کتنا بڑا المیہ ہے کہ پورے پاکستان کی خوشحالی کی ضمانت بن سکنے والا یہ منصوبہ صرف اس لئے ”دفن“ کیا جا چکا ہے کہ پنجاب کا مقدمہ لڑنے والی نہ تو کوئی جماعت موجود ہے اور نہ ہی کوئی قیادت ۔
بہرحال یہ ایک الگ موضوع ہے۔ آج اگر پنجاب کو ”بیک فٹ“ پر رکھنے والی سوچ حکمران ہے، تو کل پنجاب کو پاکستان کا دل سمجھنے والی سوچ بھی غالب آسکتی ہے۔ جو لوگ اعلانیہ طور پر یہ کہتے ہیں کہ کالا باغ ڈیم کا منصوبہ دفن ہو چکا ہے، شاید مستقبل کو ان کی قبروں کے نشانات بھی نہ ملیں۔
بات اس جنگ کی ہو رہی تھی جس کا میدان گرم ہو رہا ہے۔ یہ بنیادی طور رپر اقتدار کی جنگ ہے۔ اس کے جرنیل ، جرنیل کم اور مسخرے زیادہ دکھائی دیتے ہیں۔ ڈاکٹر بابر اعوان کو دیکھیں تو ان پر ”مولا جٹ“ یا ”نوری نت“ کا گمان ہوتا ہے۔ جہاں تک راجا ریاض اور رانا ثناءاللہ کا تعلق ہے، وہ اپنی پہچان آپ ہیں۔
ممکن ہے کہ یہ حقیقی جنگ نہ ہو۔ اور دونوں حریف محض جنگی مشقیں کررہے ہوں۔ جہاں تک عوام کا تعلق ہے ان پر یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاںہو چکی ہے کہ دونو ںمیں سے کوئی بھی ”حریف“مسائل کا حل نہیں ۔ دونوں ہی مسائل کی جڑ ہیں۔

Scroll To Top