پانامہ لیکس کا فیصلہ قومی سیاست بدل دیگا !

zaheer-babar-logoسپریم کورٹ میں پانامہ لیکس سماعت کرنے والے فاضل جج نے ریمارکیس دیے ہیں کہ شریف خاندان کو فلیٹس کی ملکیت ثابت کرنا ہوگی مذید کہ فیصلہ مدعاالیہان کو کرنا ہے کہ وہ ثبوت سپریم کورٹ کو دیں گے یا ٹرائل کورٹ کو ۔ خصوصی بینچ کا مذید کہنا تھا کہ وہ شواہد دیکھ کر فیصلہ کریں گے وزیراعظم کی نااہلی بنتی ہے یا نہیں۔ جسٹس اعجازالحسن کا کہنا تھا کہ ہم شروع سے ہی رقوم کی ترسیل کی منی ٹریل کا انتظار کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ وہ قطری خطوط کو نہیں جانتے مگر پھر انھوں نے کہا کہ شائد انھوں نے دیکھے ہوں ۔“
جے آئی ٹی رپورٹ پیش ہونے کے بعد سپریم کورٹ میں تواتر کے ساتھ پانامہ لیکس کے مقدمہ کی سماعت جاری ہے۔ بادی النظر میں فاضل ججز کے ریمارکس اس تاثر کو مضبوط کررہے کہ شریف خاندان نے جے آئی ٹی کی جانب سے پوچھے گے سوالات کا ٹھوس جواب نہیں دیا۔ بعض حلقوں کے بعقول اس پر افسوس کا اظہار ہی کیا جاسکتا کہ شریف فیملی تاحال اس اہم مقدمہ انصاف کے تقاضے پورے کرنے میں تعاون نہیں کررہی۔بلاشبہ پانامہ لیکس کے مقدمہ کو مسلسل اہل پاکستان کی بھرپور توجہ حاصل ہے۔ مذکورہ مقدمہ سیاسی ، قانونی اور معاشی کئی جہتیں رکھتا ہے۔ عدالت عظمی اس مقدمہ کی اہمیت کے پیش نظر کوشاں ہے کہ یہ مقدمہ نہ صرف اپنے منطقی انجام کو پہنچے بلکہ انصاف کے تقاضے بھی پورے ہوں۔
ادھر وطن عزیزکے حالات کسی طور پر اس کی اجازت نہیں دیتے کہ کوئی بھی بحران ملک کے دیگر اہم معاملات کو اپنی لپیٹ میں لے لے۔ پانامہ لیکس سامنے آئے ہو ایک سال سے زائدکا عرصہ گزر گیا مگر اگر شریف فیملی اگر مگر چونکہ چنانچہ کی حکمت عملی سے دستبرار ہونے کو تیار نہیں۔جاری بحران ملک کی معاشی سرگرمیوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رہا کئی جانب سے سوال اٹھایا جارہا کہ اقتصادی محاذ پر ہونے والے خسارے کو کب تک برداشت کیا جاسکتا ہے۔
حکمران جماعت کے مخالفین کا دعوی ہے کہ پی ایم ایل این سیاسی شہید بنے کی خواہش مند ہے۔ اس کی کوشش ہے کہ کسی نہ کسی طرح اسے اقتدار سے بے دخل کیا جائے تاکہ وہ عوام کے سامنے مظلوم بن کر سامنے آسکے۔ مسلم لیگ ن کی مشکل یہ بھی ہے کہ گذشتہ چار سالوں میں وہ اہل پاکستان سے کیے گے ان وعدوں کی تکمیل نہیںکرسکی جس کی شدید ضرورت تھی۔ مثلا لوڈشیڈنگ کا خاتمہ تاحال ممکن نہیں ہوسکا۔ شہروں اور دیہاتوں میں بجلی کی آنکھ مچولی جاری ہے۔ پنجاب حکمران جماعت کا مرکز سمجھا جاتا تھا مگر صوبے کا ایک بھی شہر ایسا نہیں کہ جہاں بنیادی ضروریات زندگی موجود ہوں۔ ہم سب جانتے ہیںکہ اہل پنجاب کے درجنوں شہروں میں پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں۔ کھانے پینے کی اشیاءمیں ملاوٹ ، پولیس گردی ، نظام انصاف کا درست نہ ہونا ، پٹواری کے مظالم ، سرکاری سکولوں اور ہپستالوں کی حالت زار کسی سے مخفی نہیں۔ ہوسکتا ہے کہ یہ سچ ہو کہ پنجاب کے بعض علاقے اندرون سندھ سے بہتر ہوں مگر جنوبی پنجاب کی مشکلات بھی کسی طور پر کم نہیں۔ حال ہی میں بہاولپور کے قریب احمد پور شرقیہ میں آئل ٹینکر میں لگنے والی آگ ان تمام سرکاری دعووں کو جلا کر خاکستر کرگی جو کسی نہ کسی شکل میںاہل اقتدار کی جانب سے کیے جاتے رہے۔
پی ایم ایل این کی ایک مشکل یہ بھی ہے کہ عمران خان کی شکل میںاسے ایسا سیاسی حریف مل چکا جو تمام مسائل کی جڑ بدعنوانی کو قرار دیتا ہے۔ پی ٹی آئی سربراہ ایک سے زائد مرتبہ کہ چکے کہ دراصل اہل پاکستان کی مشکلات اسی لیے کم نہیں ہورہیں کہ یہاں بدعنوانی کا راج ہے۔کپتان کے بعقول اب تک ملک میںاحتساب قوانین پر عمل درآمد نہیں ہوسکا جس کی وجہ یہ ہے کہ طاقتور طبقات نے پورے نظام کو یرغمال بنارکھا ہے۔ بظاہر عمران خان کے موقف کو پانامہ لیکس کے مقدمہ کی سماعت کرنے والے فاضل جج صاحبان کے ان ریمارکس سے بھی ہوا جس میں گاڈر فادر اور سیلین مافیا جیسے الفاظ استمال کیے گے۔بعض حلقوں کے خیال میں پانامہ لیکس کا فیصلہ جو بھی آیا مگر اس کے نتیجے میں ملکی سیاست بدل کررہ جائیگی ۔ مثال کے طور پر اگر شریف خاندان اس مقدمہ سے”سرخرو“ ہوکر نکلتا ہے تو وہ لوگ شدید مایوس ہونگے جو یہ امید لگا رہے کہ وطن عزیز میںاب بااثر لوگوں سے پوچھ گچھ کا عمل شروع ہونے جارہا۔
بظاہر پانامہ لیکس کے نتیجے میں قومی سیاست میں واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم ہوگی ۔ ایک طرف وہ لوگ ہیںجو ملک میں ہر قسم کی بدعنوانی اور قانون شکنی کو جمہوریت کے نام پر جاری وساری رہنے کے حامی ہیں۔ اس کے برعکس دوسری جانب ایسے افراد ہیں جو بجا طور پر سمجھتے ہیں کہ اگر مملکت خداداد میں جمہوری نظام کو مضبوط اور توانا کرنا ہے تو اہل اقتدار کا کڑا احتساب لازم ہے۔یہ مردو خواتین یقین رکھتے ہیں کہ آنے والے ماہ وسال میںہر بااختیار سے پوچھ گچھ کی جائیں گی ۔ پوچھا جائیگا کہ عوام کے ٹیکسوں سے تنخواہ اور دیگر مراعات حاصل کرکے اس نے کہاں تک اپنے سرکاری فرائض احسن انداز میں پورے کیے۔ یہ سمجھنے کے لیے بقراط ہونا لازم نہیں کہ عوامی شعور جوں جوں بہتری کی جانب گامزن بڑھے گا ملک میںایسا ماحول دیکھنے کو ملے گا جہاں طاقتور اور کمزور دونوں سے یکساں سلوک ہو۔

Scroll To Top