یہ سچ ہے کہ طلعت حسین کو عمران خان سے کوئی مخاصمت نہیں انہیں غصہ صرف اس بات کا ہے کہ عمران خان کا قداتنابلندکیوں ہے ۔۔۔

aaj-ki-baat-new-21-aprilاگر آپ سلیم صافی اور طلعت حسین کو ایک ہی ” صنفِ صحافت“ میں شمار کررہے ہیں تو آپ طلعت حسین کے ساتھ انصاف نہیں کررہے ۔۔۔طلعت حسین ضمیر کے تاجر نہیں ہیں۔۔۔ اور نہ ہی وہ کرائے کے سپاہی ہیں ۔۔۔ میں انہیں جس قدر جانتا ہوں وہ مجھے اپنی انا کے قیدی لگتے ہیں۔۔۔

ایک ڈیڑھ دہائی قبل تک میڈیا کی دنیا اس قدر زرخیز نہیں تھی۔۔۔ اتنے سارے تجزیہ کار اور اینکر پرسن اپنی اعلیٰ صلاحیتوں کا لوہا نہیں منوا رہے تھے۔۔۔ طلعت حسین بجا طور پر اپنے آپ کو نمبر ایک اینکر پرسن اور تجزیہ کار سمجھتے تھے۔۔۔ تب تک ندیم ملک اور کاشف عباسی کو بھی وہ مقام حاصل نہیں ہوا تھا جو انہیں بعد میں حاصل ہوا۔۔۔ تب تک رﺅف کلاسرا اور ارشد شریف جیسے لوگ ہنو ز قوم کی توجہ کا مرکز نہیں بن پائے تھے۔۔۔ معید پیرزادہ کو بھی لوگ تب تک زیادہ نہیں جانتے تھے۔۔۔ صرف ڈاکٹر شاہد مسعود کو ایسی شخصیت قرار دیا جاسکتا تھا جو جناب طلعت حسین کے لئے ایک چیلنج کا درجہ رکھتی تھی۔۔۔
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ میرا یہ تجزیہ کون سارخ اختیار کررہا ہے۔۔۔ تو میں کہنا یہ چاہ رہا ہوں کہ روزِ اول سے ہی سکرین کی دنیا پر رشک حسد اور احساس برتری کا غلبہ رہا ہے۔۔۔ ٹاک شوز کے سٹار کسی بھی لحاظ سے سکرین کے دوسرے سٹارز سے مختلف نہیں ہوتے۔۔۔ آپ شاہ رخ خان ` عامر خان اور سلمان خان کی باہمی رقابتوں سے نا آگاہ نہیں ہوں گے۔۔۔ ٹاک شوز کے خان بھی ویسی ہی ذہنیت رکھتے ہیں۔۔۔
میں یہاں 1940ءکی دہائی کی دو سٹارز کا ذکر کروں گا۔۔۔ جون فونٹین اور اولیویا ڈی ہیوی لینڈ۔۔۔ دونوں سگی بہنیں تھیں جس تقریب میں اولیو یا ڈی ہیوی لینڈ کو آسکر ایوارڈ ملا ` اس میں جون فونٹین بھی موجود تھی۔۔۔ جب ہال تالیوں سے گونج رہا تھا تو جون فونٹین روتی چیختی چلاتی باہر بھاگی جارہی تھی۔۔۔ اس کے لئے اس کی بہن کا آسکر ایوارڈ جیتنا ناقابل برداشت تھا۔۔۔ طلعت حسین کو اس phenomenonسے استثنیٰ حاصل نہیں۔۔۔
طلعت حسین کی انا انہیں وہاں تک کھینچ لے گئی ہے جہاں وہ پہنچ گئے ہیں۔۔۔
مجھے چھ برس قبل کا وہ پروگرام یاد آرہا ہے جس میں طلعت حسین پی ٹی آئی کے ایک ترجمان کی کلاس لے رہے تھے۔۔۔
میں نے موبائل فون سے طلعت حسین کو یہ پیغام ٹیکسٹ کیا۔۔۔
” ایک اینکر پرسن کو اس قدر متعصب اور جانبدار نہیں ہونا چاہئے۔۔۔ آپ اس بچارے کو کیوں رگڑ رہے ہیں۔۔۔ براہ راست عمران خان سے جاکر یہ سوالات پوچھیں۔۔۔“
میں نے ٹی وی سکرین پر طلعت حسین کو اپنا موبائل اٹھا کر میسیج پڑھتے دیکھا۔۔۔ پھر وہ سخت غصے میں مجھ سے مخاطب ہوئے۔۔۔ ” یہ فاﺅل ہے اکبر صاحب۔۔۔ میں عمران خان سے کوئی مخاصمت نہیں رکھتا۔۔۔“

Scroll To Top